کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
حدیث نمبر: 35070
٣٥٠٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة أنه قدم على عمر من البحرين قال: فقدمت عليه (فصليت) (١) معه العشاء، فلما رآني سلمت عليه فقال: ما قدمت به؟ قلت: قدمتُ بخمسمائة ألف، قال: (تدري) (٢) ما تقول؟ قال: (٣) قدمت بخمسمائة ألف، (٤) قال: قلت: مائة ألف (و) (٥) مائة ألف (و) (٦) مائة ألف (و) (٧) مائة ألف (و) (٨) مائة (ألف) (٩) حتى (عد) (١٠) ⦗٢٩١⦘ خمسًا، قال: إنك ناعس، ارجع إلى بيتك فنم ثم اغد علي، قال: فغدوت عليه فقال: ما جئت به؟ قلت: بخمسمائة ألف، قال: طيب، (قلت: طيب) (١١)، لا أعلم إلا ذاك، قال: فقال للناس: إنه قدم علي مال كثير، فإن شئتم أن نعده لكم عدا، وإن شئتم أن نكيله لكم كيلًا، فقال رجل: يا أمير المؤمنين، إني رأيت هؤلاء الأعاجم يدونون ديوانا ويعطون الناس عليه، قال: فدوّن (الديوان) (١٢)، وفرض للمهاجرين في خمسة آلاف خمسة آلاف، وللأنصار في أربعة آلاف أربعة آلاف، وفرض لأزواج النبي ﷺ في اثني عشر ألفا اثني عشر ألفا (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ وہ بحرین سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آیا اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے فرمایا : تم کیا چیز ساتھ لائے ہو ؟ میں نے کہا : میں پانچ لاکھ ساتھ لایا ہوں۔ انہوں نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : میں پانچ لاکھ ساتھ لایا ہوں۔ انہوں نے فرمایا : تم کہہ رہے ہو کہ ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ۔ یہاں تک کہ انہوں نے پانچ مرتبہ شمار کیا۔ اور فرمایا : بیشک تمہیں اونگھ آرہی ہے۔ تم اپنے گھر جاؤ اور سو جاؤ۔ پھر کل میرے پاس آنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اگلے دن ان کے پاس آیا ۔ انہوں نے پوچھا : تم کیا لائے ہو ؟ میں نے کہا : پانچ لاکھ۔ انہوں نے پوچھا : واقعی ؟ میں نے کہا : واقعی : اور میں تو صرف یہی جانتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا : میرے پاس بہت زیادہ مال آیا۔ اگر تم چاہو تو میں مال تمہارے لیے شمار کروں اور اگر چاہو تو میں اس ما ل کو تمہارے لیے کیل کروں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک میں نے ان عجمیوں کو دیکھا ہے کہ وہ دیوان عدل مدون کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو عطا کرتے ہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیوان عدل مدون کروایا اور مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور انصار صحابہ رضی اللہ عنہ م کے لیے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35070
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٠٠، والبيهقي ٦/ ٣٤٩، والقزويني في التدوين ٤/ ١٧١، وابن عساكر ٤٤/ ٣٤٢، والبلاذري في فتوح البلدان ص ٤٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35070، ترقيم محمد عوامة 33535)
حدیث نمبر: 35071
٣٥٠٧١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: فرض عمر لأهل بدر (عريبهم) (٢) ومولاهم في خمسة آلاف خمسة آلاف، وقال: لأفضلنهم على من سواهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے بدری صحابہ رضی اللہ عنہ م اور ان کے غلاموں میں جو عربی النسل تھے ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیے اور فرمایا : کہ میں ضرور بالضرور ان کو غیروں پر فضیلت دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35071
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35071، ترقيم محمد عوامة 33536)
حدیث نمبر: 35072
