کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
حدیث نمبر: 35361
٣٥٣٦١ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي وعبيد اللَّه بن موسى عن سفيان عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر أن النبي ﷺ قطع نخل بني النضير وحرق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کو کاٹا اور جلا ڈالا۔
حدیث نمبر: 35362
٣٥٣٦٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا صالح بن (أبي) (١) (الأخضر) (٢) عن الزهري عن عروة عن أسامة قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى أرض يقال لها أبنا، فقال: "ائتها صباحا ثم حرق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی علاقہ میں بھیجا جس کا نام ابنی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہاں صبح پہنچنا پھر اس کو جلا دینا۔
حدیث نمبر: 35363
٣٥٣٦٣ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا سفيان قال) (١): بلغني عن عمر بن عبد العزيز أنه أمر بالتحريق أو حرق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضر ت عمر بن عبد العزیز نے جلانے کا حکم دیا یا یوں فرمایا : کہ انہیں جلا دیا۔
حدیث نمبر: 35364
٣٥٣٦٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سويد بن غفلة أن عليًّا حرق زنادقة بالسوق، فلما رمى عليهم بالنار قال: صدق اللَّه ورسوله، ثم ⦗٣٨٥⦘ انصرف، (فاتبعته) (١)، فالتفت إلي قال: سويد؟ قلت: نعم، فقلت: يا أمير المؤمنين سمعتك تقول شيئًا؟ فقال: يا سويد (إني (٢) بقوم) (٣) جهال، فإذا سمعتني أقول: قال رسول اللَّه ﷺ فهو حق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زنادقہ کو بازار میں جلا ڈالا جب ان پر آگ پھینکی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے۔ اور پوچھا : کہ سوید ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! میں نے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ کچھ فرما رہے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے سوید ! بیشک میں جاہل لوگوں کے ساتھ ہوں۔ جب تم سنو کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں تو وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اور وہ بالکل حق ہے۔
حدیث نمبر: 35365
٣٥٣٦٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن عبيد عن أبيه قال: كان أناس يأخذون العطاء (١) ويصلون مع (الناس) (٢)، وكانوا يعبدون الأصنام في السر، فأتي بهم علي بن أبي طالب فوضعهم في المسجد، أو قال: في السجن، ثم قال: يا أيها الناس ما ترون في قوم كانوا يأخذون معكم العطاء والرزق ويعبدون هذه الأصنام؟ قال الناس: اقتلهم، قال: لا، ولكن أصنع بهم كما صنعوا بأبينا إبراهيم، فحرقهم بالنار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ کچھ لوگ تھے جو عطیات اور تنخواہیں لیتے تھے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے پاس لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مسجد میں یا جیل خانہ میں قید کردیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ عطیات اور تنخواہیں لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہان کو قتل کردیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ان کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو انہوں نے ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جلا دیا۔
حدیث نمبر: 35366
٣٥٣٦٦ - حدثنا وكيع ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن جرير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا تريحني من ذي الخلصة بيت كان لخثعم (كانت) (١) تعبده في الجاهلية، يسمى كعبة اليمانية"، قال: فخرجت في (خمسين) (٢) ومائة راكب، قال: فحرقناها حتى جعلناها مثل (الجمل) (٣) الأجرب، قال: ⦗٣٨٦⦘ بعث جرير رجلا إلى النبي ﷺ يبشر، فلما قدم عليه قال: والذي بعثك بالحق ما أتيتك حتى (تركناها) (٤) مثل الجمل الأجرب، قال: فبارك رسول اللَّه ﷺ على أحمس خيلها ورجالها خمس مرات (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں پہنچاؤ گے ؟ یہ خثعم کا گھر تھا جس کی زمانہ جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی اور اس کا نام کعبہ یمانیہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر نکلا اور ہم نے اس کو جلا دیا یہاں تک کہ ہم نے اسے خارش زدہ اونٹ کی مانند بنادیا پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اس بات کی خوشخبری سنانے کے لیے ، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ، میں نے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہاں تک کہ ہم نے اس جگہ کو خارش زدہ اونٹ کی مانند چھوڑا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ مرتبہ احمس کو ، اس کے گھوڑے کو اور اس کے آدمیوں کو برکت کی دعا دی۔
حدیث نمبر: 35367
٣٥٣٦٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن (ابن) (١) (عبد اللَّه) (٢) عن أبيه عبد اللَّه بن الحسن: أنه كان لا يرى بالتحريق وقطع الشجر في أرض العدو بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبد اللہ بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبد اللہ بن حسن رحمہ اللہ جلا دینے اور دشمن کی زمین میں درخت کاٹ دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 35368
٣٥٣٦٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن داود عن عكرمة: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ﴾ [الحشر: ٥]، قال: هي النخلة دون العجوة.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے اس آیت مبارکہ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ } ترجمہ : کاٹ ڈالا تم نے جو درخت۔ اس کے بارے میں آپ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ کھجور کا درخت مراد ہے۔
حدیث نمبر: 35369
٣٥٣٦٩ - حدثنا وكيع عن (أبيه) (١) عن حبيب بن أبي عمرة عن (سعيد) (٢) جبير: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ﴾، قال: هي النخلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابو عمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ اس آیت { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ } میں لینۃ سے مراد کھجور کا درخت ہے۔
حدیث نمبر: 35370
٣٥٣٧٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ﴾، قال: هي النخلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آیت { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ } میں لینۃ سے مراد کھجور کا درخت ہے۔