کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مذہبی عقائد کے لیے بنائے گئے مکانات، جیسے مساجد (عبادت گاہوں)، کنائس (عیسائیوں کی عبادت گاہوں)، اور بيوت النار (مجوسیوں کی عبادت گاہوں) کو تباہ کرنے کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟
حدیث نمبر: 35192
٣٥١٩٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن (حنش) (١) عن عكرمة قال: قيل (لابن عباس) (٢) أللعجم أن يحدثوا في أمصار المسلمين بناء أو بيعة، فقال: أيما مصر مصرته العرب فليس للعجم أن يبنوا فيه بناء، أو قال: بيعة، ولا (يضربوا) (٣) فيه ناقوسا ولا (يشربوا) (٤) فيه (خمرا) (٥)، ولا (يتخذوا) (٦) فيه خنزيرا أو (تدخلوا) (٧) فيه، (وأما) (٨) مصر مصرته العجم يفتحه اللَّه على العرب ونزلوا -يعني على حكمهم- فللعجم ما في عهدهم، وللعجم على العرب أن يوفوا بعهدهم ولا يكلفوهم فوق طاقتهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا عجمیوں کو اختیار ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے شہروں میں کوئی عمارت یاکلیسا بنالیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رہے وہ شہر جن کو عربوں نے آباد کیا تو عجمیوں کو اختیار نہیں کہ وہ اس شہر میں کوئی عمارت بنائیں یا یوں فرمایا : کہ ان میں کلیسا بنائیں۔ اور نہ ہی وہ اس میں ناقوس بجا سکتے ہیں۔ اور وہ اس میں شراب پییں گے اور نہ ہی وہ اس میں خنزیر رکھ سکتے ہیں یا یوں فرمایا کہ نہ ہی وہ اس میں خنزیر داخل کرسکتے ہیں۔ اور رہا وہ شہر جس کو عجمیوں نے آباد کیا پس اللہ نے اہل عرب کو اس پر غلبہ دے دیا اور وہ شہر میں اترے تو عجمی کو اختیار ہوگا جو ان سے معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق کریں۔ اور عجمیوں کا اہل عرب پر حق ہے کہ وہ ان سے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔ اور ان کی طاقت سے زیادہ کا ان کو مکلف مت بنائیں۔
حدیث نمبر: 35193
٣٥١٩٣ - حدثنا حفص بن غياث عن أبي بن عبد اللَّه قال: جاءنا كتاب عمر بن عبد العزيز لا تهدم بيعة ولا كنيسة ولا بيت نار صولحوا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اُبیّ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا خط آیا کہ کلیساؤں یہودی گرجا گھروں اور آتش کدوں کو منہدم نہیں کیا جائے گا اور ان پر مصالحت کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 35194
٣٥١٩٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل عن الكنائس تهدم؟ قال: لا، إلا ما كان منها في (الحرم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے یہودی گرجا گھروں سے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا ان کو گرا دیا جائے گا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں سوائے ان کو جو حرم میں واقع ہیں ان کو گرا دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 35195
٣٥١٩٥ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن أنه كان يكره أن تترك البيع في أمصار المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ مسلمانوں کے شہروں میں کلیساؤں کے باقی رکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 35196
٣٥١٩٦ - حدثنا عبد الأعلى عن عوف عن الحسن قال: قد صولحوا على أن يخلى بينهم وبين النيران والأوثان في غير الأمصار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : غیر مسلموں سے اس بات پر صلح کی جائے گی کہ شہروں کے علاوہ دیگر مقامات میں ان کے درمیان اور ان کی آتش اور بتوں کے درمیان راستہ خالی چھو ڑدیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 35197
٣٥١٩٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: حدثني ابن سراقة أن أبا عبيدة بن الجراح كتب لأهل دير طبايا: أني أمنتكم على دمائكم وأموالكم وكنائسكم أن تهدم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سراقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رحمہ اللہ نے اہل دیر کے پادریوں کو خط لکھا کہ بلاشبہ میں نے تمہیں امن دیا تمہاری جانوں کا، تمہارے مالوں کا اور تمہارے گرجا گھروں کو گرائے جانے سے۔
حدیث نمبر: 35198
٣٥١٩٨ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن حبيب بن شهيد عن محمد ابن سيرين أنه كان لا يترك لأهل فارس صنما إلا كسر، ولا نارا إلا أطفئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اہل فارس کے کسی بھی بت کو نہیں چھوڑا جائے گا مگر یہ کہ اس کو توڑ دیا جائے گا۔ اور نہ ہی کسی آگ کو چھوڑا جائے گا مگر یہ کہ اس کو بجھا دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 35199
٣٥١٩٩ - حدثنا عبد الأعلى عن عوف قال: شهدت عبد اللَّه بن عبيد بن معمر أتي بمجوسي (بنى) (١) بيت نار بالبصرة فضرب عنقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضر ت عبد اللہ بن عبید بن معمر رحمہ اللہ کے پاس حاضر تھا کہ ایک آتش پرست کو لایا گیا جس نے بصرہ میں آتش کدہ بنایا تھا۔ آپ رحمہ اللہ نے اس کی گردن اڑا دی۔