حدیث نمبر: 35636
٣٥٦٣٦ - حدثنا عباد بن العوام (عن حصين) (١) عن أبي عطية قال: كتب عمر إلى أهل الكوفة أنه ذكر لي أن (مطرس) (٢) بلسان الفارسية: الأمنة، فإن قلتموها لمن لا يفقه لسانكم فهو آمن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عطیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں کو لکھا : بیشک مجھے بتایا گیا ہے کہ لفظ مطرس فارسی میں امان کو کہتے ہیں، اگر تم ایسے شخص کو جو تمہاری زبان نہیں سمجھتا مطرس کہہ دو تو امن شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 35637
٣٥٦٣٧ - حدثنا ريحان بن سعيد قال: حدثني مرزوق بن عمرو قال: حدثني أبو فرقد قال: كنا مع أبي موسى الأشعري يوم فتحنا سوق الأهواز، فسعى رجل من المشركين وسعيا رجلان من المسلمين خلفه، فبينما هو يسعى ويسعيان إذ قال له أحدهما: مترس، (فقام الرجل) (١) فأخذاه (فجاءا) (٢) به وأبو موسى يضرب أعناق ⦗٤٥٣⦘ الأسارى حتى انتهى (الأمر) (٣) إلى الرجل فقال أحدهما: إن هذا قد جعل له الأمان، فقال أبو موسى: وكيف جعل له الأمان؟ قال: إنه كان يسعى ذاهبًا في الأرض فقلت له: مترس فقام، فقال أبو موسى: وما مترس؟ قال: لا (تخاف) (٤)، قال: هذا أمان خليا سبيله، فخليا سبيل الرجل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فرقد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے سوق الاھواز کو فتح کیا تو میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، مشرکین میں سے ایک شخص بھاگا، مسلمانوں میں سے بھی دو اس کے پیچھے بھاگے، اس دوران کہ جب وہ بھاگ رہے تھے، ان میں سے ایک نے اس مشرک کو کہہ دیا، مترس (امان) وہ شخص یہ سن کر کھڑا ہوگیا، انہوں نے اس کو پکڑا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس اس حالت میں لے کر حاضر ہوئے کہ آپ قیدیوں کو قتل فرما رہے تھے، جب اس شخص کی باری آئی ان دو میں سے ایک نے کہا اس کیلئے امان ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : اس کو امان کیسے ملی ؟ اس نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اس کو مترس کہا تو یہ کھڑا ہوگیا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا : اس کا مطلب ہے مت ڈرو آپ نے فرمایا یہ امان ہے، اس کا راستہ چھوڑ دو ، پھر ہم نے اس کو چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 35638
٣٥٦٣٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن أنس قال: حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر، فبعث به أبو موسى معي، فلما قدمنا على عمر سكت الهرمزان فلم يتكلم، فقال عمر: تكلم، فقال: كلام حي أو كلام ميت؟ قال: فتكلم فلا بأس، فقال: (إنا) (١) وإياكم معشر العرب ما خلى اللَّه بيننا وبينكم، (كنا نقتلكم) (٢) ونقصيكم، (فأما إذ) (٣) كان اللَّه معكم لم يكن لنا بكم يدان، قال: فقال عمر: ما (تقول) (٤) يا أنس؟ قال: قلت: يا أمير المؤمنين تركت خلفي شوكة شديدة و (عددًا) (٥) كثيرًا، إن قتلته أيس القوم من الحياة، وكان أشد لشوكتهم، وإن استحييته طمع القوم، فقال: (يا) (٦) أنس (أستحيى) (٧) قاتل البراء بن مالك و (مجزأة) (٨) بن ثور، فلما ⦗٤٥٤⦘ خشيت أن يبسط عليه قلت له: ليس (لك) (٩) إلى قتله سبيل، فقال عمر: لم؟ أعطاك، أصبت منه، قلت: ما فعلت، ولكنك قلت له: تكلم فلا بأس، فقال: لتجيئن بمن يشهد معك (وإلا بدأت) (١٠) بعقوبتك، قال: فخرجت من عنده فإذا بالزبير بن العوام قد (حفظ) (١١) ما حفظت، فشهد عنده (فتركه) (١٢)، (وأسلم) (١٣) الهرمزان وفرض له (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہرمزان اتر کر آیا اور گرفتاری دے دی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس کو میرے ساتھ بھیجا، جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہرمزان خاموش ہوگیا اور کچھ نہ بولا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بولو، اس نے کہا زندوں والا یا مردوں والا کلام ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بولو