حدیث نمبر: 35381
٣٥٣٨١ - حدثنا أبو أسامة وعبد اللَّه بن (نمير) (١) قالا: ثنا عبيد اللَّه ابن عمر عن نافع عن ابن عمر أن (رسول اللَّه ﷺ) (٢) جعل للفرس ⦗٣٩٠⦘ سهمين وللرجل سهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار کے لیے دو اور پیادہ کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 35382
٣٥٣٨٢ - حدثنا محمد بن فضيل ووكيع عن حجاج عن أبي صالح عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ[جعل للفارس ثلاثة أسهم، سهمًا له، واثنين لفرسه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار کو تین حصے عطا فرمائے، ایک حصہ اس کے لیے اور دو اس کے گھوڑے کے لیے۔
حدیث نمبر: 35383
٣٥٣٨٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا العمري عن نافع عن ابن عمر أن رسول اللَّه ﷺ] (١) حين قسم للفرس سهمين وللرجل سهمًا فكان للرجل ولفرسه ثلاثة أسهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب گھوڑے کے لیے دو اور اس کے سوار کے لیے ایک حصہ مقرر فرماتے تو گھوڑ سوار کے لیے تین حصے ہوجاتے تھے۔
حدیث نمبر: 35384
٣٥٣٨٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن صالح بن كيسان أن النبي ﷺ أسهم يوم خيبر لمائتي فرس لكل فرس سهمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن کیسان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن دو سو گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر فرمایا ، اور ہر گھوڑے کو دو حصے دیتے۔
حدیث نمبر: 35385
٣٥٣٨٥ - حدثنا جعفر بن عون عن سفيان عن سلمة بن كهيل قال: حدثنا أصحابنا عن أصحاب محمد ﷺ (أنهم) (١) قالوا: للفرس سهمان وللرجل سهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ گھوڑے کو دو اور پیادہ کو ایک حصہ ملے گا۔
حدیث نمبر: 35386
٣٥٣٨٦ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) (٢) أسامة (بن) (٣) زيد عن مكحول قال: أسهم رسول اللَّه ﷺ للفرس سهمين وللرجل سهمًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار کے لیے دو اور پیادہ کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 35387
٣٥٣٨٧ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: جعل رسول اللَّه ﷺ للفرس (سهمين) (١) (وللفارس) (٢) سهمًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کیلئے دو حصے اور گھوڑ سوار کیلئے ایک حصہ مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 35388
٣٥٣٨٨ - حدثنا جرير عن ليث عن الحكم قال: أول من جعل للفرس سهمين عمر، أشار عليه رجل من بني تميم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے گھوڑے کے لیے دو حصے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر فرمائے، بنو تمیم کے ایک شخص نے اس کی طرف اشارہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 35389
٣٥٣٨٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن هشام بن عروة عن يحيى بن عباد قال: أسهم (للزبير أربعة أسهم) (١): سهمين لفرسه، وسهمًا له وسهما لأمه ولذي القربى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد سے مروی ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو چار حصے ملے، دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے، ایک حصہ ان کے لیے اور ایک حصہ ان کی والدہ اور رشتہ داروں کے لیے۔
حدیث نمبر: 35390
٣٥٣٩٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن جويبر قال: كتب إلينا عمر بن عبد العزيز ونحن بخراسان: بلغنا الثقة عن رسول اللَّه ﷺ أنه أسهم للفارس ثلاثة ⦗٣٩٢⦘ أسهم: سهمين لفرسه وسهما له، وأسهم (للراجل) (١) سهمًا، وقال في الخيل: "العراب (والمقارف) (٢) (والبراذين) (٣) سواء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جویبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خراسان کے علاقہ میں تھے حضرت عمر بن عبدالعزیزنے ہمیں لکھا کہ ثقہ راویوں کے ذریعہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار کو تین حصے عطاء فرمائے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ اس کیلئے، اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا، اور گھوڑوں کے متعلق فرمایا : عراب، مقارف اور براذین (مختلف نسل کے گھوڑے) اس حکم میں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 35391
