حدیث نمبر: 35293
٣٥٢٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن (أبي) (١) مالك الأشجعي عن نعيم بن أبي هند عن ابن سمرة بن جندب عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل فله السلب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص قتل کرے تو مقتول کا مال قتل کرنے والے کے لیے ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 35294
٣٥٢٩٤ - حدثنا وكيع عن أبي العميس عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل فله السلب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا دفرمایا : جو شخص قتل کرے تو مقتول کا مال قاتل کا ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 35295
٣٥٢٩٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أنس (أن) (١) رسول اللَّه ﷺ قال يوم حنين: "من قتل قتيلًا ⦗٣٦٢⦘ فله سلبه"، فقتل أبو طلحة يومئذ عشربن رجلا فأخذ أسلابهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین والے دن ارشاد فرمایا : جو شخص کسی آدمی کو قتل کرے گا تو مقتول کا مال اسی کو ملے گا، پس حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا مال لے لیا۔
حدیث نمبر: 35296
٣٥٢٩٦ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه عن سعد بن أبي وقاص قال: لما كان يوم بدر قتلت سعيد بن العاص وأخذت سيفه، وكان (سيفه) (١) يسمى (ذا الكتيفة) (٢)، قال: وقتل أخي عمير، فجئت بالسيف إلى النبي ﷺ قال: "فاذهب فاطرحه في القبض"، فرجعت وبي ما لا يعلمه إلا اللَّه من قتل أخي وأخذ (سيفي) (٣)، فما لبثت إلا قليلا حتى نزلت سورة الأنفال، فدعاني رسول اللَّه ﷺ (قال) (٤): فقال: "اذهب فخذ سيفك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب غزوہ بدر کا دن تھا تو میں نے حضرت سعید بن عاصی کو قتل کیا اور میں نے ا س کی تلوار لے لی اور اس کی تلوار کا نام ذوالکتیفہ تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ میرے بھائی عمیر کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ پس میں تلوار لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اس تلوار کو مقبوضہ مال غنیمت میں ڈال دو ۔ پس میں لوٹا اس حال میں کہ میرے دل میں میرے بھائی کے قتل اور مقتول کا مال لینے سے متعلق جو بات تھی وہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔ میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ اتنے میں سورة الانفال نازل ہوگئی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : جاؤ اپنی تلوار لے لو۔
حدیث نمبر: 35297
٣٥٢٩٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن نافع عن ابن عمر قال: غزا ابن عمر العراق فقال له (١) عمر: بلغني أنك بارزت دهقانا؟ قال: نعم، فأعجبه ذلك فنفله سلبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عراق میں جنگ کے لیے تشریف لے گئے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے ایک جاگیر دار سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر تعجب ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو اس مقتول کا مال بطور زائد دیا۔
حدیث نمبر: 35298
٣٥٢٩٨ - حدثنا أبو الأحوص عن (الأسود) (١) بن قيس عن شبر بن علقمة قال: بارزت رجلًا يوم القادسية من الأعاجم فقتلته (وأخذت) (٢) سلبه، فأتيت سعدا، فخطب سعد أصحابه ثم قال: هذا سلب شبر (٣)، لهو خير من اثني عشر ألف درهم، وإنا قد نفلناه إياه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے جنگ قادسیہ کے دن اہل عجم میں سے ایک آدمی کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں نے اس کو قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا پھر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے خطاب کیا اور فرمایا : یہ شبر کا مال ہے۔ اور یہ بارہ ہزار درہم سے بہتر ہے۔ اور یقینا ہم نے یہ مال ان کو بطور زائد دے دیا۔
حدیث نمبر: 35299
