کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے یوں کہا اس شخص کے بارے میں جس کو دارالحرب میں قید کر لیا گیا ہو کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 35213
٣٥٢١٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: سئل عطاء عن الرجل من أهل الذمة (يؤخذ) (١) في أهل الشرك؛ فيقول: لم (أرد عونهم) (٢) عليكم، وقد اشترطوا عليه أن لا يأتيهم، فكره قتله إلا ببينة، قال: وقال حينئذ لعطاء بعض أهل العلم: إذا نقض شيئًا واحدا مما عليه فقد نقض الصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے پوچھا گیا اس ذمی شخص کے بارے میں جس کو مشرکین کی زمین میں پکڑ لیا گیا اس نے کہا : کہ میرا تمہارے خلاف ان کی مدد کرنے کا ارادہ نہیں تھا… اور تحقیق ان لوگوں نے اس پر یہ شرط لگا دی کہ وہ مسلمانوں کے پاس نہیں آئے گا ؟ تو آپ رحمہ اللہ نے اس کے قتل کو مکروہ سمجھا مگر گواہی کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں : کہ اس وقت بعض اہل علم نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے فرمایا : جو چیز اس پر لازم تھی جب اس میں سے ایک چیز ختم کردی تو تحقیق صلح ختم ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 35214
٣٥٢١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن الحسن في أهل الذمة إذا نقضوا العهد فليس على الذرية (شيء) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ نے ذمیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : جب وہ معاہدہ توڑ دیں تو ان کی اولاد پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