کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
حدیث نمبر: 35354
٣٥٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن بكير بن عبد اللَّه بن الأشج عن أبي إسحاق إبراهيم الدوسي (عن أبي هريرة الدوسي) (١) قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية وقال: "إن ظفرتم بفلان وفلان فأحرقوهما بالنار"، حتى إذا كان الغد بعث إلينا: "إني كنت أمرتكم بتحريق هذين الرجلين، ورأيت أنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا اللَّه، فإن ظفرتم بهما فاقتلوهما" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا : اگر تمہیں فلاں اور فلاں شخص پر فتحیابی ملے تو ان دونوں آدمیوں کو جلا دینا۔ یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف قاصد بھیجا کہ میں نے تمہیں ان دو آدمیوں کے جلانے کا حکم دیا تھا۔ اور میری رائے یہ ہوئی کہ آگ کا عذاب دینا اللہ کے سوا کسی کے لیے مناسب نہیں۔ پس اگر تمہیں ان دونوں پر فتحیابی نصیب ہو تو تم ان دونوں کو قتل کردینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35354
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35354، ترقيم محمد عوامة 33814)
حدیث نمبر: 35355
٣٥٣٥٥ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس أنه ذكر ناسًا أحرقهم علي، فقال: لو كنت أنا لم أحرقهم بالنار، لقول رسول اللَّه ﷺ: "لا تعذبوا بعذاب اللَّه"، ولو كنت أنا لقتلتهم لقول رسول اللَّه ﷺ: "من بدل دينه فاقتلوه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جلا دیا تھا پھر فرمایا : اگر میں ہوتا تو میں کبھی ان لوگوں کو آگ میں نہ جلاتا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ تم اللہ کے عذاب کے طریقہ پر عذاب مت دو ۔ اور اگر میں ہوتا تو میں ان کو قتل کردیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے تو تم اس کو قتل کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٢٢)، وأحمد (٢٥٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35355، ترقيم محمد عوامة 33815)
حدیث نمبر: 35356
٣٥٣٥٦ - حدثنا أبو معاوية (حدثنا) (١) الشيباني عن الحسن بن سعد عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن مسعود عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تعذبوا بالنار فإنه لا يعذب بالنار إلا ربها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ آگ کا عذاب مت دو ۔ اس لیے کہ بندے کے پروردگار کے سوا کوئی آگ کا عذاب نہیں دے سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (٢٦٧٥)، وأحمد (٤٠١٨)، والحاكم ٤/ ٢٣٩، والطبراني (١٠٣٧٣)، والشاشي (٢٨٣)، وهناد في الزهد (١٣٣٧)، والبزار (٢٠٠٦)، وأخرجه عبد الرزاق (٩٤١٤) مرسلًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35356، ترقيم محمد عوامة 33816)
حدیث نمبر: 35357
٣٥٣٥٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: بعث النبي ﷺ سوية فطلبوا رجلًا فصعد شجرة فأحرقوها بالنار. فلما قدموا على النبي ﷺ أخبروه بذلك، فتغير وجه رسول اللَّه ﷺ وقال: "إني لم أبعث أعذب بعذاب اللَّه، إنما بعثت بضرب الرقاب وشد الوثاق" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا : پس انہوں نے کسی آدمی کو تلاش کیا تو وہ درخت پر چڑھ گیا پس انہوں نے اس درخت کو آگ سے جلا ڈالا جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ متغیر ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ میں اللہ کے عذاب کے طریقے پر عذاب دوں۔ بیشک مجھے بھیجا گیا ہے گردنیں مارنے کے لیے اور مضبوطی سے باندھنے کے لیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35357
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ القاسم تابعي، أخرجه ابن جرير في التفسير ٩/ ١٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35357، ترقيم محمد عوامة 33817)
حدیث نمبر: 35358
٣٥٣٥٨ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) هشام الدستوائي عن سعيد (البزاز) (٢) عن (حيان بن عثمان) (٣) عن أم الدرداء أنها أبصرت إنسانا أخذ نملة أو برغوثا فألقاه في النار فقالت: إنه لا ينبغي لأحد أن يعذب بعذاب اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے کسی شخص کو دیکھا کہ اس نے جوں یا پسّو کو پکڑا اور اس کو آگ میں ڈال دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : بیشک کسی کے لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35358، ترقيم محمد عوامة 33818)
حدیث نمبر: 35359
٣٥٣٥٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن (تحرق) (٢) العقرب بالنار، ويقولون: مثلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ رضی اللہ عنہ م بچھو کے آگ میں جلانے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ عبرتناک سزا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35359
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35359، ترقيم محمد عوامة 33819)
حدیث نمبر: 35360
٣٥٣٦٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا حريث عن يحيى بن عباد أبي هبيرة أنه كره أن (يحرق) (١) العقرب بالنار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حریث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن عباد ابو ھبیرہ نے بچھو کے آگ میں جلا ڈالنے کو مکروہ سمجھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35360
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35360، ترقيم محمد عوامة 33820)