کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
حدیث نمبر: 35108
٣٥١٠٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن هارون بن عنترة (عن أبيه) (١) قال: كان أبي صديقا لقنبر، قال: انطلقت مع قنبر إلى علي فقال: يا أمير المؤمنين قم معي، قد خبات لك خبيئة، فانطلق معه إلى (بيته) (٢)، (فإذا أنا) (٣) بسلة مملوءة جامات من ذهب وفضة، فقال: يا أمير المؤمنين، إنك لا تترك إلا شيئًا قسمته أو أنفقته، فسل سيفه فقال: ويلك، لقد أحببت أن تدخل بيتي نارًا كبيرة ثم استعرضها بسيفه فضربها فانتثرت بين إناء مقطوع نصفه وثلثه، قال: عَلَيَّ بالعرفاء، فجاؤا فقال: اقسموا هذه بالحصص، قال: ففعلوا وهو يقول: يا صفراء يا بيضاء (غري) (٤) غيري قال: وجعل يقول: ⦗٣٠٧⦘ هذا (جناي) (٥) وخياره فيه … إذ كل (جان) (٦) يده إلى فيه (٧) قال: (و) (٨) في بيت المال مسال وإبر، وكان يأخذ من كل قوم خراجهم من عمل أيديهم، قال: وقال للعرفاء: اقسموا (هذا) (٩)، قالوا: لا حاجة لنا فيه، قال: والذي نفسي بيده لنقسمنه خيره مع شره (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد قنبر کے دوست تھے۔ وہ فرماتے ہیں میں قنبر کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! اُٹھیئے ! میرے ساتھ چلیے۔ تحقیق میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ مال پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے۔ تو وہاں ایک ٹوکری سونے اور چاندی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک آپ رضی اللہ عنہ کوئی چیز نہیں چھوڑتے مگر یہ کہ اس کو تقسیم کردیتے ہیں یا اس کو خرچ کردیتے ہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونت لی۔ اور فرمایا : ہلاکت ہو۔ تو چاہتا ہے کہ تو میرے گھر میں اتنی بڑی آگ داخل کر دے ! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بےدھیانی میں اپنی تلوار سیدھی کی اور اس ٹوکری پر ماری تو اس کا آدھا اور ایک تہائی کٹے ہوئے برتن کے درمیان بکھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نگرانوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ لوگ آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس مال کو حصوں میں تقسیم کرو۔ انہوں نے ایسا کردیا اور آپ رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے تھے : اے سونا چاندی ! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ میں ڈالنا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ یہ شعر بھی پڑھ رہے تھے۔ ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ ۔ راوی کہتے ہیں : بیت المال میں چھوٹی اور بڑی سوئیاں تھیں۔ جو آپ رضی اللہ عنہ لوگوں سے بطور خراج کے وصول کرتے تھے ان کے ہاتھوں کی محنت کے بقدر، آپ رضی اللہ عنہ نے نگرانوں سے کہا : ان کو تقسیم کرلو۔ انہوں نے کہا : ہمیں اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ۔ ہم ضرور تقسیم کریں گے اس مال کو اس کی برائی کے ساتھ ہی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35108
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عنترة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35108، ترقيم محمد عوامة 33571)
حدیث نمبر: 35109
٣٥١٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن الحسن بن الحكم النخعي قال: حدثتني أمي عن أم (عثمان) (١) أم ولد لعلي (قالت) (٢): جئت عليًا وبين يديه قرنفل مكبوب في الرحبة، فقلت: يا أمير المؤمنين، هب لابنتي من هذا القرنفل قلادة (٣)، فقال: هكذا، ونقر بيده (أدني درهمًا) (٤)، فإنما هذا مال المسلمين، وإلا فاصبري حتى يأتي حظنا منه لنهب لابنتك قلادة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عفان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد ہیں۔ کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اس حال میں کہ ان کے سامنے صحن میں لونگ کے رنگ کا ہار پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! یہ لونگ کے رنگ کا ہار میری بیٹی کو ہبہ کردیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا : یہ والا۔ میں درہم کے قریب ہوگئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مسلمانوں کا مال ہے مگر تو صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمارا حصہ بھی آجائے تو ہم یہ ہار تیری بیٹی کو ہبہ کردیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35109
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35109، ترقيم محمد عوامة 33572)
حدیث نمبر: 35110