٣٥٠٧٢ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن أبي إسحاق عن مصعب بن سعد أن عمر بن الخطاب فرض (لأهل بدر) (٢) في ستة آلاف ستة آلاف، وفرض لأمهات المؤمنين في عشرة آلاف (عشرة آلاف) (٣)، ففضل عائشة بألفين لحب النبي ⦗٢٩٢⦘ ﷺ إياها، إلا السبيتين: صفية بنت حيي وجويرية بنت الحارث فرض لهما ستة آلاف، وفرض لنساء من نساء المؤمنين في ألف ألف، منهن أم عبد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بدری صحابہ رضی اللہ عنہ م کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور امہات المومنین کے لیے دس دس ہزار ہزار مقرر فرمائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاص محبت ہونے کی وجہ سے ان کے لیے دو ہزار کا اضافہ فرما دیا۔ سوائے دو بیویوں حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا اور حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے کہ ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور مسلمانوں کی عورتوں میں سے چند عورتوں کے لیے ہزار ہزار مقرر فرمائے۔ ان عورتوں میں حضرت ام عبد بھی شامل تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35072
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35072، ترقيم محمد عوامة 33537)
حدیث نمبر: 35073
٣٥٠٧٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن بن (قيس) (١) عن أبيه قال: أتيت عليا بابن (عم) (٢) لي فقلت: يا أمير المؤمنين افرض لهذا، قال: أربع -يعني أربعمائة، قال: قلت: إن أربعمائة لا تغني شيئًا زده المائتين (التي) (٣) زدت الناس قال: فذاك له، وقد كان زاد الناس مائتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کو لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین : اس کے لیے بھی عطیہ مقرر فرما دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : چار سو درہم۔ میں نے عرض کیا : بیشک چار سو درہم اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے لیے دو سو درہم مزید بڑھا دیں۔ جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے بڑھائے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے لیے بھی بڑھا دیے۔ راوی کہتے ہیں : کہ آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے لیے دو سو درہم بڑھا دیے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35073
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35073، ترقيم محمد عوامة 33538)
حدیث نمبر: 35074
٣٥٠٧٤ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثني أبو معشر قال: حدثني (عمر) (٢) مولى غفرة و (غيره) (٣) قال: لما توفي رسول اللَّه ﷺ (جاء) (٤) مال من البحرين، فقال أبو بكر: من كان له على رسول اللَّه ﷺ شيء أو عدة فليقم فليأخذ؟ فقام جابر فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن جاءني (مال) (٥) من البحرين (لأعطيتك) (٦) هكذا وهكذا"، ثلاث مرار وحثى بيده، فقال له أبو بكر: قم فخذ بيدك، فأخذ فإذا هي خمسمائة درهم، فقال: عدوا له ألفًا، وقسم بين الناس ⦗٢٩٣⦘ عشرة دراهم عشرة دراهم وقال: إنما هذه مواعيد وعدها رسول اللَّه ﷺ (الناس) (٧) حتى إذا كان عام مقبل، جاءه مال أكثر من ذلك المال، فقسم بين الناس عشرين درهمًا، عشرين درهمًا، (وفضلت) (٨) منه فضلة، فقسم للخدم خمسة دراهم خمسة دراهم، وقال: إن لكم خدامًا يخدمونكم ويعالجون لكم، فرضخنا لهم، فقالوا: لو فضلت المهاجرين والأنصار (لسابقتهم) (٩)، ولمكانهم من رسول اللَّه ﷺ فقال: أجر أولئك على اللَّه، إن هذا المعاش (للأسوة) (١٠) فيه خير من الأثرة، قال: فعمل بهذا ولايته حتى إذا كانت سنة ثلاث عشرة في جمادى الآخرة (في) (١١) ليال بقين منه مات ﵁، فعمل عمر بن الخطاب ففتح الفتوح وجاءته الأموال، فقال: إن أبا بكر رأى في هذا الأمر رأيا، ولي فيه رأي آخر، لا أجعل من قاتل رسول اللَّه ﷺ كمن قاتل معه، ففرض للمهاجرين