حدیث نمبر: 35562
٣٥٥٦٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن (أسيد) (١) بن (عبد الرحمن) (٢) ⦗٤٣٥⦘ الخثعمي عن (مقبل) (٣) بن عبد اللَّه (عن) (٤) هانئ بن كلثوم الكناني قال: كنت (صاحب) (٥) الجيش الذي فتح الشام فكتبت إلى عمر: إنا فتحنا أرضًا كثيرة الطعام والعلف، فكرهت أن أتقدم إلى شيء من ذلك إلا بأمرك وإذنك، فاكتب إلي بأمرك في ذلك، فكتب إليّ عمر: أن دع الناس يأكلون ويعلفون، فمن باع شيئًا بذهب أو فضة فقد وجب فيه خمس اللَّه وسهام المسلمين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھانی بن کلثوم الکنانی فرماتے ہیں کہ جس لشکر نے ملک شام فتح کیا میں اس لشکر کا امیر تھا، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ ہم نے ایک ملک فتح کیا ہے اس میں کھانے پینے اور چارہ کی کثرت ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ آپ کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی چیز کی طرف پہل کروں، تو آپ اپنی رائے لکھ کر ہمیں آگاہ کردیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ کر ارسال کیا کہ لوگوں کو اجازت دے دو کہ وہ کھائیں اور جانوروں کو چارہ کھلائیں، اور جو شخص سونے یا چاندی کے بدلے کچھ فروخت کرے تو اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ بھی ہے۔
حدیث نمبر: 35563
٣٥٥٦٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن أسيد بن (عبد الرحمن) (١) عن خالد بن (دريك) (٢) عن عبد اللَّه بن محير (يز) (٣) قال: سئل فضالة بن عبيد (صاحب) (٤) رسول اللَّه ﷺ عن بيع الطعام والعلف في أرض الروم، (فقال) (٥) فضالة: إن أقواما يريدون أن (يستزلوني) (٦) عن ديني، واللَّه (إني) (٧) لأرجو أن لا يكون ذلك حتى ألقى محمدًا ﷺ، من باع طعامًا بذهب (أ) (٨) وفضة وجب فيه خمس اللَّه ⦗٤٣٦⦘ وسهام المسلمين (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی رسول ﷺ ہیں ان سے روم کی زمین پر موجود دشمن کے کھانے اور چارہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت فضالہ نے فرمایا : بیشک یہ لوگ ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتے تھے، اور خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں اس طرح نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم شہید ہو کر محمد ﷺ سے ملاقات کرلیں، جو شخص کھانے کو سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے تو اس میں خمس واجب ہے اور مسلمانوں کا حصہ بھی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 35564
٣٥٥٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن خالد بن (الدريك) (١) عن ابن محيريز عن فضالة بن عبيد الأنصاري قال: إن قوما يريدون أن (يستزلوني) (٢) عن ديني، أما واللَّه إني لأرجو أن أموت وأنا عليه، ما كان من شيء (٣) بذهب أو فضة ففيه خمس اللَّه وسهام المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک یہ قوم ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتی ہے خدا کی قسم میری خواہش ہے کہ میری موت اس حال میں آئے کہ میں اسی دین پر قائم رہوں جو بھی اس میں سے سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 35565
٣٥٥٦٥ - حدثنا (١) فضيل بن عياض عن هشام عن الحسن قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يأكلون من الغنائم إذا أصابوها: (من) (٢) الجزائر والبقر، ويعلفون دوابهم (و) (٣) لا يبيعون، فإن بيع ردوه إلى المقاسم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب مال غنیمت میں اونٹ اور گائیں پاتے تو اس میں سے کھاتے، اور ان کے جانور چارہ کھاتے، اور اس کی بیع نہ کرتے، اگر بیع کرچکے ہوتے تو اس کو تقسیم کی جگہ کی طرف لوٹا دیتے۔
حدیث نمبر: 35566
٣٥٥٦٦ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن حميد بن هلال عن عبد اللَّه ابن (مغفل) (١) قال: سمعته يقول: دلي في جراب من شحم يوم خيبر قال: فالتزمته وقلت: هذا لي لا أعطي (٢) منه شيئًا، فالتفت إلي النبي ﷺ ⦗٤٣٧⦘ (يتبسم) (٣) (فاستحييت) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن مجھے ایک تھیلہ دیا گیا جس میں چربی تھی، میں نے یہ کہتے ہوئے اس کو پکڑ لیا کہ میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا، میں جب پیچھے کی طرف مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے میری بات سن کر مسکرا رہے تھے، مجھے یہ منظر دیکھ کر بہت حیا آئی۔
حدیث نمبر: 35567
٣٥٥٦٧ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: كنا نغزو فنصيب الطعام والثمار والعسل والعلف فنصيب منه من غير قسمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جہاد میں شریک ہوئے، کھانے، پھلوں، چارے اور شہد میں بغیر تقسیم کے ہی حصہ تھا۔
حدیث نمبر: 35568
٣٥٥٦٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: كانوا يأكلون (من) (١) الطعام في أرض الحرب ويعتلفون قبل أن يخمسوا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام j جنگی زمین سے کھانا وغیرہ کھاتے اور خمس نکالنے سے قبل ہی جانوروں کو چارہ کھلاتے۔