٣٥٣٩١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث بن (سوار) (١) عن الحسن وابن سيرين (قالا) (٢): كانوا إذا غزوا فأصابوا الغنائم (٣) قسموا للفارس من الغنيمة حين (تقسم) (٤) ثلاثة أسمهم: (سهمين) (٥) لفرسه وسهما له، وللراجل سهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام l جب جہاد میں فتح یاب ہوتے اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو تقسیم غنیمت کے وقت گھوڑ سوار کو تین حصے ملتے، دو اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ اس کا، اور پیادہ کو ایک حصہ ملتا۔
حدیث نمبر: 35392
٣٥٣٩٢ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ليلى عن الحكم قال: أسهم رسول اللَّه ﷺ للفارس سهمين وللراجل سهمًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار دو اور پیادہ کیلئے ایک حصہ مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 35393
٣٥٣٩٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا محمد بن عبد اللَّه (الشعيثي) (١) عن خالد بن معدان قال: أسهم رسول اللَّه ﷺ للفرس سهمين وللراجل سهمًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مردی ہے۔
حدیث نمبر: 35394
٣٥٣٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عمرو بن ميمون قال: كتب عمر ابن عبد العزيز إلى أهل الجزيرة أما بعد: فإن السهام كانت على عهد رسول اللَّه ﷺ: سهمين للفرس، وسهما للرجل، فلم أظن أن أحدا هَمَّ بانتقاص فريضة منها حتى فعل ذلك رجال ممن يقاتل هذه الحصون، فأعيدوا سهمانها على ما كانت عليه على عهد رسول اللَّه ﷺ: سهمين للفرس وسهما للرجل، وكيف (توضع) (١) سهمان الخيل (وهي) (٢) بإذن اللَّه لمسرحهم بالليل (ولمسالحهم) (٣) بالنهار، ولطلب ما يطلبون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جزیرہ والوں کو لکھا : اما بعد ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں گھوڑے کیلئے دو اور سوار کیلئے ایک حصہ مقرر تھا، پھر کیوں کوئی شخص ان کے حصہ کو کم کرنے کے ارادہ سے شک اور تردد میں ڈالتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کو بنادیا ان میں سے جو لوگ ان قلعوں میں قتال کرتے ہیں جو حصے ان کے رسول اکرم ﷺ کے دور میں تھے وہ ان کو لوٹا دو ، وہ حصے یہ تھے کہ گھوڑے کیلئے دو اور اس کے سوار کیلئے ایک حصہ مقرر تھا، گھوڑے کے حصہ کو کیسے کم کرتے ہو حالانکہ وہ اللہ کے حکم سے رات میں چرا گاہ میں پھرتے ہیں، اور دن میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ گھوڑے وہی طلب کرتے ہیں جو مجاہدین طلب کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 35395
٣٥٣٩٥ - حدثنا (عيسى) (١) بن يونس عن هشام بن عروة عن يحيى بن عباد أسهم للزبير أربعة أسهم: سهمين لفرسه وسهما لأمه وسهما لذي القربى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے چار حصے تھے، دو حصے گھوڑے کے، ایک حصہ ان کی والدہ کا اور ایک حصہ داروں کا۔
حدیث نمبر: 35396
٣٥٣٩٦ - حدثنا (محاضر) (١) قال: (ثنا) (٢) مجالد عن عامر قال. لما فتح سعد بن أبي وقاص جلولاء أصاب المسلمون ثلاثين ألف ألف، فقسم للفارس ثلاثة آلاف مثقال، و (للراجل) (٣) ألف مثقال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت معد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مقام جلو لاء کو فتح فرمایا تو غنیمت میں مسلمانوں کو تیس ہزار ہاتھ آئے، انہوں نے گھوڑ سوار کیلئے تین ہزار مثقال اور پیادہ کیلئے ایک ہزار مثقال تقسیم فرمایا۔