کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو؟
حدیث نمبر: 35247
٣٥٢٤٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أن عيونا لمسيلمة أخذوا رجلين من المسلمين فأتوه بهما فقال لأحدهما: أتشهد أن محمدا رسول اللَّه؟ قال: نعم، (فقال) (١): أتشهد أن محمدًا رسول اللَّه؟ قال: نعم، قال: أتشهد أني رسول اللَّه؟ قال: فأهوى إلى أذنيه فقال: إني أصم، قال: ما لك إذا قلت لك: (تشهد) (٢) أني رسول اللَّه قلت: إني أصم، فأمر به فقتل، وقال للآخر: (أتشهد) (٣) أن محمدًا رسول اللَّه؟ قال: نعم (فقال) (٤): أتشهد أني رسول اللَّه؟ قال: نعم، فأرسله، فأتى النبي ﷺ فقال: (يا) (٥) رسول اللَّه هلكت، قال: "وما شأنك؟ "، ⦗٣٤٩⦘ (فأخبره) (٦) بقصته وقصة صاحبه، فقال: "أما صاحبك فمضى على إيمانه، وأما أنت فأخذت بالرخصة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے جاسوسوں نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کو پکڑ لیا اور وہ ان دونوں کو مسیلمہ کذاب کے پاس لے گئے۔ اس نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پھر پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ان صحابی نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں تو بہرا ہوں۔ مسیلمہ کذاب نے کہا : تجھے کیا مصیبت ہے جب میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو تو کہتا ہے کہ میں بہرا ہوں ؟ پس اس نے حکم دیا اور ان صحابی کو قتل کردیا گیا۔ مسیلمہ کذاب نے دوسرے شخص سے کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پھر پوچھا : کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! پس اس نے اس ان کو چھوڑ دیا : یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ہلاک ہوگیا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا ہوا ؟ انہوں نے اپنا اور اپنے ساتھی کا واقعہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہر حال تیرا ساتھی تو ایمان کی حالت میں مرا ، اور رہے تم تو تم نے رخصت پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 35248
٣٥٢٤٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مخارق بن خليفة (١) عن طارق بن شهاب عن سلمان قال: دخل رجل الجنة في ذباب ودخل رجل النار (في ذباب) (٢)، (قال) (٣): مر رجلان على قوم قد عكفوا على صنم لهم وقالوا: لا يمر (علينا) (٤) اليوم أحد إلا قدم شيئًا، فقالوا لأحدهما: قدم شيئا، فأبى فقتل، وقالوا للآخر: قدم شيئًا، فقالوا: قدم ولو ذبابًا، فقال: (وإيش) (٥) ذباب، فقدم ذبابًا فدخل النار، فقال سلمان: فهذا دخل الجنة في ذباب، ودخل هذا النار في ذباب (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور ایک آدمی مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس طرح کہ دو آدمی ایک قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں کی عبادت میں مشغول تھی انہوں نے کہا آج ہم پر کوئی نہیں گزرے گا مگر یہ کہ وہ کچھ نہ کچھ پیش کرے گا ، تو انہوں نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا : کوئی چیز پیش کرو۔ اس نے انکار کردیا تو اسے قتل کردیا گیا۔ انہوں نے دوسرے سے کہا : کوئی چیز پیش کرو، وہ کہنے لگا، میرے پاس تو کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پیش کرو اگرچہ مکھی ہی ہو۔ اس آدمی نے دل میں کہا : کہ صرف مکھی پیش کروں ؟ اور اس نے مکھی پیش کردی پس یہ شخص جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس پر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ شخص مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور یہ شخص مکھی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔
حدیث نمبر: 35249
٣٥٢٤٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) جرير بن حازم عن قيس بن سعد عن عطاء في رجل أخذه العدو فأكرهوه على شرب الخمر وأكل الخنزير، قال: إن أكل وشرب فرخصة، وإن قتل أصاب خيرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اس شخص کے بارے میں جس کو دشمن نے پکڑ لیا اور اس کو شراب پینے اور خنزیر کھانے پر مجبور کیا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر وہ خنزیر کھاتا ہے اور شراب پی لیتا ہے۔ تو یہ رخصت ہے۔ اور اگر اسے قتل کردیا جاتا ہے تو ا س نے بھلائی کو پا لیا۔
حدیث نمبر: 35250
٣٥٢٥٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن برد عن مكحول قال: ليس في الخمر رخصة، لأنها لا تروي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : شراب پینے میں رخصت نہیں ہے اس لیے کہ یہ کبھی سیراب نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 35251
