کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
حدیث نمبر: 35308
٣٥٣٠٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ پس جب ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا ۔ تو انہوں نے ایسا کرنے سے اپنے مال اور اپنی جانوں کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35308
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٢١)، وأحمد (١٤١٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35308، ترقيم محمد عوامة 33769)
حدیث نمبر: 35309
٣٥٣٠٩ - وعن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا (قالوها) (١) عصموا بها أموالهم ودماءهم، وحسابهم على اللَّه" (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35309
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٦)، ومسلم (٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35309، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 35310
٣٥٣١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي مالك الأشجعي سعد بن طارق قال: سمعت أبي يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: "من وحد اللَّه وكفر بما يعبد من دونه حرم ماله ودمه، وحسابه على اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ کی وحدانیت بیان کی اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان کو نہ مانا تو اس کا مال اور اس کی جان حرام ہوگئی اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35310
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه مسلم (٢٣)، وأحمد (١٥٨٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35310، ترقيم محمد عوامة 33770)
حدیث نمبر: 35311
٣٥٣١١ - حدثنا أبو معاوية عن (١) الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة بن زيد قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ إلى الحرقات من جهينة (قال) (٢): فصبحنا القوم وقد (نُذروا) (٣) بنا، قال: فخرجنا في آثارهم فأدركت رجلا منهم فجعلت إذا لحقته قال: لا إله إلا اللَّه، قال: فظننت (أنه) (٤) إنما يقولها فرقًا، قال: فحملت عليه فقتلته فعرض في نفسي من أمره، فذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "قال لا إله إلا اللَّه ثم قتلته؟ " قلت: يا رسول اللَّه، لم يقلها من قبل نفسه، إنما قالها فرقًا من السلاح، قال: فقال: "قال لا إله إلا اللَّه ثم قتلته؟ فهلا شققت عن قلبه حتى تعلم أنه إنما قالها فرقا من السلاح"، قال أسامة: فما زال يكررها علي: "قال لا إله إلا اللَّه ثم قتلته؟ "، حتى وددت أني لم أكن أسلمت إلا يومئذ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ جھینہ کی طرف بھیجا۔ پس ہم نے اس قوم کے پاس صبح کی ، اور وہ لوگ ہم سے چوکنا ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کا پیچھا کیا تو ان میں سے ایک آدمی کو میں نے پکڑ لیا جیسے ہی میں اس سے ملا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا میں نے گمان کیا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے ۔ پس میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا۔ پھر میرے دل میں اس کا خیال آیا تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ؟ ! میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا بلکہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا۔ پھر تم نے اس کو قتل کردیا۔ تم نے اس کا دل کیوں نہیں پھاڑ ڈالا۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا ہے ؟ ! حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے یہ کہتے رہے کہ اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ! یہاں تک کہ میری خواہش ہوئی کہ میں اسلام نہ لایا ہوتا مگر آج ہی کے دن !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35311
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٩٦)، ومسلم (٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35311، ترقيم محمد عوامة 33771)
حدیث نمبر: 35312
٣٥٣١٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ، ثم ذكر نحو حديث أبي معاوية عن الأعمش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لشکر کے ساتھ بھیجا ۔ پھر راوی نے مذکورہ حدیث نقل فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35312
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٦٨٧٢)، ومسلم (٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35312، ترقيم محمد عوامة 33772)
حدیث نمبر: 35313
٣٥٣١٣ - حدثنا عبد اللَّه بن (١) بكر السهمي قال: ثنا حاتم بن أبي صغيرة عن (النعمان) (٢) بن سالم أن (عمرو) (٣) بن أوس أخبره (أن أباه أوسًا أخبره) (٤) قال: إنا لقعود عند رسول اللَّه ﷺ وهو يقص علينا ويذكرنا إذ أتاه رجل فسأله فقال رسول اللَّه ﷺ: "اذهبوا فاقتلوه"، فلما ولى الرجل دعاه رسول اللَّه ﷺ فقال: "هل تشهد أن لا إله إلا اللَّه؟ " قال: نعم، قال: "اذهبوا فخلوا سبيله، وإنما أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا فعلوا ذلك حرم (عليّ) (٥) دماؤهم وأموالهم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اویس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اس کو قتل کردو۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اس کا راستہ خالی چھوڑ دو اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ و ہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ اور جب انہوں نے ایسا کرلیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35313
