حدیث نمبر: 35136
٣٥١٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي حازم قال: دخل الزبير على عمار أو عثمان بعد وفاة عبد اللَّه، فقال: أعطني عطاء عبد اللَّه، فعيال عبد اللَّه أحق به من بيت المال، قال: فأعطاه خمسة عشر ألفًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا : حضرت عبد اللہ کی سالانہ تنخواہ مجھے دو ۔ اس لیے کہ حضرت عبد اللہ کے اہل خانہ بیت المال سے زیادہ اس کے حقدار ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس انہوں نے ان کو پندرہ ہزار درہم عطا کردیے۔
حدیث نمبر: 35137
٣٥١٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا علي بن صالح عن سماك بن حرب عن أشياخ الحي قالوا: مات رجل وقد مضى له ثلثا السنة فأمر له عمر بن الخطاب بثلثي عطائه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن حرب حضرت الحی رحمہ اللہ کے شیوخ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : ایک آدمی مرگیا ا س حال میں کہ سال کا تہائی حصہ گزر چکا تھا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے سالانہ تنخواہ کے دو تہائی حصہ کی ادائیگی کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 35138
٣٥١٣٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني عباس أن المطلب بن عبد اللَّه بن قيس بن مخرمة أخبره أن امرأة (شكت إلى) (١) عائشة الحاجة، قالت: وما لك؟ قالت: كنا نأخذ عطاء إنسان ميت فرفعناه، فقالت عائشة: لم فعلتم؟ أخرجتم (سهمًا) (٢) من فيء اللَّه كان يدخل عليكم أخرجتموه من بينكم، وذلك في زمان عمر بن الخطاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطلب بن عبد اللہ بن قیس بن مخرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی ضرورت کی شکایت کی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تجھے کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگی : ہم لوگ ایک مردہ انسان کی سالانہ تنخواہ لیتے تھے پس اب ہم نے اس کو ختم کردیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تم نے اللہ کے مال سے وہ حصہ نکال دیا جو تم پر داخل ہوتا تھا اور تم نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا ! اور یہ واقعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کا ہے۔
حدیث نمبر: 35139
٣٥١٣٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو المقدام هشام بن زياد مولى لـ (عثمان عن أبيه أن عثمان كان يورث العطاء) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المقدام ہشام بن زیاد جو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سالانہ تنخواہ کا وارث بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 35140
٣٥١٤٠ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن أبي (حيان) (١) عن عامر قال: لا بأس أن يؤخذ للميت عطاؤه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میت کے سالانہ عطیہ کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 35141
٣٥١٤١ - حدثنا وكيع قال: ثنا قيس عن جابر عن مولى لعلي بن حسين عن علي بن حسين قال: لا بأس أن يؤخذ للميت عطاؤه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میت کے سالانہ عطیہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 35142
٣٥١٤٢ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن معقل قال: كان عمر بن عبد العزيز إذا مات الرجل وقد استكمل (السنة) (١) أعطى ورثته عطاءه كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی مرجاتا اس حال میں کہ سال مکمل ہوچکا ہوتا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اس کے ورثہ کو اس کا سالانہ عطیہ عطا فرما دیتے تھے۔