حدیث نمبر: 35472
٣٥٤٧٢ - حدثنا جرير عن ليث عن الحكم ومجاهد (قالا) (١): قال أبو بكر: إن أخذتم أحدا من المشركين فأعطيتم به مُدّي دنانير (فلا) (٢) تفادوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اگر مشرکین میں سے تم کسی کا فدیہ لو، اور تمہیں دو مد دینار دیئے جائیں تو فدیہ کو مت وصول کرو۔
حدیث نمبر: 35473
٣٥٤٧٣ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن حبيب (١) أبي يحيى أن خالد بن زيد (وكانت عينه) (٢) أصيبت بالسوس (٣)، قال: حاصرنا مدينتها فلقينا جهدا وأمير المسلمين أبو موسى، وأخذ الدهقان عهده وعهد من معه، فقال أبو موسى، (اعزلهم) (٤)، فجعل (يعزلهم) (٥)، وجعل أبو موسى يقول لأصحابه: إني أرجو أن يخدعه اللَّه عن نفسه، فعزلهم وبقي عدو اللَّه فأمر به أبو موسى (ففادى) (٦) (وبذل) (٧) مالا كثيرا، فأبى وضرب عنقه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جن کی آنکھ سوس کے علاقہ میں جہاد میں شھید ہوچکی تھی، فرماتے ہیں کہ ہم نے کفار کے علاقہ کا محاصرہ کیا، ہمیں بڑی مشقت پیش آئی، اس وقت ہمارے امیر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تھے، ایک دھقان نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان طلب کی اور چھٹکارا چاہا۔ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا، ان کو علیحدہ کرو، دھقان نے ان کو علیحدہ کرنا، شروع کردیا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے لگتا ہے کہ یہ دھوکہ دے گا۔ پھر جب اس دھقان نے اپنے خاندان والوں کو نکال لیا تو پھر جنگ کے لیے تیار ہوگیا۔ پھر جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو اس نے بہت سے فدیے کی پیش کش کی۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 35474
٣٥٤٧٤ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: قتل (قتيل) (١) يوم الخندق فغلب المسلمون المشركين على (جيفته) (٢) فقالوا: (ادفعوا) (٣) إلينا جيفته ونعطيكم عشرة آلاف (درهم) (٤)، فذكر ذلك للنبي ﷺ فقال: "لا حاجة لنا في جيفته ولا ديته، إنه خبيث الدية خبيث الجيفة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : خندق والے دن کچھ کفار مارے گئے، مسلمان کفار کے لاشوں پر غالب آگئے، مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ ہماری لاشیں ہمارے حوالے کردو، ہم اس کے بدلہ دس ہزار دراہم دیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں تمہاری لاشوں (مردار لاشوں) اور دیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ خبیث دیت اور خبیث لاشیں ہیں۔
حدیث نمبر: 35475
٣٥٤٧٥ - حدثنا وكيع عن ابن أبي (ليلى) (١) عن الحكم أن رجلا من المشركين أصيب يوم الخندق فأعطوا النبي ﷺ بجيفته حتى بلغوا الدية فأبى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کچھ مشرکین غزوہ خندق میں مارے گئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مردہ لاشوں کے بدلے مال دینے کو کہا گیا یہاں تک کہ وہ دیت کی رقم تک پہنچ گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لینے سے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 35476
٣٥٤٧٦ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس عن النبي ﷺ بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مردی ہے۔
حدیث نمبر: 35477
٣٥٤٧٧ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: نسخت: ﴿(وَاقْتُلُوهُمْ) (١) حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ [النساء: ٨٩]، ما كان قبل ذلك من فداء أو منّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } منسوخ ہوگئی جو ان سے پہلے فدیہ اور احسان کر کے چھوڑنے کا حکم تھا۔
حدیث نمبر: 35478
٣٥٤٧٨ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد في قوله: ﴿(فَإِمَّا) (١) مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَآءً﴾ [محمد: ٤]، قال: لا (مَنَّ) (٢) ولا فداء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں قرآن کی آیت { فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اب کوئی احسان اور فدیہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35479
٣٥٤٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن حبيب بن أبي عمرة عن مجاهد قال: استشار رسول اللَّه ﷺ في الأسارى يوم بدر، فقال أبو بكر: قومك -يا رسول اللَّه- وعشيرتك (و) (١) بنو عمك فخذ منهم الفدية، وقال عمر: (اقتلهم) (٢)، فنزلت: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ (٣) [الأنفال: ٦٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب کیا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ یہ آپ کی قوم اور آپ کے رشتہ دار ہیں، ان سے فدیہ لے کر آزاد کردیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا، ان سب کو قتل کردیں، پھر اس کے بارے میں قرآن کریم کی آیت { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } حضرت مجاہد فرماتے ہیں الا ثخان سے مراد قتل ہے۔
حدیث نمبر: 35480
٣٥٤٨٠ - قال مجاهد: والإثخان هو القتل.