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦١٦٣)، وابن ماجه (٣٩٢٩)، والنسائي ٧/ ٨١، والطيالسي (١١١٠)، والدارمي ١٨/ ٢٢، وأبو يعلى (٦٨٦٢)، وعبد الرزاق (١٨٦٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35313، ترقيم محمد عوامة 33773)
حدیث نمبر: 35314
٣٥٣١٤ - حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا قالوا: لا إله إلا اللَّه، عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على اللَّه"، ثم قرأ: ﴿إِنَّمَا أنت مُذَكِّرٌ (٢١) لَسْتَ عَلَيْهِمْ (بِمُصَيْطِرٍ) (٢)﴾ (٣). [الغاشية: ٢١ - ٢٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں : جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کرلیا مگر اللہ کے حق کی وجہ سے۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے والے ہیں، اور آپ نہیں ہیں ان پر جبر کرنے والے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35314
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١)، وأحمد (١٤٢٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35314، ترقيم محمد عوامة 33774)
حدیث نمبر: 35315
٣٥٣١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن صالح مولى التوأمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا قالوا: لا إله إلا اللَّه، حرمت علي دماؤهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ کے کسی حق کی وجہ سے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35315
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٦)، ومسلم (٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35315، ترقيم محمد عوامة 33775)
حدیث نمبر: 35316
٣٥٣١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير قال: خرج المقداد بن الأسود في سرية (قال) (١): فمروا برجل في غنيمة له فارادوا قتله، فقال: لا إله إلا اللَّه، فقتله (مقداد) (٢)، فقيل له: قتلته وهو يقول: لا إله إلا اللَّه، فقال المقداد: ود لو فر بأهله وماله، قال: فلما قدموا ذكروا ذلك للنبي ﷺ: فنزلت: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾، قال: الغنيمة ﴿فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ﴾، قال: تكتمون إيمانكم من المشركين، ﴿فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ﴾ (فأظهر) (٣) الإسلام، ﴿فَتَبَيَّنُوا﴾، وعيد اللَّه، ﴿(إِنَّ اللَّهَ كَانَ)) (٤) (٥) بِمَا تَعْمَلُونَ (خَبِيرًا) (٦)﴾ (٧) [النساء: ٩٤]
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کسی لشکر میں نکلے۔ یہ لوگ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی چند بھیڑ بکریوں کے پاس تھا ان لوگوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اس شخص نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا۔ پھر بھی حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کردیا حالانکہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ رہا تھا ؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ چاہتا تھا کہ اپنے گھر والوں اور مال کو لے کر بھاگ جائے۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہو۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتے ہو سازو سامان دنیاوی زندگی کا ؟ ( حیاۃ دنیا سے مراد بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہے ) تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ ایسے تو تم اسلام سے پہلے تھے ( یعنی تم مشرکین سے اپنا ایمان چھپاتے تھے) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ( یعنی اسلام کو ظاہر کیا ) لہٰذا خوب تحقیق کرلیا کرو۔ (اللہ کی وعید کی ) بیشک اللہ ہر اس بات سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35316
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير في التفسير ٥/ ٢٢٥، والحارث (٣/ بغية)، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٠٣، وورد من حديث سعيد بن جبير عن ابن عباس، أخرجه الطبراني (١٢٣٧٩)، وبحشل في تاريخ واسط ص ١٦٠، والضياء في المختارة ١٠/ (١٤٧)، وابن بشكوال في المبهمة ٧/ ٤٥٧، وابن عساكر ٦٠/ ١٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35316، ترقيم محمد عوامة 33776)
حدیث نمبر: 35317