حدیث نمبر: 35569
٣٥٥٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام عن الحسن قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ إذا افتتحوا المدينة أو (القصر) (١) أكلوا من السويق والدقيق والسمن والعسل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی شہر یا قلعہ فتح فرماتے تو وہاں سے آٹا، ستّو، گھی اور شہد تناول فرماتے ۔
حدیث نمبر: 35570
٣٥٥٧٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء في القوم يكونون غزاة، (فيكونون) (١) في السرية فيصيبون (أنحاء) (٢) السمن والعسل والطعام قال: يأكلون وما بقي (ردوه) (٣) إلى إمامهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک قوم جنگ میں شریک ہوئی، اور وہ ایک سریہ میں شریک ہوئی ہے اور وہاں گھی، شہد اور کھانے کے برتن (تھیلے) ان کو ملتے ہیں تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : وہ اس میں سے کھائیں گے اور جو باقی بچ جائے وہ اپنے امام کے سپرد کردیں گے۔
حدیث نمبر: 35571
٣٥٥٧١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يرخصون في الطعام والعلف ما لم (يعتقدوا) (١) مالا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام j مال غنیمت کو جمع کرنے سے قبل کھانے اور چارے کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ جب تک کہ لوگ مال کے طور پر جمع نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 35572
٣٥٥٧٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن غلام لسلمان يقال: له سويد -وأثنى عليه خيرًا- قال: لما افتتح الناس المدائن وخرجوا في طلب العدو أصبت سلة، فقال لي سلمان: هل عندك (من) (١) طعام؟ قال: قلت: سلة أصبتها، قال: هاتها فإن كان مالا دفعناه إلى هؤلاء، وإن كان طعاما أكلناه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ حضرت سوید سے روایت کرتے ہیں جو کہ حضرت سلمان کے غلام ہیں اور ان کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے، فرماتے ہیں کہ جب مجاہدین نے مدائن کو فتح کیا، اور دشمن کی تلاش میں نکلے تو مجھے ایک ٹوکری ملی، مجھ سے حضرت سلمان نے کہا : کیا آپ کے پاس کھانے کو کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے ایک ٹوکری ملی ہے، فرمایا لے آؤ، اگر اس میں مال ہوا تو واپس کردیں گے اور اگر کھانے کی چیز ہوئی تو کھا لیں گے۔
حدیث نمبر: 35573
٣٥٥٧٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا عقبة قال: سمعت عبد اللَّه بن بريدة سئل عن الطعام يصاب في أرض العدو فقال: إن كان باع منه بدرهم رده وإلا كان غلولًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ دشمن کی سر زمین سے جو کھانا وغیرہ ملے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر اسے درہم کے بدلے فروخت کیا ہے تو واپس کردیا جائے وگرنہ وہ خیانت شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 35574
٣٥٥٧٤ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن أبي عمرو الشيباني عن عبد اللَّه ابن محيريز وخالد بن (دريك) (١) وغيرهم أنهم كانوا يقولون في الرجل يصيب الطعام والعلف في أرض الروم فقالوا: (يأكل ويطعم ويعلف) (٢)، (فإن) (٣) باع شيئًا من (ذلك) (٤) بذهب (أو) (٥) فضة رده إلى غنائم المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن محیریز رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا جس کو روم کی زمین سے کھانا اور چارہ ملا۔ فرمایا : وہ کھانا کھائے اور چارہ استعمال کرے، اور اگر اس میں سے کچھ سونا یا چاندی کے بدلے فروخت کیا تو اس کو مسلمانوں کی غنیمت میں شامل کر دے۔
حدیث نمبر: 35575
٣٥٥٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: لا بأس بالطعام والعلف يوجد في أرض العدو (١) أن يأكلوا منه و (أن) (٢) (يعلفوا) (٣) دوابهم فما بيع منه فهو بين المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دشمن کی زمین سے جو کھانا اور چارہ ملے اس کو کھانے اور چارہ جانوروں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جو اس میں سے فروخت کیا وہ مسلمانوں کے درمیان مشترک ہوگا۔
حدیث نمبر: 35576
٣٥٥٧٦ - حدثنا عائذ بن خبيب عن جويبر عن الضحاك قال: إذا خرجت السرية فأصابوا غنيمة من بقر أو غنم فلهم أن يأكلوا بقدر ولا يسرفوا، فإذا انتهي به إلى العسكر كان بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سریہ جہاد کیلئے نکلے، اور ان کو گائے یا بکری وغیرہ غنیمت میں ملے، تو وہ ضرورت کی بقدر کھا لیں لیکن ضائع مت کریں اور اگر وہ لشکر کی طرف بھیج دیئے جائیں تو پھر وہ سب کے درمیان مشترک ہوگا۔
حدیث نمبر: 35577
٣٥٥٧٧ - حدثنا يونس بن محمد قال: ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: كنا نصيب في مغازينا الفاكهة والعسل (فنأكله) (١) (ولا نرفعه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں جہاد کے دوران پھل اور شہد ملتے تو ہم اس کو کھالیا کرتے اس کو تقسیم غنیمت کی جگہ پر لے کر نہ جاتے۔