کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 35485
٣٥٤٨٥ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي عن ابن جريج عن عطاء أنه كره قتل الأسرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء قیدیوں کے قتل کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 35486
٣٥٤٨٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن جريج عن عطاء أنه كان يقول: لا يقتل الأسير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے تھے کہ قیدی کو قتل مت کرو۔
حدیث نمبر: 35487
٣٥٤٨٧ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن قال: كان يكره قتل الأسير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ قیدی کے قتل کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 35488
٣٥٤٨٨ - حدثنا شريك عن محمد بن إسحاق عن أبي جعفر قال: كان علي إذا أتي بأسير يوم صفين أخذ (دابته) (١) وأخذ سلاحه وأخذ عليه أن لا يعود وخلى سبيله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں قیدی لایا جاتا تو آپ اس کا سامان اور سواری ضبط فرما لیتے اور اس سے دوبارہ نہ لڑنے کا عہد لے کر اس کو رہا فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 35489
٣٥٤٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي فاختة قال: أخبرني جار لي قال: أتيت عليًّا بأسير يوم صفين فقال: لن أقتلك صبرًا إني أخاف اللَّه رب العالمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی فاختہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے پڑوسی نے بتایا کہ جنگ صفین کے دن میں قید ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تجھے قتل نہ کروں گا میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 35490
٣٥٤٩٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن (خليد) (١) بن جعفر عن الحسن أن الحجاج أتي بأسير فقال لعبد اللَّه بن عمر: قم فاقتله، فقال ابن عمر: (ما بهذا) (٢) أمرنا، يقول اللَّه: ﴿حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً﴾ (٣) [محمد: ٤].
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ حجاج کے پاس قیدی لایا گیا حجاج نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کھڑے ہوجاؤ اور اس کو قتل کردو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہمیں کس چیز کا حکم دیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : { حَتَّی إِذَا أَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً }۔
حدیث نمبر: 35491
٣٥٤٩١ - حدثنا وكيع قال: ثنا جرير بن (حازم) (١) عن الحسن قال: بعث ابن ⦗٤١٨⦘ عامر إلى ابن عمر بأسير وهو بفارس أو باصطخر (ليقتله) (٢)، فقال ابن عمر: (أما) (٣) وهو مصرورٌ فلا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ ابن عامر نے فارس کے قیدی کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس کو قتل کردیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : بہر حال وہ بندھا ہوا قیدی ہے تو پھر قتل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 35492
٣٥٤٩٢ - قال وكيع: يعني موثوقًا.
حدیث نمبر: 35493
٣٥٤٩٣ - [حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن رجل لم يسمه أن عمر بن الخطاب أتي (بسبي) (١) فأعتقهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کی خدمت میں قیدی لائے گئے تو آپ نے ان سب کو آزاد کردیا۔
حدیث نمبر: 35494
٣٥٤٩٤ - [حدثنا وكيع قال: ثنا أصحابنا عن حماد عن إبراهيم قال: الإمام في الأسارى بالخيار إن شاء فادى، وإن شاء مَنَّ وإن شاء قتل] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام کو قیدیوں کے متعلق مکمل اختیار ہے، اگر چاہے تو فدیہ لے کر آزاد کر دے، یا احسان کرتے ہوئے آزاد کر دے یا پھر قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 35495
٣٥٤٩٥ - حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه قال: أمر على مناديه فنادى يوم البصرة لا يقتل أسير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رضی اللہ عنہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے دن منادی کو اعلان کرنے کا حکم فرمایا کہ : قیدی قتل نہیں کیا جائے گا۔