حدیث نمبر: 35622
٣٥٦٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج عن الوليد بن أبي مالك عن عبد الرحمن بن (مسلمة) (١) أن رجلا آمن قوما وهو مع عمرو بن العاص وخالد بن الوليد وأبي عبيدة بن الجراح، فقال عمرو وخالد: لا نجير من أجار، فقال أبو عبيدة: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يجير على المسلمين بعضهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن مسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کو امن (پناہ) دیا، اور وہ حضرت عمرو بن عاص، حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، حضرت عمرو اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم تو اس کو پناہ نہیں دیں گے جس کو وہ پنا دے، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے جو شخص کسی کو پناہ دے دے اس کو پناہ دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 35623
٣٥٦٢٣ - حدثنا أبو خالد (عن حجاج) (١) عن الوليد بن أبي مالك عن عبد الرحمن بن سلمة عن أبي عبيدة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يجير على الناس بعضهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جو کسی کو پناہ دے اس کو پناہ حاصل ہوگی۔
حدیث نمبر: 35624
٣٥٦٢٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (الحجاج بن أرطأة عن) (١) الوليد ابن أبي مالك عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبي أمامة عن النبي ﷺ قال: "يجير على المسلمين الرجل منهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 35625
٣٥٦٢٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي هند عن أبي مرة مولى عقيل بن أبي طالب عن أم هانئ ابنة أبي طالب قالت: لما فتح ⦗٤٤٩⦘ رسول اللَّه ﷺ مكة فر (إليّ) (١) رجلان من أحمائي فأجرتهما -أو كلمة تشبهها- فدخل عليَّ أخي علي بن أبي طالب فقال: لأقتلنهما (قالت) (٢): فأغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول اللَّه ﷺ بأعلى مكة فقال: "مرحبا و (أهلا) (٣) بأم هانئ، ما جاء بك؟ " (قالت) (٤): قلت: يا نبي اللَّه، فر إليّ رجلان من أحمائي فدخل علي أخي علي بن أبي طالب فزعم أنه قاتلهما، فقال: "لا، قد أجرنا من أجرت، وأمنا من أمنت" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح فرمایا : تو حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند کے دو رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پنادہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور فرمایا : میں ان کو ضرور قتل کروں گا، حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو کمرے میں بند کردیا اور میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا : خوش آمدید ام ھانی رضی اللہ عنہا ! خیریت سے تشریف لائی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ : اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے خاوند کے خاندان کے دو شخص بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پناہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : نہیں (ان کو قتل نہیں کیا جائے گا) جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دی اور جس کو تو نے امن دیا ا س کو ہم نے بھی امن دیا۔
حدیث نمبر: 35626
٣٥٦٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن (ابن) (١) إسحاق عن سعيد بن أبي هند عن أبي مرة عن أم هانئ قال: حدثتني قالت: فر إلي رجلان من أحمائي يوم الفتح، فأجرتهما فدخل (علي) (٢) أخي فقال: لأقتلنهما، فأغلقت عليهما، ثم أتيت النبي ﷺ قال: "مرحبا وأهلا (بأم) (٣) هانئ ما جاء بك؟ " فأخبرته فقال: "قد أجرنا من أجرت وأمنا من أمنت"، قالت: فجئت فمنعتهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے اس کے آخر میں اضافہ ہے کہ پھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان کو قتل کرنے سے منع کردیا۔
حدیث نمبر: 35627
٣٥٦٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن ⦗٤٥٠⦘ عائشة قالت: إن كانت المرأة [لتأجر على القوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں ، کہ اگر خاتون کسی قوم کو پناہ دے تو ان کو پناہ حاصل ہوگی۔
حدیث نمبر: 35628
