حدیث نمبر: 35518
٣٥٥١٨ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) أبو جعفر عن (الربيع) (٢) عن أبي العالية قال: كان رسول اللَّه ﷺ يؤتى بالغنيمة فيقسمها على خمسة، فيكون أربعة لمن شهدها ويأخذ الخمس، فيضرب بيده فيه، فما أخذ من شيء جعله للكعبة، وهو سهم اللَّه الذي سمى، (ثم) (٣) يقسم ما بقي على خمسة فيكون سهم لرسول اللَّه ﷺ، وسهم لذوي القربى، وسهم لليتامى، وسهم للمساكين، وسهم لابن السبيل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مال غنیمت آتا تو اس کے پانچ حصے فرماتے ، چار حصے ان میں تقسیم فرماتے جو جہاد میں شریک تھے، اور خمس نکالتے، اور پھر اپنا ہاتھ اس پر رکھتے، اس میں جو بھی آجاتا اس کو کعبہ کے لیے وقف کردیتے جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوتا۔ پھر باقی کے پانچ حصے فرماتے ، ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا، ایک حصہ قریبی رشتہ داروں کا، ایک حصہ یتیموں کا، ایک حصہ مسکینوں کا اور ایک حصہ مسافروں کا۔
حدیث نمبر: 35519
٣٥٥١٩ - حدثنا عيسى بن (يونس عن) (١) صالح بن (أبي) (٢) الأخضر عن الوليد ابن هشام عن مالك بن عبد اللَّه الخثعمي قال: كنا جلوسًا عند عثمان فقال: من هاهنا من أهل الشام؟ فقمت، فقال: أبلغ معاوية إذا غنم غنيمة أن يأخذ خمسة أسهم فيكتب على سهم منها للَّه، ثم ليقرع (فحيثما) (٣) خرج منها فليأخذه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا : اھل شام میں سے یہاں کون ہے ؟ پس میں کھڑا ہوگیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بتادو کہ : جب مال غنیمت حاصل ہو تو اس کے پانچ حصے کرو، ان میں ایک حصہ پر یوں لکھو اللہ کے لیے ہے، پھر قرعہ ڈالو، جو نکلتا رہے وہ وصول کرتے رہو۔
حدیث نمبر: 35520
٣٥٥٢٠ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن موسى بن أبي عائشة قال: سألت يحيى بن الجزار عن سهم الرسول ﷺ فقال: خمس الخمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا وہ خمس کا خمس ہے۔
حدیث نمبر: 35521
٣٥٥٢١ - حدثنا جرير عن موسى بن أبي عائشة عن يحيى بن الجزار بنحو منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 35522
٣٥٥٢٢ - حدثنا وكيع ثنا (كهمس) (١) عن عبد اللَّه بن شقيق العقيلي قال: قام رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أخبرني عن الغنيمة؟ فقال: "للَّه سهم، (ولهولاء) (٢) أربعة"، قال: قلت: فهل أحد أحق بها من أحد؟ قال: فقال: "إن رميت بسهم في جنبك فلست بأحق به من أخيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق العقیلی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے غنیمت کے متعلق بتائیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک حصہ اللہ کے لیے اور چار حصے ان کیلئے۔ میں نے عرض کیا : کیا کوئی شخص کسی سے زیادہ حقدار بھی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تیرے پہلو میں تیر بھی مارا گیا پھر بھی تو اپنے بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35523
٣٥٥٢٣ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم في قوله: ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾، قال: للَّه كل شيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے لیے ہی ہے۔
حدیث نمبر: 35524
٣٥٥٢٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء قال: خمس اللَّه وخمس الرسول واحد كان النبي ﷺ يضع ذلك الخمس حيث أحب ويصنع (١) ما شاء ويحمل فيه من شاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حصہ خمس میں ایک ہی ہے، اللہ کے نبی ﷺ اس خمس کو جہاں پسند فرماتے رکھتے، جو چاہتے اس میں سے رکھ دیتے اور جو چاہتے اٹھا لیتے۔
حدیث نمبر: 35525
٣٥٥٢٥ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الشعبي، ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾، قال: سهم اللَّه وسهم النبي ﷺ واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی قرآن کریم کی آیت { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حصہ خمس میں ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 35526
٣٥٥٢٦ - حدثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد بن علي قال: سألته عن قوله: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾، قال: هذا مفتاح كلام، ليس للَّه نصيب، للَّه الدنيا والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ کلام کا آغاز ہے، اللہ کے لیے غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہے، دنیا اور آخرت ساری ہی اللہ کی ملکیت ہے۔
حدیث نمبر: 35527
٣٥٥٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن محمد قال: في المغنم خمس للَّه وسهم (للنبي) (١) ﷺ والصفي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد غنیمت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ غنیمت میں خمس اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے نبی کا حصہ ہے اور غنیمت میں اللہ کے نبی ﷺ کے لیے صفی ہے۔ (صفی وہ خاص حصہ جس کو اللہ کے نبی ﷺ تقسیم غنیمت سے قبل ہی اپنے لیے الگ فرما لیں) حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی کے لیے غنیمت میں بہترین قیدی کو الگ کیا گیا، پھر خمس نکا لا گیا، پھر لوگوں کے حصہ میں سے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب حصہ نکالا گیا۔ حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت صفیہ بنت حیی کو بطور صفی الگ فرما لیا تھا۔ اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خیبر والے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی کو الگ فرما لیا تھا پھر ان سے نکاح فرما لیا۔
حدیث نمبر: 35528
٣٥٥٢٨ - وقال ابن سيرين: يؤخذ (للنبي) (١) ﷺ خير رأس (من) (٢) السبي ثم يخرج الخمس، ثم يضرب له بسهمه مع الناس غاب أو شهد (٣).