٣٥١١٠ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي صالح الذي كان يخدم أم كلثوم بنت علي قال: قالت: يا أبا صالح، كيف لو رأيت أمير ⦗٣٠٨⦘ المؤمنين وأتي بأترج، فذهب حسن (أو) (١) حسين يتناول منه أترجة، (فانتزعها) (٢) من يده، (وأمر به) (٣) (فقسمها) (٤) بين الناس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح رحمہ اللہ جو حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ ا کی خدمت کیا کرتے تھے فرماتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اے ابو صالح ! تیرا کیا حال ہوتا اگر تو امیر المؤمنین کو دیکھ لیتا اس حال میں کہ ان کے پاس مالٹے لائے گئے اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ گئے اور ان میں سے ایک مالٹا لے لیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سے وہ مالٹا چھین لیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور ان مالٹوں کو فوراً لوگوں میں تقسیم کردیا گیا ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35110
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو صالح هو الحنفي كما في فضائل الصحابة لأحمد (٩٠١)، وشرح مشكل الآثار ١١/ ١٢٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35110، ترقيم محمد عوامة 33573)
حدیث نمبر: 35111
٣٥١١١ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد (العمي) (١) عن مالك بن دينار عن الحسن أن رجلا سأل النبي ﷺ زمام شعر من الفيء فقال رسول اللَّه ﷺ: " (يسألني) (٢) زمامًا من النار، ما كان ينبغبى لك أن تسألنيه وما ينبغي لي أن أعطيكه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال غنیمت میں موجود بالوں سے بنی ہوئی لگام مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مجھ سے آگ کی لگام مانگ رہا ہے۔ اور تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ تو اس کا مجھ سے سوال کرے۔ اور نہ میرے لیے مناسب ہے کہ یہ میں تجھے عطا کردوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35111
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35111، ترقيم محمد عوامة 33574)
حدیث نمبر: 35112
٣٥١١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن إبراهيم بن (المهاجر) (١) عن قيس ابن أبي حازم الأحمسي قال: أتى رسول اللَّه ﷺ رجل بكبة من شعر من الغنيمة فقال: يا رسول اللَّه هبها لي فإنا أهل بيت (يعالج) (٢) الشعر، قال: "نصيبي منها لك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم احمس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے ایک بالوں کا بنا ہو اکپڑا لایا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ ہدیہ کردیں پس میں گھر بار والا ہوں اس کے ذریعہ بالوں کا علاج کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں سے جو میرا حصہ ہوگا وہ تیرا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35112
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس بن أبي حازم تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35112، ترقيم محمد عوامة 33575)
حدیث نمبر: 35113
٣٥١١٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا بن أبي ذئب عن العباس بن (فضل) (١) عن (أبيه فضل) (٢) بن رافع عن جده أبي رافع قال: كنت خازنا لعلي قال: زينتُ ابنته بلؤلؤة من المال قد عرفها، فرآها عليها، فقال: من أين لها هذه؟ إنَّ قال: زينتُ ابنته بلؤلؤة من المال قد عرفها، فرآها عليها، فقال: من أين لها هذه؟ إنَّ للَّه علي أن أقطع يدها، قال: فلما رأيت ذلك قلت: يا أمير المؤمنين زينت بها بنت أخي، ومن أين كانت تقدر عليها؟ فلما رأى ذلك سكت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت رافع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خزانچی تھا۔ میں نے مال میں سے ایک موتی کا ہار آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو پہنا دیا جسے آپ رضی اللہ عنہ نے پہچان لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ ہار اس پر دیکھا تو فرمایا : اس کے پاس یہ کہاں سے آیا ؟ یقینا اللہ رب العزت نے مجھ پر یہ بات لازم کردی ہے کہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں۔ راوی فرماتے ہیں : کہ میں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! یہ ہار میں نے اپنی بھتیجی کو پہنایا تھا ورنہ یہ کہاں اس پر قدرت رکھ سکتی ہے ؟ جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35113، ترقيم محمد عوامة 33576)
حدیث نمبر: 35114