٣٥٢٩٩ - حدثنا (عيسى) (١) بن يونس عن ابن عون وهشام عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال ابن عون: بارز البراء بن مالك وقال هشام: حمل البراء بن مالك على مرزبان (الزارة) (٢) يوم الزارة، وطعنه طعنة (في) (٣) (قربوس) (٤) سرجه فقتله وسلبه سواريه ومنطقته، فلما قدمنا صلى عمر الصبح ثم أتانا فقال: أثَمَّ أبو طلحة، فخرج إليه فقال: إنا كنا لا نخمس السلب، وإن سلب البراء مال، فخمسُه (يبلغ) (٥) ستة آلاف، بلغ ثلاثين ألفًا، قال محمد: فحدثني أنس بن مالك أنه أو (ل) (٦) سلب خمس في الإسلام (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ حضرت ابن عون اور حضرت ہشام ان دونوں سے اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں ۔ حضرت ابن عون نے یوں فرمایا کہ حضرت براء بن مالک رحمہ اللہ نے مقابلہ کیا اور حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن مالک رحمہ اللہ نے جنگ زارہ کے دن مرزبان زارہ پر حملہ کردیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ابھرے ہوئے کنارے میں گھس گیا اور وہ مرگیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے کنگن اور کمر بند لے لیے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم واپس لوٹے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ اتنے میں حضرت ابو طلحہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نکل آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا ہم مقتول کے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ لیکن براء کے مقتول کا سامان بہت زیادہ مال ہے پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے خمس وصول کیا جو چھ ہزار بنا اس لیے کہ اس کی کل قیمت تیس ہزار تھی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا : کہ اسلام میں یہ پہلا مقتول سے چھینا ہوا سامان تھا جس میں سے خمس وصول کیا گیا۔
حدیث نمبر: 35300
٣٥٣٠٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن حسان عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال: كان السلب (لا) (١) يخمس، فكان أول سلب خُمّس في الإسلام سلب البراء بن مالك، وكان حمل على مرزبان الزأرة فطعنه بالرمح حتى دق (قربوس) (٢) السرج، ثم نزل إليه فقطع منطقته وسواريه، قال: فلما قدمنا المدينة صلى عمر بن الخطاب صلاة الغداة، ثم (أتانا) (٣) (٤) فقال: السلام عليكم أثم أبو طلحة، فقال: نعم، فخرج إليه فقال عمر: إنا كنا لا نخمس السلب، وإن سلب البراء (بن مالك) (٥) مال وإني خامسه، فدعا المقومين (فقوموا) (٦) ثلاثين ألفا فأخذ (منه) (٧) ستة آلاف (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلا خمس جو مقتول کے مال سے لیا گیا وہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے مقتول کے سامان سے لیا گیا ۔ اس طرح کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مرزبان زارہ پر حملہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ایک سرے میں گھس گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس کی کمر بند اور اس کے کنگنوں کو کاٹ کر اتار لیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کرنے کے بعد پوچھا : کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! میں ہوں۔ اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نکل آئے ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ اور یقینا براء کے مقتول کا سامان بہت بڑا مال ہے۔ یقینا میں اس کا خمس لوں گا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے قیمت لگانے والوں کو بلایا تو انہوں نے اس کی تیس ہزار قیمت لگائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے چھ ہزار وصول کرلیے۔
حدیث نمبر: 35301
٣٥٣٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: حدثت عن أبي قتادة الأنصاري أنه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل قتيلًا فله سلبه"، قال: فقلت: يا رسول اللَّه، قد قتلت قتيلًا (ذا سلب) (١) ثم (أجهضني) (٢) عنه القتال فما أدري من سلبه، قال رجل من أهل مكة: صدق يا رسول اللَّه، قد قتل قتيلًا فسلبته فأرضه عني، قال أبو بكر: لا واللَّه لا تفعل، تنطلق إلى (أسد) (٣) ⦗٣٦٥⦘ (من) (٤) أسد اللَّه (٥) يقاتل عنه تقاسمه؟ فقال رسول اللَّه قول: "صدق، ادفع إليه سلبه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا مال قاتل کا ہوگا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے ایک بہت سامان والے شخص کو قتل کیا تھا پھر لڑائی نے مجھے اس سے مشغول کردیا ۔ میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سامان اتار لیا ؟ مکہ کا ایک شخص کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے سچ کہا : تحقیق اس نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پس میں نے اس کا سامان اتار لیا اب آپ رضی اللہ عنہ اس کو میری طرف سے خوش کردیں۔ حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کا مال دوسروں میں تقسیم فرما دیں گے ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر نے سچ کہا : تم اس کا سامان اسے دے دو ۔
