حدیث نمبر: 35324
٣٥٣٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة قالا: ثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: وُجدت امرأة مقتولة بعض مغازي رسول اللَّه ﷺ، فنهى رسول اللَّه ﷺ عن قتل النساء والصبيان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض غزوات میں ایک عورت مردہ حالت میں پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 35325
٣٥٣٢٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر (و) (١) عبد (الرحيم) (٢) بن سليمان عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن النبي ﷺ نهى عن قتل النساء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 35326
٣٥٣٢٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب قال: سمعت رجلًا يحدث (بمنى) (١) عن أبيه قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية كنت فيها، قال: فنهانا أن نقتل العسفاء والوصفاء (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وادی منی میں ایک شخص اپنے والد کے حوالہ سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے والد نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا : میں بھی اس لشکر میں موجود تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خدمت گاروں اور غلاموں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 35327
٣٥٣٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب عن عمه أن رسول اللَّه ﷺ لما بعثه إلى ابن أبي الحقيق نهاه عن قتل النساء والولدان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن ابی الحقیق کی طرف لشکر روانہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 35328
٣٥٣٢٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا بعث سرية أو جيشا قال: "لا تقتلوا وليدا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرتے تو ارشاد فرماتے : بچوں کو قتل مت کرنا۔
حدیث نمبر: 35329
٣٥٣٢٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان (٢) (عن) (٣) أبي الزناد عن المرقع (بن عبد اللَّه) (٤) بن صيفي عن حنظلة الكاتب (٥) قال: غزونا مع ⦗٣٧٥⦘ (النبي) (٦) ﷺ فمررنا بامرأة مقتولة، وقد اجتمع عليها الناس، قال: فأفرجوا له فقال: "ما كانت هذه تقاتل فيمن يقاتل"، ثم قال لرجل: "انطلق إلى خالد ابن الوليد فقل له: إن رسول اللَّه ﷺ يأمرك يقول: لا تقتلن ذرية ولا عسيفًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہمارا گزر ایک مقتولہ عورت پر ہوا اس حال میں کہ لوگ اس کے گرد جمع تھے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جگہ کشادہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو لڑائی کرنے والوں میں لڑائی نہیں کر رہی تھی ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہا : کہ خالد بن ولید کے پا س جاؤ اور ان سے کہو : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بچوں اور خدمت گاروں کو ہرگز قتل مت کرو۔
حدیث نمبر: 35330
٣٥٣٣٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا حسن بن صالح عن خالد بن (الغزر) (١) قال: حدثني أنس بن مالك قال: كنت سفرة أصحابي (٢) وكنا إذا (استنفرنا) (٣) نزلنا بظهر المدينة حتى يخرج إلينا رسول اللَّه ﷺ فيقول: "انطلقوا بسم اللَّه وفي سبيل اللَّه، تقاتلون أعداء اللَّه في سبيل اللَّه، لا تقتلوا شيخًا فانيًا، ولا طفلًا صغيرًا، ولا امرأة ولا تغلوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کا توشہ دان اٹھاتا تھا اور جب ہمیں اللہ کے راستہ میں بھیجا جاتا تھا تو ہم لوگ مدینہ کے قریب قیام کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے۔ اور فرماتے : اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کے راستہ میں چلو… اللہ کے راستہ میں اللہ کے دشمنوں سے قتال کرنا۔ بہت زیادہ بوڑھے کو قتل مت کرنا۔ نہ ہی چھوٹے بچوں کو ، اور نہ ہی عورت کو، اور نہ ہی خیانت کرنا۔
حدیث نمبر: 35331
٣٥٣٣١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: ⦗٣٧٦⦘ كتب عمر إلى أمراء الأجناد أن لا تقتلوا امرأة ولا صبيًا، وأن تقتلوا من جرت عليه (الموسى) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجناد کے امیروں کی طرف خط لکھا کہ وہ عورت اور بچہ کو قتل مت کریں۔ اور جس پر استرا چلتا ہو یعنی بالغ کو قتل کردیں۔
حدیث نمبر: 35332
٣٥٣٣٢ - حدثنا محمد بن دفيل عن يزيد بن أبي زياد عن زيد بن وهب قال: أتانا كتاب عمر: لا تغلوا ولا تغدروا ولا تقتلوا وليدًا واتقوا اللَّه في الفلاحين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا : کہ تم خیانت مت کرنا، اور نہ ہی غداری کرنا، اور بچوں کو قتل مت کرنا، اور کسانوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔
حدیث نمبر: 35333