٣٥١١٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد الرحمن بن عجلان البرجمي عن جدته قالت: كان علي يقسم فينا (الأبزار) (١) (بصرر) (٢): (صرة) (٣) الكمون و (الحرف) (٤) وكذا وكذا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عجلان البرجمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی دادی نے فرمایا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان مصالحہ خوشوں سمیت تقسیم فرماتے تھے۔ زیرہ کے خوشے اور رائی کے دانوں کے خوشے اتنی اور اتنی مقدار میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35114، ترقيم محمد عوامة 33577)
حدیث نمبر: 35115
٣٥١١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا ربيع بن حسان عن أمه قالت: كان علي يقسم فينا الورس والزعفران (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے فرمایا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان ہلدی اور زعفران تقسیم فرماتے تھے۔ اور ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حجرہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بکھرے ہوئے دانوں کو دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو جمع کرنا شروع کردیا اور یوں فرما رہے تھے۔ اے آل علی رضی اللہ عنہ ! تم سیر ہوگئے !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35115، ترقيم محمد عوامة 33578)
حدیث نمبر: 35116
٣٥١١٦ - (قال) (١): فدخل علي الحجرة مرة فرأى حبا (منثورًا) (٢)، فجعل ⦗٣١٠⦘ يلتقط ويقول: شبعتم يا آل علي (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35116
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35116، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 35117
٣٥١١٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان (عن) (١) سعيد بن عبيد عن شيخ لهم أن عليا أتي برمان فقسمه بين الناس فأصاب مسجدنا سبع رمانات أو ثمان رمانات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن سعید بن عبید رحمہ اللہ اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے پاس انار لائے گئے ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا تو ہماری مسجد والوں کو سات یا آٹھ انار ملے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35117
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35117، ترقيم محمد عوامة 33579)
حدیث نمبر: 35118
٣٥١١٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن أبيه قال: أتي علي بدنان طلاء من غابات فقسمها بين المسلمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو مشکیزے جنگل میں سے دودھ کے بھر کر لائے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35118
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35118، ترقيم محمد عوامة 33580)
حدیث نمبر: 35119
٣٥١١٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عيينة بن عبد الرحمن بن (جوشن) (١) عن أبيه عن عبد الرحمن بن أبي (بكرة) (٢) قال: (ما) (٣) (رزأ) (٤) علي من (بيت) (٥) مالنا حتى فارقنا، إلا جبة محشوة و (خميصة) (٦) (درابجردية) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے بیت المال میں کسی چیز کی کمی نہیں کی سوائے اونی جبہ اور دل اور دی کرتے کے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ ہم سے جدا ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35119، ترقيم محمد عوامة 33581)
حدیث نمبر: 35120
٣٥١٢٠ - حدثنا (وكيع عن) (١) الأعمش عن أبي وائل عن مسروق عن عائشة (قالت) (٢): لما مرض أبو بكر مرضه الذي مات فيه قال: انظروا ما زاد في مالي منذ دخلت الإمارة فابعثوا به إلى الخليفة من بعدي، فإني قد كنت (أستحله) (٣) وقد كنت (أصيب) (٤) من الودك نحوا مما كنت (أصيب) (٥) في التجارة، قالت: فلما مات نظرنا فإذا عبد (نوبي) (٦) كان يحمل الصبيان، وإذا (ناضح) (٧) كان (يسني) (٨) عليه، (فبعثنا) (٩) بهما إلى عمر، قالت: فأخبرني (جريي) (١٠) -تعني: وكيلي- أن عمر (بكى) (١١) وقال: رحمة اللَّه على أبي بكر، لقد أتعب من بعده تعبًا شديدًا (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے جس بیماری میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ دیکھنا کہ میرے خلیفہ بننے کے بعد جو میرے مال میں اضافہ ہوا ہے تم اس مال کو میرے بعد بننے والے خلیفہ کے پاس بھیج دینا۔ تحقیق میں نے اس مال کو اپنے لیے جائز اور حلال سمجھا تھا۔ اور تحقیق مال ودک سے مجھے اتنا ہی نفع ہوا تھا جتنا مجھے تجارت میں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کے مال میں ایک مصری غلام کا اضافہ تھا جو بچوں کو سنبھالتا تھا اور ایک پانی لانے والا جو کنویں سے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے پانی لاتا تھا۔ ان دونوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے میرے وکیل نے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو۔ تحقیق انہوں نے اپنے بعد والوں کو بہت زیادہ مشقت میں ڈال دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35120