٣٥٢٥١ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن عمر بن عطية قال: سمعت أبا جعفر يقول: التقية لا تحل (إلا كما تحل) (١) الميتة للمضطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تقیہ حلال نہیں ہے مگر اس طرح جیسا کہ مردار مجبور کے لیے حلال ہے۔
حدیث نمبر: 35252
٣٥٢٥٢ - حدثنا مروان عن عوف عن الحسن قال: التقية جائزة للمؤمن إلى يوم القيامة، إلا أنه كان لا يجعل في (القتل) (١) تقية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : تقیہ کرنا مومن کے لیے قیامت کے دن تک جائز ہے مگر یہ کہ وہ کسی کو قتل کرنے میں تقیہ نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 35253
٣٥٢٥٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن رجل عن ابن عباس قال: التقية إنما هي باللسان ليست باليد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : تقیہ کرنا زبان سے ہوتا ہے ہاتھ سے نہیں۔
حدیث نمبر: 35254
٣٥٢٥٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن أبي جعفر عن الربيع عن أبي العالية: ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [آل عمران: ٢٨]، قال: التقية باللسان وليس بالعمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا : ترجمہ : مگر یہ کہ تم بچنا چاہو ان کے شر سے کسی قسم کا بچنا۔ کہ تقیہ کرنا زبان سے ہوتا ہے عمل سے نہیں۔
حدیث نمبر: 35255
٣٥٢٥٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية قال: سمعته يقول: لا إيمان لمن لا تقية له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان کامل نہیں۔
حدیث نمبر: 35256
٣٥٢٥٦ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان عن أبيه عن الحارث بن سويد عن عبد اللَّه قال: (ما) (١) من كلام أتكلم به بين يدي (سلطان) (٢) يدرأ عني (به) (٣) ما بين سوط إلى سوطين إلا كنت متكلما به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کوئی کلام ایسا نہیں ے جو میں کسی بادشاہ کے سامنے کروں اور وہ مجھے اس کے ایک دو کوڑوں سے بچا سکتا تو میں ضرور وہ کلام کروں گا۔
حدیث نمبر: 35257
٣٥٢٥٧ - حدثنا (وكيع عن) (١) شريك عن جابر عن أبي جعفر قال: التقية أوسع ما بين السماء إلى الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : تقیہ تو آسمان اور زمین کے مابین خلاجتنی وسعت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 35258
٣٥٢٥٨ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن الحسن بن الحسن قال: إنما التقية رخصة، والفضل القيام بأمر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت الحسن بن الحسن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : یقینا تقیہ کرنا تو رخصت ہے۔ افضل تو اللہ کے حکم پر قائم رہنا ہے۔
حدیث نمبر: 35259
٣٥٢٥٩ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: قال حذيفة: إني أشتري ديني بعضه ببعض مخافة أن يذهب كله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ یقینا میں نے اپنے دین کے بعض حصہ کو بعض حصہ کے عوض خرید لیا اس خوف سے کہ دین سارا ہی نہ چلا جائے۔
حدیث نمبر: 35260
٣٥٢٦٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن (عبد الملك) (١) بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال: دخل ابن مسعود وحذيفة على عثمان فقال عثمان لحذيفة: بلغني أنك قلت كذا وكذا؟ قال: لا واللَّه ما قلته، فلما خرج قال له عبد اللَّه: (سألك) (٢) فلم (تقر له) (٣) ما سمعتك تقول؟ (قال) (٤): إني أشتري ديني بعضه ببعض مخافة أن يذهب كله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نزال بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ددونوں حضرات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے اس طرح اور اس طرح کہا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! میں نے ایسا نہیں کہا : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چلے گئے تو حضرت عبداللہ نے ان سے کہا : انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور میں نے جو آپ کو بات کرتے ہوئے سنا تھا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا اقرار ہی نہیں کیا ؟ انہوں نے فرمایا : یقینا میں نے اپنے دین کے بعض حصہ کو بعض حصے کے ساتھ خرید لیا اس خوف سے کہ دین سارا ہی نہ چلا جائے۔