کوئی حرج نہیں ہے ھرمزان نے کہا : اے قوم عرب ، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ نے کچھ نہیں چھوڑا جیسا کہ ہم تم سے لڑتے ہیں اور تم کو قتل کرتے ہیں، بہر حال اگر اللہ پاک تمہارے ساتھ ہوتے تو ہمیں تم سے لڑنے پر قدرت نہ ہوتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے انس رضی اللہ عنہاپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ میں نے اپنے پیچھے بہت شوکت اور کثیر تعداد چھوڑی ہے، اگر آپ نے اس کو قتل کردیا تو قوم زندگی سے مایوس ہوجائے گی اور وہ ان کی شوکت کیلئے زیادہ سخت تھا، اور اگر اس کو زندہ رکھا تو قوم کو لالچ ہوگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے انس رضی اللہ عنہ ! تجھے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت مجزاۃ بن ثور کے قاتل کو مارنے سے حیاء آرہی ہے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے اندیشہ ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو قتل کردیں گے، میں نے ان سے عرض کیا : آپ کیلئے اس کے قتل پر شرعی راستہ نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں ؟ کیا آپ نے اس کو امان دی ہے ؟ کیا آپ نے اس سے کچھ لیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں لیا، لیکن آپ نے خود اس سے فرمایا تھا بول تجھ پر کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا، تم ضرور کسی شخص کو لے کر آؤ جو تمہارے ساتھ گواہی دے، وگرنہ تمہیں سزا ملے گی، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس سے نکلا تو اچانک حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بن العوام ملے انہوں نے بھی وہی یاد کرلیا تھا جو میں نے یاد کیا تھا انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے گواہی دی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو چھوڑ دیا، ہر مزان مسلمان ہوگیا، اور اس کیلئے حصہ مقرر کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 35639
٣٥٦٣٩ - (حدثنا وكيع) (١) حدثنا الأعمش عن أبي وائل قال: أتانا كتاب عمر ونحن (بخانقين) (٢) إذا قال الرجل للرجل: لا (تدهل) (٣)؛ فقد أمنه، وإذا قال: لا تخف فقد أمنه، وإذا قال: مطرس فقد أمنه، قال: اللَّه يعلم (الألسنة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں جب ہم خانقین میں تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہمارے پاس آیا، اس میں تھا جب کوئی شخص کسی سے کہے لا تدھل (مت ڈر) تو اس نے اس کو امان دے دی، اور اگر کہا لا تخف تو بھی اس کو امان دے دی، اور اگر کہا مطرس تو اس کو امان دے دی، بیشک اللہ تعالیٰ سب زبانوں کو جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 35640
٣٥٦٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا (أسامة بن زيد) (١) عن أبان بن صالح عن مجاهد قال: قال عمر: أيما رجل من المسلمين أشار إلى رجل من العدو ⦗٤٥٥⦘ (لئن) (٢) نزلت لأقتلنك، فنزل وهو يرى أنه أمان فقد أمنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے جو شخص دشمن کی طرف اشارہ کرے، اگر تو نے گرفتاری دی تو میں تجھے قتل کر دوں گا، اس نے اتر کر گرفتاری دے دی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ امان ہے تو اس کو امان حاصل ہوگی۔
حدیث نمبر: 35641
٣٥٦٤١ - [حدثنا وكيع قال: ثنا موسى بن عبيدة عن طلحة بن عبيد اللَّه بن كريز قال: كتب عمر إلى أمراء (الأجناد) (١): أيما رجل من المسلمين أشار إلى رجل من العدو: لئن نزلت لأقتلنك فنزل وهو يرى أنه أمان، فقد أمنه] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجناد کے امراء کی طرف لکھا : مسلمانوں میں سے جو شخص دشمن کے کسی آدمی کی طرف اشارہ کرے، کہ اگر تو نے گرفتاری دی تو میں تجھے قتل کر دوں گا، اس نے اتر کر گرفتاری دے دی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ امان ہے تو اس کو امان حاصل ہوگی۔