کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے حکمران کے بارے میںیوں کہا: کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا؟
حدیث نمبر: 35234
٣٥٢٣٤ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن أبيه قال: أقطع رسول اللَّه ﷺ أرضًا من أرض بني النضير فيها نخل (وشجر) (١) وأقطع أبو بكر وعمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر سے حاصل ہونے والی زمینوں میں سے ایک ٹکڑا جس میں کھجور کے درخت اور دوسرے درخت تھے بانٹ دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بانٹ دی۔
حدیث نمبر: 35235
٣٥٢٣٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا هشام بن عروة عن أبيه أن النبي ﷺ أقطع الزبير أرضا من أرض بني النضير فيها نخل، وأن أبا بكر أقطع الزبير (الجرف) (١)، وأن عمر أقطعه العقيق أجمع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کی زمینوں میں سے ایک زمین کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو مالک بنادیا ۔ اس زمین میں کھجور کے درخت بھی تھے ۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دریا کے کنارے زمین کا مالک بنایا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک پوری وادی کا مالک بنایا۔
حدیث نمبر: 35236
٣٥٢٣٦ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه أن النبي ﷺ أقطع الزبير أرضا فيها (نخل) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو کھجور کے درختوں والی زمین کا مالک بنا یا۔
حدیث نمبر: 35237
٣٥٢٣٧ - حدثنا شريك عن إبراهيم بن المهاجر قال: سألت موسى بن طلحة فحدثني أن عثمان أقطع خبابا أرضا (وعبد اللَّه أرضًا) (١) وسعدا أرضًا وصهيبا أرضا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے پوچھا تو آپ رحمہ اللہ نے مجھے بیان فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو الگ الگ زمینوں کا مالک بنا یا۔
حدیث نمبر: 35238
٣٥٢٣٨ - حدثنا (سلام) (١) عن إبراهيم بن مهاجر عن موسى بن طلحة أن عثمان أقطع خمسة من أصحاب النبي ﷺ: ابن مسعود وسعدا والزبير وخبابا وأسامة بن زيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے پانچ اشخاص کو زمین دی ان میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔
حدیث نمبر: 35239
٣٥٢٣٩ - حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه أن عمر أقطع عليًا ينبع وأضاف إليها غيرها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک چشمہ کا مالک بنایا اور اس کے علاوہ مزید اضافہ بھی فرما دیا۔
حدیث نمبر: 35240
٣٥٢٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: أتى عمر رجل من ثقيف يقال له: نافع أبو عبد اللَّه، قال: فكان أول من افتلى الفلا بالبصرة، (قال) (١): فقال: يا (أمير) (٢) المؤمنين (إن) (٣) قبلنا أرضًا بالبصرة ليست من أرض الخراج، ولا تضر بأحد من المسلمين، فإن رأيت أن (تقطعنيها) (٤) أتخذها قضبا لخيلي فافعل، قال: فكتب عمر إلى أبي موسى إن كان كما قال: فأقطعها إياه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک شخص آیا جس کا نام نافع ابو عبد اللہ تھا ۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ کی بےآب وگیاہ وادی کو چراگاہ بنایا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! ہماری طرف بصرہ میں ایک زمین ہے جو خراج کی زمین نہیں ہے اور نہ وہ مسلمانوں میں کسی کو نقصان پہنچائے گی اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہ میرے نام کردیں میں اس میں اپنے گھوڑوں کے لیے گھاس اُگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہایسا کردیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ اگر بات ایسے ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ تو تم وہ زمین اس کے نام کردو۔
حدیث نمبر: 35241
٣٥٢٤١ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: ثنا ابن (عون) (١) قال: ثنا رجل من بني زريق قال: أقطع أبو بكر طلحة أرضًا، وكتب له بها كتابا، وأشهد به شهودا (فيهم) (٢) عمر، فأتى طلحة عمر بالكتاب فقال: أختم على هذا، قال: لا أختم عليه، هذا لك دون الناس؟ فانطلق طلحة وهو مغضب، فأتى (أبا بكر) (٣) فقال: واللَّه ما أدري أنت الخليفة ⦗٣٤٦⦘ أو عمر؟ قال: (لا) (٤)، بل عمر (لكنه) (٥) (أبى) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو زریق کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک زمین کردی اور ان کے لیے اس بارے میں ایک تحریر بھی لکھ دی اور اس پر گواہ بھی بنا دیے جن میں حضرت عمر بھی شامل تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تحریر لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اس پر مہر لگا دو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس پر مہر نہیں لگاؤں گا ۔ کیا یہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف تیرے لیے ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ چلے گئے اس حال میں کہ وہ بہت غصہ میں تھے ۔ پس وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ تم خلیفہ ہو یا عمر ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ عمر رضی اللہ عنہ نے تو صرف انکار کیا ہے !
حدیث نمبر: 35242
٣٥٢٤٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا حسن بن صالح عن جعفر أن النبي ﷺ أقطع عليًا (الفقيرين) (١) (وبئر) (٢) قيس والشجرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فقیرین مقام پر زمین اور قیس کا کنواں اور درخت کا مالک بنایا۔
حدیث نمبر: 35243
٣٥٢٤٣ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر عن يحيى بن قيس (المأربي) (١) عن رجل عن أبيض بن حمال أنه استقطع النبي ﷺ الملح الذي بمأرب، فأراد أن يقطعه، فقال رجل لرسول اللَّه ﷺ: إنه كالماء العد، فأبى أن يقطعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن قیس رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ابیض بن حمّال نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مارب کے مقام میں ایک کھارا کنواں مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنواں ان کو دینے کا ارادہ فرما لیا۔ اتنے میں ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ وہ تو جاری پانی کی طرح ہے جو مسلسل چلتا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ دینے سے انکار فرما دیا۔
حدیث نمبر: 35244
٣٥٢٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: لم يقطع أبو بكر ولا عمر ولا علي، وأول من أقطع القطائع عثمان وبيعت أرضون في إمارة عثمان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زمینیں دیں نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے، سب سے پہلے جس نے زمینوں کا مالک بنایا وہ حضرت عثمان تھے۔ حضرت عثمان رحمہ اللہ کے زمانہ خلافت میں زمینیں فروخت کی گئیں۔
حدیث نمبر: 35245
٣٥٢٤٥ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن حجاج بن دينار عن ابن سيرين عن عبيدة أن أبا بكر أقطع الأقرع بن حابس وعيينة بن حصن (١)، وكتب عليها كتابًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن ان دونوں کو زمین دی۔ اور ان دونوں کے لیے ایک تحریر بھی لکھ دی۔