حدیث نمبر: 35529
٣٥٥٢٩ - وقال ابن سيرين: كان الصفي يوم خيبر صفية بنت (حيي) (١) (٢).
حدیث نمبر: 35530
٣٥٥٣٠ - (وقال الشعبي: كان الصفي يوم خيبر صفية بنت حيي) (١) استنكحها رسول اللَّه ﷺ (٢).
حدیث نمبر: 35531
٣٥٥٣١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن محمد قال: خمس اللَّه وسهم النبي ﷺ والصفي، كان يصطفى له من المغنم خير رأس من السبي إن كان سبي وإلا غيره بعد الخمس، ثم يضرب له بسهمه شهد أو غاب مع المسلمين بعد الصفي، قال: واصطفى صفية بنت حي يوم خيبر (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے تقریبا اسی طرح مروی ہے اس میں حضرت اشعث کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ حضور اقدس نے غزوہ بدر کے دن بطور صفی ذوالفقار تلوار کو الگ فرمایا۔
حدیث نمبر: 35532
٣٥٥٣٢ - قال أشعث: وقال أبو (الزبير) (١) وعمرو بن دينار والزهري: اصطفى رسول اللَّه ﷺ (٢) (سيفه) (٣) ذا الفقار يوم بدر (٤).
حدیث نمبر: 35533
٣٥٥٣٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن أبي الزناد قال: كان الصفي يوم بدر سيف عاصم (١) بن منبه بن الحجاج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزناد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن بطور صفی کے عاص بن منبہ بن الحجاج کی تلوار کو چنا۔
حدیث نمبر: 35534
٣٥٥٣٤ - حدثنا محمد بن حجاج عن مطرف عن الشعبي أنه سئل عن (١) النبي ﷺ والصفي فقال: (إنما) (٢) سهم النبي ﷺ مثل سهم رجل من المسلمين، وأما ⦗٤٢٨⦘ الصفي فكانت له غرة يختارها من غنيمة المسلمين إن شاء جارية وإن شاء فرسًا، أي ذلك شاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ غنیمت اور صفی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا : جس طرح ایک عام مسلمان کا غنیمت میں حصہ تھا اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا اور بہر حال صفی سے مراد وہ حصہ ہے جس کو اللہ کے نبی مسلمانوں کے غنیمت میں سے الگ فرما لیتے خواہ وہ باندی ہو، گھوڑا ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حدیث نمبر: 35535
٣٥٥٣٥ - حدثنا حميد عن حسن بن صالح قال: سألت عطاء بن السائب عن قوله: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾، وعن هذه الآية: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ﴾ [الأنفال: ٤١، والحشر: ٦]، قال: قلت: ما الفيء وما الغنيمة؟ قال: إذا ظهر المسلمون على المشركين وعلى أرضهم فأخذوهم عنوة فما (أُخذ) (١) من مال (٢) ظهروا عليه فهو غنيمة وأما الأرض فهي فيء، وسوادنا هذا فيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء بن السائب سے اللہ کے ارشاد { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } اور دوسری آیت { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ } کے متعلق دریافت کیا کہ فیٔ اور غنیمت سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عطاء نے فرمایا : جب مسلمان مشرکین اور ان کی زمینوں پر بزور جنگ غالب ہوجائیں اور اس وقت جو مال ہاتھ آئے وہ غنیمت ہے، اور ان کی زمین فیٔ ہے اور یہ ہمارا مال و دولت فیٔ ہے۔
حدیث نمبر: 35536
٣٥٥٣٦ - حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: الغنيمة ما أصاب المسلمون عنوة، فهو لمن سمَّى اللَّه، وأربعة أخماس لمن شهدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان غنیمت کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو مال مسلمان بزور جہاد لیں وہ ان کے لیے ہے جس کو اللہ نے نام لے کر متعین کیا ہے، اور چار خمس مجاہدین کے لیے ہیں۔
حدیث نمبر: 35537
٣٥٥٣٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون قال: قرأت كتاب ذو الصفي فقلت لمحمد: ما الصفي؟ (فقال) (١): رأس كان يصطفى للنبي ﷺ قبل كل شيء، ثم يضرب له بعد بسهمه مع (المسلمين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے الصفی سے متعلق ایک کتاب میں پڑھا پھر میں نے حضرت محمد رحمہ اللہ سے الصفی کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا : ہر چیز سے قبل جو مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے الگ کیا جاتا وہ مراد ہے، پھر بعد میں لوگوں کے ساتھ بھی ایک حصہ نکالا جاتا۔
حدیث نمبر: 35538
٣٥٥٣٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ليث عن مجاهد: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ﴾، قال: (المخيط) (١) من (الشيء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن کریم کی آیت { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک معمولی سی سوئی بھی من شئی میں داخل ہے۔