کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: سفر میں چلتے ہوئے آہستگی اور تیزی چھوڑنے کا بیان اور جو شخص فوج کے پچھلے حصہ میں رہنے کو محبوب رکھتا ہو
حدیث نمبر: 35143
٣٥١٤٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي أن عمر بن عبد العزيز أوصى عامله في الغزو أن لا يركب دابة إلا دابة تضبط سيرها، أضعف دابة في الجيش.
مولانا محمد اویس سرور
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے لشکر پر مقرر امیر کو وصیت فرمائی کہ وہ کسی جانور پر سوار نہیں ہوگا۔ مگر ایسے جانور پر کہ جس کی چال لشکر میں موجود تمام جانوروں سے سست ہو۔
حدیث نمبر: 35144
٣٥١٤٤ - حدثنا ابن مبارك عن أمية الشامي قال: كان مكحول ورجاء بن حيوة يختاران الساقة لا يفارقانها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امیۃ الشامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول اور حضرت رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ لشکر کے پچھلے حصہ کو پسند کرتے تھے اور یہ دونوں اس حصہ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 35145
٣٥١٤٥ - حدثنا ابن (مبارك) (١) عن جميع بن عبد اللَّه المقرى أن عمر بن عبد العزيز نهى البريد أن يجعل في طرف السوط (حديدة) (٢) أن ينخس بها الدابة، قال: ونهى عن (اللجم) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جُمیع بن عبد اللہ المقری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس بات سے منع فرمایا : کہ قاصد کوڑے کے آخر میں لوہا لگائے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ جانور کو تیز دوڑائے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے لگاموں سے بھی منع فرمایا۔