٣٥٣٣٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن يحيى بن سعيد قال: حدثت أن أبا بكر بعث جيوشا إلى الشام فخرج يتبع يزيد بن أبي سفيان فقال: إني أوصيك بعشر: لا تقتلن صبيا ولا أمرأة ولا كبيرا هرما، ولا تقطعن شجرا مثمرا، ولا (تخربن) (١) عامرا ولا (تعقن) (٢) شاة ولا (بقرة) (٣) (إلا) (٤) (لمأكلة) (٥)، ولا تغرقن نخلا ولا (تحرقنه) (٦) ولا (تغل) (٧) ولا تجبن (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ آپ رضی اللہ عنہ نکلے اور یزید بن ابو سفیان کے پیچھے چل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں : تم بچوں کو ہرگز قتل مت کرنا، بچوں کو نہ ہی عورتوں کو اور نہ بہت ہی بوڑھیوں کو، اور تم پھلدار درخت مت کاٹنا۔ اور ہرگز آباد زمین کو برباد مت کرنا۔ اور ہرگز بکری اور گائے کو ذبح مت کرنا مگر صرف کھانے کے لیے۔ اور ہرگز کھجور کے درخت کو اوپر سری سے مت کاٹنا اور نہ ہی اس کو جلانا، اور نہ ہی خیانت کرنا، اور نہ ہی بزدلی دکھانا۔
حدیث نمبر: 35334
٣٥٣٣٤ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن ليث عن مجاهد قال: لا يقتل في الحرب الصبي ولا (المرأة) (١) ولا الشيخ الفاني، ولا يحرق الطعام ولا النخل ولا تخرب البيوت، ولا يقطع الشجر المثمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ نہیں قتل کیا جائے گا جنگ میں بچوں کو نہ ہی عورتوں کو اور نہ ہی بہت بوڑھے کو ۔ نہ ہی کھانا جلایا جائے گا اور نہ ہی کھجور کے درخت کو، اور گھروں کو برباد بھی نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پھلدار درخت کو کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 35335
٣٥٣٣٥ - حدثنا معاذ عن أشعث عن الحسن قال: كان يكره أن يقتل في دار الحرب الشيخ الكبير، والصغير، والمرأة، وكان يكره للرجل إن حمل من هؤلاء شيئًا معه فثقل عليه أن يلقيه في الطريق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ دارالحرب میں بہت بوڑھے کو، اور بچوں کو اور عورت کے قتل کیے جانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ اور آپ رحمہ اللہ اس بات کو بھی مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی اپنے ساتھ ان میں سے کسی کو اٹھائے پس پھر ان کا اٹھانا اس پر بھاری ہوجائے تو ان کو راستہ میں پھینک دے۔
حدیث نمبر: 35336
٣٥٣٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير قال: سمعت عطية القرظي يقول: غرضنا على النبي ﷺ يوم قريظة، فكان من أنبت (قتل) (١)، ومن لم ينبت خُلي سبيله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطیہ قرظی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ غزوہ بنو قریظہ کے دن ہم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا پس جس کے زیر ناف بال اگے ہوئے تھے اس کو قتل کردیا گیا اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے تھے اس کا راستہ خالی چھوڑ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 35337
٣٥٣٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي فزارة عن عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري أن النبي ﷺ مر على امرأة مقتولة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل هذه؟ " فقال رجل: أنا يا رسول اللَّه، أردفتها خلفي فأرادت قتلي فقتلتها، فأمر بها فدفنت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مقتولہ عورت پر گزر ہوا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو کس نے قتل کیا ؟ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے۔ اس کو میں نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھایا تو اس نے مجھے مارنا چاہا پس میں نے اس کو مار دیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دفنانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 35338
٣٥٣٣٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا صدقة الدمشقي عن يحيى بن يحيى الغساني قال: كتبت إلى عمر بن عبد العزيز أسأله عن هذه الآية: ﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [البقرة: ١٩٠]، قال: فكتب ⦗٣٧٨⦘ إلي أن ذلك في النساء والذرية ومن لم ينصب (١) الحرب منهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن یحییٰ غسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو خط لکھ کر اس آیت کے بارے میں سوال کیا : ترجمہ : اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں ، اور تم زیادتی نہ کرو ، بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے میری طرف خط لکھ کر جواب دیا اور فرمایا : بیشک یہ آیت عورتوں اور بچوں اور ا ن لوگوں کے بارے میں ہے جو ان میں سے جنگ نہیں چھیڑتے۔
حدیث نمبر: 35339
٣٥٣٣٩ - حدثنا كثير بن هشام قال: ثنا جعفر بن برقان قال: ثنا ثابت بن الحجاج الكلابي قال: قام أبو بكر في الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: ألا لا يقتل الراهب (الذي) (١) في الصومعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن حجاج کلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : خبردار ! وہ راہب جو اپنے عبادت خانے میں ہو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 35340