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ١٩٢، ومسدد كما في المطالب (٣٨٧٨)، والبيهقي ٦/ ٣٠٥٣، وابن عساكر ٣٠/ ٢٦٠، واللالكائي (٢٤٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35120، ترقيم محمد عوامة 33582)
حدیث نمبر: 35121
٣٥١٢١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن ابن سيرين عن الأحنف بن قيس قال: كنا جلوسًا بباب عمر فخرجت جارية فقلنا: سرية عمر (فقالت) (١): إنها ليست سرية لعمر، إني لا أحل لعمر، إني من مال اللَّه فتذاكرنا ⦗٣١٢⦘ بيننا ما يحل- (له من مال اللَّه، قال: فرقي ذلك إليه، فأرسل إلينا فقال: ما كنتم تذاكرون؟ فقلنا: خرجت علينا جارية، فقلنا: هذه سرية عمر، فقالت: إنها ليست بسرية عمر، إنها لا تحل لعمر، إنها من مال اللَّه، فتذاكرنا ما بيننا ما يحل) (٢) لك من مال اللَّه، فقال: أنا أخبركم بما استحل من مال اللَّه: حلة الشتاء (والقيظ) (٣)، وما أحج عليه وما أعتمر من الظهر، وقوت أهلي كرجل من قريش، ليس بأغناهم ولا بأفقرهم، أنا رجل من المسلمين يصيبني ما أصابهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک باندی نکلی ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی، تو وہ کہنے لگی کہ میں عمر کی باندی نہیں ہوں اور نہ میں عمر کے لیے حلال ہوں۔ میں تو اللہ کا مال ہوں۔ راوی فرماتے ہیں : پھر ہم لوگ آپس میں اس بات کا تذکرہ کرنے لگے کہ اللہ کے مال میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے کیا حلال ہیْ اس کی آواز حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا : تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : ہمارے پاس ایک باندی آئی تو ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی ، اس پر وہ کہنے لگی کہ وہ عمر کی باندی نہیں ہے، نہ ہی وہ عمر رضی اللہ عنہ کے لئے حلال ہے، بیشک وہ تو اللہ کا مال ہے۔ ادھر ہم نے اس بات کا تذکرہ شروع کردیا کہ اللہ کے مال میں سے کتنی مقدار آپ رضی اللہ عنہ کے لیے حلال ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ میں نے اللہ کے مال میں کتنی مقدار کو حلال سمجھا ہے۔ گرمی اور سردی کا ایک جوڑا اور جس سواری پر میں حج کرتا ہوں اور جس پر میں عمرہ کرتا ہوں۔ اور میرے گھرو الوں کا راشن جو قریش کے عام آدمی کے برابر ہے۔ نہ قریش کے مالداروں کی طرح ہے نہ ان کے فقراء کی طرح۔ اور میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں جو ضروریات ان کی ہیں وہی ضروریات مجھے بھی لاحق ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35121، ترقيم محمد عوامة 33583)
حدیث نمبر: 35122
٣٥١٢٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا المسعودي عن محارب بن دثار عن الأحنف بن قيس: أنهم كانوا جلوسًا بباب عمر، فخرجت عليهم جارية فقال لها بعض القوم: (أيطؤك) (١) (أمير) (٢) المؤمنين؟ قالت: إني لا أحل له، يعني أنها من الخمس، فخرج عمر فقال: أتدرون ما أستحل من هذا الفيء؟ ظهرًا أحج عليه وأعتمر، وحلتين حلة الشتاء والصيف، وقوت آل عمر، قوت أهل بيت رجل من قريش ليسوا بأرفعهم ولا (بأخسهم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ہمارے پاس ایک باندی نکل کر آئی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس سے پوچھا : کیا امیر المؤمنین نے تجھ سے وطی کی ہے ؟ وہ کہنے لگی : بلاشبہ میں ان کے لیے حلال نہیں ہوں۔ اس باندی کا مطلب یہ تھا کہ وہ مال خمس میں سے ہے اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے اور فرمانے لگے۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اس مال فئی میں سے اپنے لیے کتنی مقدار حلال سمجھی ہے ؟ ایک سواری جس پر میں حج کرتا ہوں اور عمرہ کرتا ہوں۔ اور دو کپڑوں کے جوڑے، سردیوں کا جوڑا اور گرمیوں کا جوڑا اور عمر کے اہل خانہ کا راشن جو قریش میں سے ایک آدمی کے اہل خانہ کے راشن کے برابر ہے جو نہ زیادہ مالدار ہو اور نہ ہی زیادہ غریب ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35122
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ روى وكيع عن المسعودي قبل اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35122، ترقيم محمد عوامة 33584)
حدیث نمبر: 35123
