حدیث نمبر: 35262
٣٥٢٦٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن أبي (سعد) (١) عن محمد ابن عبيد اللَّه الثقفي قال: كان لعمر أربعة آلاف فرس على (آري) (٢) بالكوفة موسومة على أفخاذها، في سبيل اللَّه، فإن كان في عطاء الرجل حقه أو كان محتاجا أعطاه الفرس، ثم قال: إن أجريتَه فأعييتَه أو ضيعته من علف فأنت ضامن، وإن قاتلت عليه فأصيب أو أصبت فليس عليك شيء (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ میں مویشی باندھنے کی جگہ میں چار ہزار گھوڑے تھے۔ سب کی رانوں پر اللہ کے راستہ میں وقف ہونے کا نشان لگا ہوا تھا۔ اگر کسی آدمی کی سالانہ تنخواہ کا کوئی حق ہوتا یا کوئی ضرورت مند ہوتا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کو گھوڑا دے دیتے۔ پھر فرماتے : اگر تو نے اس کو بھگا بھگا کر عاجز کردیا یا تو نے اس کے چارہ کی وجہ سے ضائع کردیا تو تم اس کے ضامن ہو گے۔ اور اگر تم نے اس پر قتال کیا پس یہ مرگیا یا تم مرگئے۔ تو تم پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