کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے یوں کہا: اس آدمی کے بارے میں جو دشمن کے علاقہ میں کوئی کام کرتا ہو
حدیث نمبر: 35232
٣٥٢٣٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن خالد بن أبي عمران قال: قلت للقاسم بن محمد وسالم بن عبد اللَّه: إن لنا غلامًا يعمل الفخار بأرض العدو ثم يبيع فتجتمع النفقة (١) وينفق علينا، قال: لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن أبی عمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور حضرت سالم بن عبد اللہ ان دونوں حضرات سے پوچھا : کہ ہمارا ایک غلام ہے جو دشمن کے علاقہ میں کمہار کا کام کرتا ہے ۔ پھر ان برتنوں کو فروخت کرتا ہے اور اس کے پاس کافی مال جمع ہوجاتا ہے تو وہ ہم پر بھی اس میں سے خرچ کرتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 35233
٣٥٢٣٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن (١) زياد عن خالد بن أبي عمران قال: قلت: للقاسم بن محمد وسالم بن عبد اللَّه: الرجل يكون منا في أرض العدو فيصيد (الحيتان) (٢) ويبيع فتجتمع له الدراهم قال: لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور حضرت سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہان دونوں حضرات سے پوچھا : ہم میں سے ایک آدمی جو دشمن کے علاقہ میں ہوتا ہے پس وہ مچھلیاں شکار کرتا ہے اور ان کو فروخت کرتا ہے ۔ پھر اس کے پاس بہت درہم جمع ہوجاتے ہیں ۔ ان کا کیا حکم ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