٣٥١٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب العبدي قال: قال عمر: إني أنزلت نفسي من مال اللَّه منزلة (مال) (١) اليتيم، إن ⦗٣١٣⦘ استغنيت (عنه) (٢) استعففت، وإن افتقرت أكلت بالمعروف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن مضرب العبدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یقینا میں نے اپنے نفس کو اللہ کے مال میں ایک یتیم کے مال کے درجہ میں اتارا ہے۔ اگر میں اس سے بےنیاز ہوتا ہوں تو میں برائی سے بچتا ہوں۔ اور اگر میں اس کا محتاج ہوا تو میں نے عطیہ کو کھایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35123
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ٤/ ٢٥٥، وابن سعد ٣/ ٢٧٦، وابن شبه (١١٤١)، وبنحوه النحاس في الناسخ والمنسوخ ١/ ٢٩٦، والبيهقي ٦/ ٣٥٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35123، ترقيم محمد عوامة 33585)
حدیث نمبر: 35124
٣٥١٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن (المبارك) (١) قال: ثنا أبان بن عبد اللَّه البجلي قال: حدثني عمرو ابن أخي (علباء) (٢) عن (علباء) (٣) قال: قال علي: مررت على رسول اللَّه ﷺ بإبل من إبل الصدقة فأخذ وبرة من ظهر بعير، فقال: "ما يحل لي من غنائمكم ما يزن هذه إلا الخمس وهو مردود عليكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے صدقہ کے اونٹوں میں سے چند اونٹ لے کر گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کی پشت سے تھوڑی سی اون لی اور فرمایا : میرے لیے تمہارے مال غنیمت سے اتنے وزن کے برابر بھی حلال نہیں ہے سوائے خمس کے۔ اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35124
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35124، ترقيم محمد عوامة 33586)
حدیث نمبر: 35125
٣٥١٢٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن سفيان عن الأسود بن قيس عن نبيح قال: اشترى ابن عمر بعيرين فألقاهما في إبل الصدقة فسمنا وعظما، وحسنت (هيئتهما) (١) قال: فرآهما عمر فأنكر (هيئتهما) (٢) فقال: لمن هذان؟ (قالوا) (٣): لعبد اللَّه بن عمر فقال: بعهما وخذ رأس مالك، ورد الفضل في بيت المال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نبی ح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دو اونٹ خریدے اور ان کو صدقہ کے اونٹوں میں چھوڑ دیا پس وہ دونوں خوب صحت مند اور بڑے ہوگئے۔ اور ان دونوں کی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں کو دیکھا تو ان کی حالت کو عجیب سمجھا اور پوچھا : یہ دونوں کس کے اونٹ ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان دونوں کو فروخت کرو اور تم اپنی اصل رقم لے لو۔ اور جو زائد رقم ہے وہ بیت المال میں لوٹا دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35125
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35125، ترقيم محمد عوامة 33587)
حدیث نمبر: 35126
٣٥١٢٦ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان قال: لما قدم (عتبة) (١) آذربيجان (أتى) (٢) بالخبيص فذاقه فوجده حلوًا، فقال: لو صنعتم لأمير المؤمنين من هذا، قال: فجعل له سفطين (عظيمين) (٣)، ثم حملهما على بعير مع رجلين فبعث (بهما) (٤) إليه، فلما قدما على عمر قال: أي شيء هذا؟ (قالوا) (٥): خبيص، فذاقه فإذا هو حلو، فقال: أكل المسلمين يشبع من هذا في رحله؟ قالوا: لا، قال: فردهما، ثم كتب إليه: أما بعد فإنه ليس (٦) من كد أبيلت ولا من كد أمك، أشبع المسلمين مما تشبع منه في رحلك (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ رحمہ اللہ جب آذر بائیجان آئے تو ان کے پاس حلوہ لایا گیا انہوں نے اس کو چکھا تو اس کو میٹھا پایا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر تم لوگ اس میں سے کچھ امیر المؤمنین کے لیے بناؤ تو بہت اچھا ہوگا پس انہوں نے دو بڑی ٹوکریاں آپ رضی اللہ عنہ کے لیے تیار کردیں پھر ان دونوں کو ایک اونٹ پر لاد کردو آدمیوں کے ساتھ ان کو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا پس جب وہ دونوں حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ حلوہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو چکھا : تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کو میٹھا اور مزیدارپایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا ان کے قافلہ میں تمام مسلمان اس سے سیر ہوئے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے یہ دونوں ٹوکریاں واپس لوٹا دیں پھر ان کی طرف خط لکھا : حمدو صلوۃ کے بعد، بلاشبہ نہ یہ تمہارے باپ کی کوشش سے ہے اور نہ تمہاری ماں کی کوشش سے ہے۔ جس چیز سے تم سیر ہوتے ہو اسی چیز سے اپنے قافلے میں موجود مسلمانوں کو سیر کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35126
