کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس ذمی شخص کا بیان جو اسلام لے آئے ، جس نے یوں کہا: اس سے جزیہ ہٹا لیا جائے گا
حدیث نمبر: 35149
٣٥١٤٩ - حدثنا هشيم عن حصين أن رجلين من أهل (أُلَّيْس) (١) أسلما في عهد عمر قال: فأتيا عمر فأخبراه بإسلامهما فكتب لهما إلى عثمان بن حنيف أن يرفع الجزية عن رءوسهما ويأخذ الطسق من (أرضيهما) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل الیس میں سے دو آدمیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسلام قبول کیا۔ پس وہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے اسلام کے بارے میں بتلایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے بارے میں حضرت عثمان بن حنیف رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ وہ ان سے جزیہ ختم کردیں۔ اور اس کی زمین کا خراج لیں۔
حدیث نمبر: 35150
٣٥١٥٠ - حدثنا هشيم عن سيار عن الزبير (بن) (١) عدي اليامي أن دهقانا أسلم على عهد علي، فقال (له) (٢) علي: إن أقصت في أرضك رفعنا الجزية عن رأسك وأخذناها (من أرضك) (٣)، وإن تحولت عنها فنحن أحق بها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی الیامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک جاگیر دار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسلام لایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اگر تم اپنی زمین میں ہی قائم رہو گے تو ہم تمہارے سر سے جزیہ ختم کردیں گے۔ اور تمہاری زمین سے عشر لیں گے۔ اور اگر تم وہاں سے منتقل ہو جاؤ گے تو ہم اس زمین کے زیادہ حقدار ہیں۔
حدیث نمبر: 35151
٣٥١٥١ - حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن قيس عن أبي عون محمد بن عبيد اللَّه الثقفي عن عمر وعلي قالا: إذا أسلم وله أرض (وضعنا) (١) عنه الجزية وأخذنا خراجها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب کوئی ذمی اسلام لے آئے اور اس کی کوئی زمین بھی ہو تو ہم ا س سے جزیہ ختم کردیں گے اور اس کی زمین کا خراج وصول کریں گے۔
حدیث نمبر: 35152
٣٥١٥٢ - [(حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن) (١) قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب أن دهقانة من أهل نهر الملك أسلمت، فقال عمر: ادفعوا إليها أرضها تؤدي عنها الخراج] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نھر الملک والوں میں سے ایک جاگیر دار عورت اسلام لے آئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی زمین اس کو لوٹا دو ، وہ اس کا خراج ادا کرے گی۔
حدیث نمبر: 35153
٣٥١٥٣ - حدثنا وكيع ثنا حسن بن صالح عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب أن دهقانة أسلمت فكتب عمر أن خيروها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ ایک جاگیر دار عورت اسلام لے آئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا : کہ اس عورت کو انتخاب کرنے کا موقع دو ۔
حدیث نمبر: 35154
٣٥١٥٤ - حدثنا وكيع (١) ثنا سفيان عن جابر عن عامر أن الرفيل دهقان النهرين أسلم (ففرض) (٢) له عمر في ألفين، ورفع عن رأسه الجزية، ودفع إليه أرضه يؤدي عنها الخراج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رفیل جو نھرین کا جاگیردار تھا وہ اسلام لے آیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے دو ہزار عطیہ مقرر کردیا۔ اور س کے سر سے جزیہ ہٹا دیا ، ور اس کی زمین اس کو واپس کردی کہ وہ اس کا خراج ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 35155
٣٥١٥٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن منصور عن إبراهيم قال: إذا أسلم الرجل من أهل السواد ثم أقام بأرضه أخذ منه الخراج، فإن خرج منها لم يؤخذ منه الخراج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب شہر والوں میں سے کوئی آدمی اسلام لے آتا پھر وہ اپنی زمین میں ہی مقیم رہتا تو اس سے خراج وصول کیا جاتا تھا۔ اگر وہ اس جگہ سے نکل جاتا تو اس سے خراج وصول نہیں کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 35156
٣٥١٥٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا محمد بن قيس عن عامر قال: لم يكن لأهل السواد عهد فلما رضوا منهم بالجزية صار لهم عهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : شہر والوں کے لیے کوئی عہد نہیں تھا، پس وہ لوگ ان کی جانب سے جزیہ پر راضی ہوجاتے تو یہ ہی ان کا معاہدہ ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 35157
٣٥١٥٧ - [حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: ليس لأهل السواد عهد، إنما نزلوا على الحكم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : شہر والوں کے لیے کوئی عہد نہیں ہے۔ یہ تو وہ لوگ ہی فیصلہ کریں گے ۔
حدیث نمبر: 35158
٣٥١٥٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أشعث عن ابن سيرين قال: السواد بعضه صلح (وبعضه) (١) عنوة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : شہر میں بعضوں سے صلح ہوتی ہے اور بعض کو قیدی بناتے ہیں۔
حدیث نمبر: 35159
٣٥١٥٩ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: لما أسلم الهرمزان و (الفيرزان) (٢) قال (لهما) (٣) عمر: (إنما بكما) (٤) الجزية، إن الإسلام لحقيق أن يعيذ من الجزية (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہرمزان اور فیرزان اسلام لے آئے تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا : بیشک تم دونوں پر جزیہ ہوگا۔ اگرچہ اسلام کا حق تو یہ ہے کہ وہ جزیہ سے بچا لے۔