٣٥٦٢٨ - حدثنا ابن عيينة عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: إن كانت المرأة] (١) لتأجر على المسلمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 35629
٣٥٦٢٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن عاصم بن سليمان) (١) عن فضيل بن زيد الرقاشي وقد كان غزا على عهد عمر بن الخطاب سبع غزوات قال: بعث عمر جيشا فكنت في ذلك الجيش، فحاصرنا أهل (سرتاح) (٢)، فلما رأينا أنا سنفتحها من يومنا ذلك قلنا نرجع فنقيل ثم نخرج فنفتحها، فلما رجعنا تخلف (عبد) (٣) (من عبيد المسلمين) (٤) فراطنهم فراطنوه، فكتب لهم كتابا في صحيفة ثم شده في سهم فرمى به إليهم فخرجوا، فلما (رجعنا) (٥) من العشي وجدناهم قد خرجوا، قلنا لهم ما لكم؟ قال: أمنتمونا، قلنا: ما فعلنا، إنما الذي أمنكم عبد لا يقدر على شيء فارجعوا حتى نكتب إلى عمر بن الخطاب، فقالوا: ما نعرف عبدكم من حركم، ما نحن براجعين إن ⦗٤٥١⦘ شئتم فاقتلونا (وإن شئتم ففوا لنا) (٦)، قال: فكتبنا إلى عمر فكتب عمر: أن عبد المسلمين من المسلمين، ذمته ذمتهم، قال: فأجاز عمر أمانه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن زید الرقاشی رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سات غزوات میں شریک ہوئے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا تو میں بھی اس لشکر میں شریک تھا ہم نے اھل سھر یاج کا محاصرہ کرلیا، جب ہم نے دیکھا کہ آج ان کو فتح کرلیں گے، ہم نے کہا : واپس لوٹتے ہیں اور کچھ آرام کر کے تازہ دم ہو کر آ کر اس کو فتح کرلیں گے، جب ہم لوگ وہاں سے واپس لوٹے تو مسلمانوں میں ایک غلام ان کے پیچھے آیا اور اس نے ان کے ساتھ عجمی میں گفتگو کی، اور ان کو ایک صحیفہ میں امان (پناہ) لکھ کر اس کو تیر کے ساتھ باندھ کر ان کی طرف پھینک دیا۔ ہم لوگ جب واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ قلعہ سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پوچھا آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ لوگوں نے ہمیں امن دے دیا ہے، ہم نے کہا کہ ہم نے تو ہرگز ایسا نہیں کیا ہے، بیشک تم لوگوں کو ایک غلام نے امن دیا ہے جو خود کسی چیز پر قادر نہیں ہے، تم لوگ واپس ہوجاؤ یہاں تک کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر ان کی رائے دریافت کرلیں، انہوں نے کیا کہ ہم تمہارے آزاد میں تمہارے غلاموں کو نہیں جانتے ہم واپس جانے والے نہیں ہیں، اب اگر تم چاہو تو ہمیں قتل کرو اور اگر چاہو تو در گزر کردو، فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو صورت حال لکھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا : مسلمانوں کا غلام بھی مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کا ذمہ ان کا ذمہ ہے، فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے امان کو نافذ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 35630
٣٥٦٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: أمان المرأة والمملوك جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اور غلام کا امان دینا ٹھیک اور جائز ہے۔
حدیث نمبر: 35631
٣٥٦٣١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) شريك عن عاصم بن أبي النجود عن زر ابن حبيش عن عمر قال: إن كانت المرأة لتأجر على المسلمين (فيجوز أمانهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر مسلمانوں میں سے کوئی خاتون امان دے دے تو اس کا امان دینا درست ہے۔
حدیث نمبر: 35632
٣٥٦٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن علي قال: ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 35633
٣٥٦٣٣ - حدثنا شبابة عن شعبة عن عمرو بن دينار عن رجل عن عمرو ابن العاص عن النبي ﷺ قال: "يجير على المسلمين بعضهم، أو قال: رجل منهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں سے جو کسی کو پناہ دے اس کو پناہ دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 35634
٣٥٦٣٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 35635
٣٥٦٣٥ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي ﷺ قال: "يجير على المسلمين أدناهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے ادنیٰ بھی پناہ دے تو پناہ اس کو حاصل ہوگی۔