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35126، ترقيم محمد عوامة 33588)
حدیث نمبر: 35127
٣٥١٢٧ - حدثنا (وكيع قال: ثنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: حدثني (عتبة) (٢) بن فرقد السلمي قال: قدمت على عمر بن الخطاب بسلال خبيص عظام مملوءة، لم (أر) (٣) أحسن (٤)، فقال: ما هذه؟ فقلت: طعام أتيتك به، إنك رجل تقضي من حاجات الناس أول النهار، فإذا رجعت أصبت منه قال: اكشف عن سلة منها، قال: فكشفت، قال: عزمت عليك إذا رجعت ⦗٣١٥⦘ ألا رزقت كل رجل من المسلمين منها سلة، قال: قلت: والذي يصلحك يا (أمير) (٥) المؤمنين لو أنفقت مال قيس كله ما بلغ ذلك، قال: فلا حاجة لي فيه، ثم دعا بقصعة فيها ثريد من خبز (خشن) (٦)، ولحم غليظ وهو يأكل معي أكلًا شهيًا، فجعلت أهوي إلى (البضعة) (٧) البيضاء أحسبها سنامًا فألوكها فإذا هي عصبة، وآخذ البضعة من اللحم فأمضغها فلا أكاد أسيغها، فإذا غفل عني جعلتها بين الخوان والقصعة، ثم قال: يا (عتبة) (٨) إنا ننحر كل يوم جزورًا، فأما ودكها وأطائبها فلمن حضر من آفاق المسلمين، وأما عنقها (فإلى) (٩) عمر (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد السلمی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بڑی ٹوکریاں حلوے سے بھری ہوئی لایا۔ میں نے اس سے زیادہ اور مزیدار حلوہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ کھانا میں آپ رضی اللہ عنہ کے لیے لایا ہوں۔ اس لیے کہ آپ رضی اللہ عنہایسے آدمی ہیں جو دن کا ابتدائی حصہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزارتے ہیں اور جب آپ رضی اللہ عنہ لوٹتے ہیں تو آپ اس وجہ سے تھک جاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹوکری سے کپڑا ہٹاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ہٹا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم جب واپس جاؤ تو مسلمانوں کے تما م آدمیوں کو اس ٹوکری میں سے حصہ دینا۔ میں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے اے امیرالمؤمنین آپ رضی اللہ عنہ کو درست رکھا ! اگر میں بنو قیس کا سارا مال بھی خرچ کر دوں تو وہ اتنی مقدار کو نہیں پہنچے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں بن چھنے آٹے اور سخت گوشت کی ثرید تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ میرے ساتھ اسے بہت پسند سے کھا رہے تھے۔ میں نے ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا میں اس کو کوہان کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کو چبایا تو وہ پیٹھے کا حلوہ نکلا۔ میں نے ایک گوشت کا ٹکڑا لیا میں نے اس کو چبایا پس وہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے تھوڑے سے غافل ہوئے تو میں نے اس ٹکڑے کو پیالہ اور دسترخوان کے درمیان رکھ دیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عتبہ ! یقینا ہم ہر روز ایک اونٹ نحر کرتے ہیں۔ اس کی چربی اور اچھا حصہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو مسلمان دور دراز سے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی گردن عمر کے لیے ہوتی ہے ! ! !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35127
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35127، ترقيم محمد عوامة 33589)
حدیث نمبر: 35128
٣٥١٢٨ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سليمان عن زيد بن وهب عن حذيفة قال: مررت والناس يأكلون ثريدًا ولحمًا، فدعاني عمر إلى طعامه، فإذا هو يأكل خبزًا غليظًا وزيتًا، فقلت: (منعتني) (٢) أن آكل مع الناس الثريد، ودعوتني إلى هذا؟ قال: إنما دعوتك لطعامي، وذاك للمسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں گزرا اس حال میں کہ لوگ ثرید اور گوشت کھا رہے تھے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے کھانے کی دعوت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ موٹی روٹی اور تیل کھا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے لوگوں کے ساتھ ثرید کھانے سے منع کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ ہی مجھے اس کی دعوت دے رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے تو تمہیں اپنے کھانے کی دعوت دی ہے۔ اور مسلمانوں کا کھانا تو وہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35128
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35128، ترقيم محمد عوامة 33590)