کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مشرکین سے مدد مانگنے کا بیان کون اس کو مکروہ سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 35371
٣٥٣٧١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (مستلم) (١) بن سعيد قال: ثنا خبيب بن عبد الرحمن بن خبيب عن أبيه عن جده قال: خرج رسول اللَّه ﷺ يريد وجهًا، فأتيته أنا ورجل من قومي، فقلنا: إن شهد قومنا (مشهدًا لا نشهده) (٢) معهم قال: "أسلمتما؟ " قلنا: لا، قال: "فإنا لا نستعين بالمشركين على المشركين"، قال: (فأسلمنا) (٣) وشهدنا معه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے جنگ کے ارادے سے، تو میں اور میری قوم کا ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ ہم نے عرض کیا : ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو میدان جنگ میں حاضر ہو اور ہم ان کے ساتھ شریک نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تم دونوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد طلب نہیں کرتے۔ راوی فرماتے ہیں : کہ ہم دونوں اسلام لے آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35371
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن خبيب، أخرجه أحمد (١٥٧٦٣)، والبخاري في التاريخ ٣/ ٢٠٩، والحاكم ٢/ ١٢١، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٧٦٣)، والطبراني (٤١٩٤)، والبيهقي ٩/ ٣٧، وابن سعد ٣/ ٥٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35371، ترقيم محمد عوامة 33831)
حدیث نمبر: 35372
٣٥٣٧٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن عمرو عن (سعد) (١) بن المنذر قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى أحد، فلما خلف ثنية الوداع نظر خلفه، فإذا كتيبة (خشناء) (٢)، فقال: "من هولاء؟ " قالوا: عبد اللَّه بن أبي (بن) (٣) سلول ومواليه من اليهود فقال: "وقد أسلموا؟ " قالوا: لا، قال: "فإنا لا نستعين بالكفار على المشركين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن منذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ کی طرف نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وداع کی گھاٹیوں کو پیچھے چھوڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیچے دیکھا تو وہاں بہت اسلحہ والی جماعت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے یہودی دوست۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہم مشرکین کے خلاف کفار سے مدد طلب نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35372
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المنذر تابعي، وقد ورد من حديث سعد بن المنذر عن أبي حميد الساعدي، أخرجه الحاكم ٢/ ١٢٢، وابن سعد ٢/ ٤٨، والبيهقي ٩/ ٣٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٠٦٨)، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٢٦٣)، والطحاوي في شرح المشكل ٦/ ٤١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35372، ترقيم محمد عوامة 33832)
حدیث نمبر: 35373
٣٥٣٧٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج قال: حدثني من سمع القاسم يذكر عن سلمان بن ربيعة الباهلي أنه غزا بلنجر وكان (غزاه) (١) فاستعان بناس من المشركين على المشركين وقال: ليحمل أعداء اللَّه على أعداء اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان بن ربیعہ باھلی رحمہ اللہ بلنجر مقام پر جہاد کے لیے تشریف لے گئے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ جہاد میں شریک ہوتے تھے۔ آپ رحمہ اللہ نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے مشرکین کے خلاف مدد طلب کی اور فرمایا : چاہیے کہ اللہ کے دشمنوں ہی کو اللہ کے دشمنوں کے خلاف اکسایا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35373
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35373، ترقيم محمد عوامة 33833)
حدیث نمبر: 35374
٣٥٣٧٤ - حدثنا وكيع عن مالك بن أنس عن عبد اللَّه بن يزيد عن (ابن) (١) نيار عن عروة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنا لا نستعين بمشرك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35374
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35374، ترقيم محمد عوامة 33834)