حدیث نمبر: 35302
٣٥٣٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال: بارزت رجلًا فقتلته، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل هذا؟ "، قال: ابن الأكوع، قال: "له سلبه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے ایک آدمی سے مقابلہ کیا اور میں نے اسے قتل کردیا ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اس شخص کو کس نے قتل کیا ؟ لوگوں نے کہا : ابن اکوع نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس مقتول کا مال ابن اکوع کے لیے ہوگا۔
حدیث نمبر: 35303
٣٥٣٠٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الكريم عن عكرمة أن الزبير بارز رجلًا فقتله قال: فنفله النبي ﷺ سلبه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے مقابلہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کا مال انہیں بطور زائد کے دیا۔
حدیث نمبر: 35304
٣٥٣٠٤ - حدثنا وكيع عن (أبيه) (١) عن أبي إسحاق عن أبي (عبيدة) (٢) قال: قال عبد اللَّه: نفلنا رسول اللَّه ﷺ سيفه -يعني أبا جهل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ابو جہل کی تلوار زائد مال کے طور پردے دی۔
حدیث نمبر: 35305
٣٥٣٠٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأسود بن قيس العبدي عن شبر بن علقمة قال: لما كان يوم القادسية قام رجل من أهل فارس (فدعا إلى المبارزة وذكر من عظمه فقام إليه رجل قصير يقال له شبر بن علقمة قال: فقال به الفارسي) (١) هكذا -يعني احتمله ثم ضرب به الأرض فصرعه، قال: فأخذ شبر خنجرًا كان مع الفارسي فقال (به) (٢) في بطنه، -يعني (فخضخضه) (٣)، ثم انقلب عليه فقتله ثم جاء بسلبه إلى سعد، فقوم اثني عشر ألفا فنفله إياه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن قیس العبدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ جب جنگ قادسیہ کا دن تھا تو اہل فارس میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلہ کے لیے للکارا اور اپنی بڑائی بیان کی۔ تو ایک چھوٹا سا آدمی جس کو شبر بن علقمہ کہتے ہیں۔ وہ کھڑا ہوا۔ اس پر اس ایرانی نے کہا : یہ آدمی یعنی اس نے غصہ کا اظہار کیا پھر اس نے اس شخص کو زمین پر گرا یا اور پچھاڑ دیا۔ اتنے میں شبر نے خنجر پکڑا جو اس ایرانی کے پاس تھا۔ اور اس کے پیٹ میں اس کو گاڑ دیا اس طرح کر کے اس دوران حضرت شبر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر دکھلایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کے اوپر آگئے اور اس کو قتل کردیا ۔ پھر آپ اس سے چھینا ہوا مال لے کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے اس کی بارہ ہزار قیمت لگائی اور یہ مال آپ رضی اللہ عنہ کو بطور زائد کے عطا کردیا۔
حدیث نمبر: 35306
٣٥٣٠٦ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: سمعت نافعًا يقول: لم نزل نسمع منذ قط: إذا التقى المسلمون والكفار فقتل رجل من المسلمين رجلا من الكفار فإن سلبه له إلا أن يكون في معمعة القتال فإنه لا يدري من قتل قتيلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ بچپن سے ہمیشہ یوں ہی سنتے آئے ہیں کہ جب مسلمان اور کفار کا آمنا سامنا ہو پھر مسلمانوں کا ایک آدمی کفار کے ایک آدمی کو قتل کر دے تو اس مقتول کا سامان قتل کرنے والے کا ہوگا ۔ مگر یہ کہ وہ جنگ کی شدت میں ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ اس نے کس کو قتل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 35307
٣٥٣٠٧ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن الأوزاعي عن ابن شهاب عن القاسم قال: سئل ابن عباس عن السلب (فقال) (١): لا سلب إلا من النفل، وفي النفل الخمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مال سلب کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : سلب کا مال تو زائد عطیہ ہے ، اور زائد عطیہ میں خمس ہوتا ہے۔