٣٥٣٤٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد بن علي عن يزيد بن هرمز قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يسأله عن قتل الولدان، ويقول في كتابه: إن العالم صاحب موسى قد قتل الوليد، قال: فقال يزيد: أنا كتبت كتاب ابن عباس بيدي إلى نجدة: إنك كتبت تسأل عن قتل الولدان وتقول في كتابك: إن العالم صاحب موسى قد قتل الوليد، ولو كنت تعلم من الولدان ما علم ذلك (العالم) (١) من ذلك الوليد قتلته، ولكنك لا تعلم، قد نهى رسول اللَّه ﷺ عن قتلهم فاعتزلهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ھرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے۔ انہوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! یزید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خط نجدہ کی طرف لکھا : کہ تو نے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق پوچھا اور اپنے خط میں تو نے کہا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے تحقیق انہوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! اگر تم بھی بچوں کے بارے میں وہ بات جانتے ہوتے تو تم بھی اس کو قتل کردیتے۔ لیکن تم نہیں جانتے۔ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ پس تم ان سے الگ تھلگ رہو۔
حدیث نمبر: 35341
٣٥٣٤١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد اللَّه عن نافع عن أسلم مولى عمر أن عمر كتب إلى عماله ينهاهم عن قتل النساء والصبيان وأمرهم بقتل من جرت عليه (الموسى) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم رحمہ اللہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کو خط لکھ کر انہیں عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے منع کیا۔ اور ان کو حکم دیا کہ وہ بالغوں کو قتل کردیں۔
حدیث نمبر: 35342
٣٥٣٤٢ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن (أبي) (١) الزبير عن جابر بن عبد اللَّه قال: كانوا لا يقتلون تجار المشركين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ رضی اللہ عنہ م مشرکین کے تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 35343
٣٥٣٤٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل عن الحسن عن الأسود بن سريع قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما بال أقوام بلغوا في القتل حتى قتلوا الولدان"، قال: فقال رجل من القوم: إنما هم أولاد المشركين، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أو ليس أخياركم إنما هم أولاد المشركين (١)، إنه ليس (من) (٢) مولود يولد إلا على الفطرة حتى يبلغ فيعبر عن نفسه أو يهوده أبواه أو ينصرانه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے قتل میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے بچوں کو بھی قتل کردیا ؟ ! اس پر قوم میں سے ایک شخص بولا : وہ تو مشرکین کے بچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے میں جو بہترین لوگ ہیں کیا وہ مشرکین کی اولاد میں سے نہیں ہیں ؟ ! بیشک کوئی بھی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر فطرت اسلام پر یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہوتا ہے تو اظہار ما فی الضمیر کرتا ہے، یا اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 35344
٣٥٣٤٤ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن شيخ من أهل المدينة مولى لبني عبد الأشهل عن داود عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ كان إذا بعث جيوشه قال: "لا تقتلوا أصحاب الصوامع" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لشکروں کو بھیجتے تو فرماتے کہ عبادت گاہوں میں موجود لوگوں کو قتل مت کرنا۔
حدیث نمبر: 35345
٣٥٣٤٥ - حدثنا ابن فضيل عن جويبر عن الضحاك قال: كان ينهى عن قتل المرأة والشيخ الكبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جویبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ضحاک رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ عورت اور بہت بوڑھے کو قتل کرنے سے روکا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 35346
٣٥٣٤٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج بن أرطأة عن (عبد الرحمن بن زيد بن جدعان عن يحيى بن أبي مطيع) (١) أن أبا بكر الصديق بعث جيشا فقال: اغزوا بسم اللَّه اللهم اجعل وفاتهم شهادة في سبيلك ثم (قال) (٢): إنكم تأتون قوما في صوامع لهم فدعوهم وما أعملوا أنفسهم له، وتأتون إلى قوم قد فحصوا عن أوساط رؤوسهم أمثال العصب فاضربوا ما فحصوا عنه من أوساط رؤوسهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ کیا اور اسے فرمایا کہ اللہ کے نام کے ساتھ جہاد کرو۔ اے اللہ ! ان کی موت کو اپنے راستے کی شہادت بنا دے پھر فرمایا تم جن لوگوں کو عبادت گاہوں میں عبادت کرتا پاؤ، انہیں کچھ نہ کہو اور جو لوگ تمہارے خلاف جنگ کریں ان کے سر کے درمیان میں مارو۔
حدیث نمبر: 35347
٣٥٣٤٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأحوص عن راشد بن سعد (قال) (١): نهى رسول اللَّه ﷺ عن قتل النساء والذرية والشيخ الكبير الذي لا حراك به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت راشدبن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں ، بچوں اور اس بڑے بوڑھے کو جس میں بالکل دم نہ ہو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 35348
٣٥٣٤٨ - حدثنا عفان قال: (ثنا) (١) عبد الواحد بن زياد قال: ثنا أبو روق محطية ابن الحارث قال: ثنا أبو الغريف عبيد اللَّه بن خليفة عن صفوان بن عسال أن النبي ﷺ كان إذا بعث سرية قال: "لا تقتلوا وليدًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن عسال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لشکر روانہ کرتے تو فرماتے کسی بچہ کو قتل مت کرنا۔