حدیث نمبر: 35463
٣٥٤٦٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين أن النبي ﷺ فدى رجلين من المسلمين برجل من المشركين من بني عقيل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عقیل کے ایک مشرک کے بدلے دو مسلمانوں کا فدیہ قرار دیا۔
حدیث نمبر: 35464
٣٥٤٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال: غزونا مع أبي بكر هوازن على عهد (النبي) (١) ﷺ فنفلني جارية من ⦗٤١١⦘ بني فزارة من أجمل العرب عليها قشع لها، فما كشفت لها عن ثوب حتى قدمت المدينة، فلقينا النبي ﷺ وهو بالسوق فقال: "للَّه أبوك، هبها لي"، فوهبتها له، قال: فبعث بها ففادى بها أسارى من المسلمين كانوا بمكة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ھوازن کے علاقہ میں جہاد کیلئے گئے، مجھے بنی فزارہ کی لونڈی حصہ میں ملی، جو کہ حسین عرب خاتون تھیں، اس پر موٹا زائد لباس تھا، جب اس کے زائد کپڑے کھلے تو میں اس کو لے کر مدینہ آیا، بازار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم سے ملا قات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے والد کی خوبی اللہ کیلئے ہی ہے، اس کو مجھے ھبہ کہ دو ، حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو ھبہ کردی، راوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باندی مکہ میں جو مسلمان تھے ان کے فدیہ کے واسطے بھیج دی۔
حدیث نمبر: 35465
٣٥٤٦٥ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن وعطاء قالا في الأسير من المشركين: يُمنُّ عليه أو يُفادى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت عطاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے قیدیوں پر احسان کر کے آزاد کردیا جائے یا پھر فدیہ وصول لیا جائے۔
حدیث نمبر: 35466
٣٥٤٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الجويرية وعاصم بن كليب الجرمي أن عمر بن عبد العزيز فدى رجلًا من المسلمين من (جَرْمٍ) (١) من أهل الحرب بمائة ألف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن کلیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کا فدیہ دیا، اھل حرب میں سے (شدۃ اور قوت والے) ایک لاکھ دراھم کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 35467
٣٥٤٦٧ - حدثنا جرير عن مغيرة (١) عن حماد إذا سبيت الجارية أو الغلام من (العدو) (٢) فلا بأس أن (تفادوهم) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر باندی یا غلام دشمن کی قید میں چلے جائیں تو کوئی حرج نہیں کہ ان کو فدیہ دے کر آزاد کروایا جائے۔
حدیث نمبر: 35468
٣٥٤٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي في الأسير: يمن عليه أو (يفادى) (١) به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رضی اللہ عنہ قیدیوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان پر احسان کر کے یا فدیہ لے کر آزاد کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 35469
٣٥٤٦٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: لما كان يوم بدر قال رسول اللَّه ﷺ: "ما تقولون في هؤلاء الأسارى؟ " قال: ثم قال: " (لا ينفلتن) (١) أحد منهم إلا بفداء أو ضربة عنق" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر فرمایا : ان میں سے کسی کو بھی آزاد نہ کیا جائے گا مگر فدیہ لے کر یا پھر اس کو قتل کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 35470
٣٥٤٧٠ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: كتب رسول اللَّه ﷺ كتابًا بين المهاجرين والأنصار أن يعقلوا معاقلهم وأن يفدوا (عانيتهم) (١) بالمعروف والإصلاح بين المسلمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو لکھا کہ ان کے قتل کے معاملہ میں دیت دیں، اور ان کے قیدیوں کے لیے اچھے طریقہ سے فدیہ وصول کیا جائے گا اور مسلمانوں کے درمیان (معاملات کی) اصلاح کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 35471
٣٥٤٧١ - حدثنا وكيع قال: ثنا أسامة بن زيد عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن قال: قال عمر: لأن (أستنقذ) (١) رجلًا من المسلمين من أيدي الكفار أحب إلي من (جزية) (٢) العرب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کفار کے ہاتھوں سے ایک مسلمان قیدی کو چھڑاؤ یہ مجھے پورے عرب کے جزیہ یا جزیرۃ العرب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