٣٥٣١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر رجل من بني سليم على نفر من أصحاب رسول اللَّه ﷺ ومعه غنم له، فسلم عليهم فقالوا: ما سلم عليكم إلا ليتعوذ منكم، فعمدوا إليه فقتلوه، وأخذوا غنمه فأتوا بها رسول اللَّه ﷺ فأنزل اللَّه تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ﴾ إلى آخر الآية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ اس کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا۔ اس نے ان لوگوں پر سلام کہا : تو کچھ لوگوں نے کہا : کہ اس شخص نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ خود کو تم سے محفوظ رکھے۔ پس یہ لوگ اس کے پیچھے گئے اور اس شخص کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے لیں پھر وہ اس مال کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم نکلو اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تم مومن نہیں ہے۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتا ہو سازوسامان دنیاوی زندگی کا ؟ تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ آیت کے آخر تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢٠٢٣)، والترمذي (٣٠٣٠)، وابن حبان (٤٧٥٢)، والطبري ٥/ ٢٢٣، والطبراني (١١٧٣١)، والحاكم ٢/ ٢٣٥، والبيهقي ٩/ ١١٥، والواحدي في أسباب النزول ص ١١٥، وأصله في البخاري (٤٥٩١)، ومسلم (٣٠٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35317، ترقيم محمد عوامة 33777)
حدیث نمبر: 35318
٣٥٣١٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس بمثله، ولم يذكر فأتوا بها النبي ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ مگر راوی نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے۔ فأتوا بھا النبی ﷺ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35318
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35318، ترقيم محمد عوامة 33778)
حدیث نمبر: 35319
٣٥٣١٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: ثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن عطاء ابن يزيد الليثي عن عبيد اللَّه بن عدي بن الخيار عن المقداد أنه أخبره أنه قال: يا رسول اللَّه، أرأيت إن لقيت رجلًا من الكفار فقاتلني، فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ مني بشجرة فقال: أسلمت للَّه، أقتله يا رسول اللَّه بعد أن قالها؟ فقال: (رسول اللَّه) (١) ﷺ: "لا تقتله"، فقلت: يا رسول اللَّه، قطع يدي، ثم قال ذلك بعد أن قطعها، أفأقتله؟ قال: "لا تقتله، فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله، وأنت بمنزلته قبل أن يقول الكلمة (التي) (٢) قال" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مقدادد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے اس بارے میں کہ اگر میں کفار کے ایک آدمی سے ملا پھر اس نے مجھ سے لڑائی کی ۔ اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار سے وار کیا اور ا س کو کاٹ دیا پھر وہ درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگتا ہے اور کہتا ہے ۔ میں اللہ کے لیے اسلام لایا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں ایسا کہنے کے بعد اس کو قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کو قتل مت کرو۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے میر اہاتھ کاٹ دیا پھر وہ کاٹنے کے بعد کلمہ پڑھتا ہے کیا میں اس کو قتل نہ کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کو قتل مت کرنا۔ اگر تم نے اس کو قتل کردیا تو وہ شخص تمہارے مرتبہ پر ہوگا۔ جس مرتبہ پر تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے۔ اور تم اس کے مرتبہ پر ہو گے جس مرتبہ پر وہ یہ کلمہ جو اس نے پڑھا ہے اس کے پڑھنے سے پہلے تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35319
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٦٥)، ومسلم (٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35319، ترقيم محمد عوامة 33779)
حدیث نمبر: 35320
٣٥٣٢٠ - (١) حدثنا شبابة بن سوار قال: ثنا سليمان بن الغيرة عن حميد بن هلال قال: جاء أبو العالية إلي وإلى صاحب لي فقال: هلما، فإنكما أشب مني وأوعى للحديث مني، قال: (فانطلقنا) (٢) حتى أتينا بشر بن عاصم الليثي فقال أبو العالية: حدث هذين حديثك، قال: حدثني عقبة بن مالك الليثي قال: بعث النبي ﷺ سرية فأغارت على القوم، فشذ رجل من القوم (وأتبعه) (٣) رجل من السرية (و) (٤) معه سيف (شاهره) (٥)، فقال (الشاذ) (٦) من القوم: إني مسلم، فلم ينظر فيما قال، (قال) (٧): فضربه فقتله، فنمى الحديث إلى النبي ﷺ فقال النبي ﷺ قولًا شديدًا، فبلغ القاتل، فبينما النبي ﷺ يخطب إذ قال القاتل: واللَّه يا نبي اللَّه ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل، فأعرض عنه النبي ﷺ و (عمن يليه) (٨) من الناس، فعل ذلك مرتين كلَ ذلك يُعرض عنه النبي ﷺ، فلم يصبر أن قال الثالثة مثل ذلك، فأقبل عليه النبي ﷺ بوجهه (تعرف) (٩) المساءة في (وجهه) (١٠) فقال: "إن اللَّه أبى علي فيمن قتل مؤمنًا"، ⦗٣٧٢⦘ ثلاث مرات يقول ذلك (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ میرے پاس اور میرے ایک ساتھی کے پاس تشریف لائے ، اور فرمایا : تم دونوں آؤ اس لیے کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ جوان ہو اور مجھ سے زیادہ حدیث کو محفوظ کرنے والے ہو راوی کہتے ہیں : ہم دونوں چلے یہاں تک کہ ہم لوگ حضرت بشر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ کے پاس آئے۔ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ نے فرمایا : اپنی بات ان دونوں کو بیان کرو۔ انہوں نے فرمایا؛ کہ حضرت عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو اس لشکر نے ایک قوم پر حملہ کردیا پس ایک آدمی قوم سے الگ ہوگیا اور لشکر والوں میں سے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اس حال میں کہ اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی۔ پس قوم سے الگ ہونے والا شخص کہنے لگا : بلاشبہ میں مسلمان ہوں۔ پس اس نے اس کی بات پر غور نہیں کیا اور اس پر حملہ کردیا اور قتل کردیا پھر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی گئی ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں سخت بات کہی۔ جب قاتل کو یہ خبر پہنچی تو اس درمیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو قاتل نے کہا : اے اللہ کے نبی ﷺ! خد ا کی قسم اس نے ایسا نہیں کہا تھا مگر صرف قتل سے بچنے کے لیے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اور اس کے ساتھ جو لوگ ملے ہوئے تھے ان سے اعراض کیا۔ اس شخص نے دو مرتبہ ایسا کہا : ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے اعراض کیا۔ اس نے بھی صبر نہیں کیا تیسری مرتبہ یہ بات کہنے سے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکار فرمایا مومن کو قتل کرنے والے کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35320
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٢٤٩٠)، والنسائي في الكبرى (٨٥٩٣)، وابن حبان (٥٩٧٢)، والحاكم ١/ ١٨، وابن سعد ٧/ ٤٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٤٢)، وأبو يعلى (٦٨٢٩)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٤٥، والطحاوي ٣/ ٢٠٨، والطبراني ١٧/ (٩٨٠)، والبيهقي ٩/ ١١٦، والخطيب في المتفق (٢٧٣)، وابن قانع ٢/ ٢٧٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٥٩، والمزي ٢٠/ ٢٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35320، ترقيم محمد عوامة 33780)
حدیث نمبر: 35321
٣٥٣٢١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا أبان بن عبد اللَّه قال: حدثني إبراهيم ابن جرير عن جرير قال: إن نبي اللَّه ﷺ بعثني إلى اليمن أقاتلهم وأدعوهم، فإذا قالوا: لا إله إلا اللَّه، حرمت عليكم أموالهم ودماؤهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ یمن کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے قتال کروں اور میں ان کو اسلام کی طرف بلاؤں۔ اور جب انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا۔ تو تم پر ان کے اموال اور ان کی جانیں حرام ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35321
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35321، ترقيم محمد عوامة 33781)
حدیث نمبر: 35322
٣٥٣٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن (حسين) (١) عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٢) على عهد أبي بكر أراد أبو بكر أن يجاهدهم، فقال عمر: أتقاتلهم وقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه حرم ماله إلا بحقه وحسابه على اللَّه"، فقال أبو بكر: (أنى) (٣) لا نقاتل من فروا بين الصلاة والزكاة؟ واللَّه لأقاتلن من (فرق) (٤) بينهما حتى (٥) أجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه فكان رشدًا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم (قال) (٦): اختاروا مني خصلتين: ⦗٣٧٣⦘ إما حربا مجلية وإما (الخطة) (٧) المخزية، فقالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما (الخطة) (٨) المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وعلى قتلاكم أنهم في النار -ففعلوا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مرتد ہوئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ رضی اللہ عنہان لوگوں سے قتال کریں گے حالانکہ تحقیق آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقینا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ رب العزت کے ذمہ اس کا حساب ہوگا ؟ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں قتال نہ کروں اس شخص سے جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے ؟ اللہ کی قسم ! میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا۔ یہاں تک کہ میں ان دونوں کو جمع کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اس حال میں کہ وہ واقعی ہدایت پر تھے۔ پھر جب آپ رضی اللہ عنہان میں سے جتنے بھی لوگوں پر فتح یاب ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرو لو۔ یا تو جلا وطن کرنے والی جنگ یا پھر رسوا کردینے والی زمین ۔ ان لوگوں نے کہا : کہ جلا وطن کردینے والی جنگ تو ہم سمجھ گئے۔ یہ رسوا کردینے والی زمین سے کیا مراد ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ تم ہمارے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقینا جنت میں ہیں اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقینا جہنم میں ہیں پس ان لوگوں نے ایسا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35322
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة تابعي، ورواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، وقد ورد الحديث بنحوه وبدون آخره من طريق عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35322، ترقيم محمد عوامة 33782)
حدیث نمبر: 35323
٣٥٣٢٣ - حدثنا معمر عن ابن مبارك عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35323
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٢)، وأحمد (١٣٠٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35323، ترقيم محمد عوامة 33783)