والأنصار (ممن) (١٢) شهد بدرًا خمسة آلاف خمسة آلاف، وفرض لمن كان له (إسلام) (١٣) كإسلام أهل بدر، ولم يشهد بدرا أربعة آلاف أربعة آلاف، وفرض لأزواج النبي ﷺ اثني عشر ألفا اثني عشر ألفًا، إلا صفية وجويرية، فرض لهما ستة آلاف ستة آلاف، فأبتا أن تقبلا، فقال لهما: إنما فرضت لهن للهجرة، فقالتا: إنما فرضت لهن لمكانهن من رسول اللَّه ﷺ، وكان لنا مثله، فعرف ذلك عمر ففرض لهما اثني عشر ألفا اثني عشر ألفا، وفرض للعباس اثني عشر ألفا، وفرض لأسامة بن زيد أربعة آلاف، وفرض لعبد اللَّه بن عمر ثلاثة ⦗٢٩٤⦘ آلاف، فقال: يا (أبة) (١٤) لم زدته علي ألفا؟ ما كان لأبيه من الفضل ما لم يكن لأبي، وما كان له لم يكن لي، فقال: إن أبا أسامةكان أحب إليّ رسول اللَّه ﷺ من أبيك، وكان أسامة أحب إليّ رسول اللَّه ﷺ (منك) (١٥)، وفرض لحسن وحسين خمسة آلاف خمسة آلاف، (و) (١٦) ألحقهما بأبيهما (١٧) لمكانهما من رسول اللَّه ﷺ، وفرض لأبناء المهاجرين والأنصار ألفين ألفين، فمر به عمر بن أبي سلمة فقال: زيدوه ألفا، فقال له محمد بن عبد اللَّه بن جحش: ما كان لأبيه ما لم يكن (لآبائنا) (١٨)، وما كان له ما لم يكن لنا، فقال: إني فرضت له بأبيه أبي سلمة ألفين، وزدته بأمه أم سلمة ألفا، فإن كانت (لك) (١٩) أم مثل أمه (زدتك) (٢٠) ألفا، وفرض لأهل مكة وللناس ثمانمائة ثمانمائة، فجاءه طلحة بن عبيد اللَّه (بأخيه) (٢١) عثمان، ففرض له ثمانمائة، فمر به النضر بن أنس فقال عمر: افرضوا له ألفين، فقال طلحة: جئتك بمثله ففرضت له ثمانمائة درهم، وفرضت لهذا ألفين! فقال: إن أبا هذا لقيني يوم أحد فقال لي: ما فعل رسول اللَّه ﷺ؟ فقلت: ما أراه إلا قد قتل، فسل سيفه فكسر غمده وقال: إن كان رسول اللَّه ﷺ قد قتل فإن اللَّه حي لا يموت، فقاتل حتى قتل، وهذا يرعى الشاء في مكان كذا وكذا، فعمل عمر (بدء) (٢٢) خلافته حتى كانت ⦗٢٩٥⦘ سنة ثلاث وعشرين حج تلك السنة فبلغه أن الناس يقولون: لو مات أمير المؤمنين قمنا إلى فلان فبايعناه، وإن كانت بيعةُ أبي بكر فلتةً، فأراد أن يتكلم في أوسط أيام التشريق فقال له عبد الرحمن بن عوف: يا أمير المؤمنين إن هذا مكان يغلب عليه غوغاء الناس ودهمهم ومن لا يحمل كلامك محمله، فارجع إلى دار الهجرة والإيمان، فتكلم (فيسمع) (٢٣) كلامك، فأسرع فقدم المدينة فخطب الناس وقال: (يا) (٢٤) أيها الناس أما بعد فقد بلغني ما قاله قائلكم: لو مات أمير المؤمنين قمنا إلى فلان فبايعناه وإن كانت بيعة أبي بكر فلتة، وأيم اللَّه إن كانت لفلتة وقانا اللَّه شرها، فمن أين لنا مثل أبي بكر نمد أعناقنا إليه كمدنا إلى أبي بكر، إنما ذاك (تغرة) (٢٥) (ليقتل) (٢٦)، من (انتزع) (٢٧) أمور المسلمين من غير مشورة فلا بيعة له، ألا وإني رأيت رؤيا ولا أظن ذاك إلا عند اقتراب أجلي، رأيت ديكا (تراءى) (٢٨) لي فنقرني ثلاث نقرات، فتأولت لي أسماء بنت عميس، (قالت) (٢٩): يقتلك رجل من أهل هذه الحمراء، فإن أمت فأمركم إلى هؤلاء الستة الذين توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنهم راض: إلى عثمان وعلي، وطلحة، والزبير، وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص، فإن اختلفوا فأمرهم إلى علي، وإن أعش فسأوصي ونظرت في العمة وبنت الأخ ما لهما، يورثان ولا يرثان، وإن أعش فسأفتح لكم أمرا تأخذون به، وإن أمت فسترون رأيكم، واللَّه خليفتي فيكم، وقد ⦗٢٩٦⦘ دونت لكم (دواوين) (٣٠) ومصرت لكم الأمصار، وأجريت لكم الطعام إلى (الجار) (٣١)، وتركتكم على واضحة، وإنما أتخوف عليكم رجلين: رجلًا قاتل على تأويل هذا القرآن يقتل، ورجلا رأى أنه أحق بهذا المال من أخيه فقاتل عليه حتى قتل، فخطب (نهار) (٣٢) الجمعة وطعن يوم الأربعاء (٣٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر جو کہ حضرت غفرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو بحرین سے بہت سا مال آیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض ہو یا مال ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ کھڑا ہو اور اس مال میں سے لے لے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : اگر میرے پاس بحرین سے مال آیا تو میں ضرور تمہیں اتنا اور اتنا مال عطا کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : اور ہاتھ سے چلو بھرا تھا۔ لہٰذا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور اپنے ہاتھ سے لے لو۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے لے لیا تو وہ پانچ سو درہم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو ہزار گن کر دے دو ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان دس دس دراہم تقسیم فرما دیے۔ اور فرمایا : یہ وہ وعدے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کیے تھے۔ ٢۔ یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو اس سے کہیں زیادہ مال آیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان بیس بیس دراہم تقسیم فرما دیے اور پھر بھی مال باقی بچ گیا۔ لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ نے غلاموں میں بھی پانچ پانچ دراہم تقسیم فرمائے اور فرمایا : بیشک تمہارے خادمین تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہارے معاملات نمٹاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو بھی کچھ مال عطا کردیا لوگوں نے کہا : اگر آپ رضی اللہ عنہ مہاجرین اور انصار کو سبقت لے جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بہتر مرتبہ کی وجہ سے فضیلت دیتے تو اچھا ہوتا ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں کا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک اس مال میں برابری بہتر ہے کسی کو ترجیح دینے سے۔ راوی کہتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں اسی طرح عمل کیا یہاں تک کہ ہجرت کے تیرہویں سال جمادی الاخری کی آخری راتوں میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی۔ ٣۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی اور بہت سی فتوحات ہوئیں۔ اور بہت سارا مال آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں ایک رائے اختیار کی اور میری اس معاملہ میں دوسری رائے ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قتال کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتال کرنے والے کے برابر نہیں کروں گا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار میں سے جن صحابہ رضی اللہ عنہ م نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور وہ مسلمان جو اسلام لانے میں بدریین ہی کی طرح تھے مگر غزوہ بدر میں نہ حاضر ہو سکے ان کے لیے آپ رضی اللہ عنہ نے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔ ٤۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات g کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے سوائے حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ ما کے۔ ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ ا ن دونوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا : بیشک میں نے ان سب کے لیے ہجرت کی وجہ سے اتنا مال مقرر فرمایا : اس پر ان دونوں نے فرمایا : کہ تم نے ان سب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہونے کی وجہ سے مقرر فرمایا ہے اور ہمارے لیے بھی ان ہی کی طرح ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھ لیا اور پھر ان دونوں کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے۔ ٥۔ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیے بھی بارہ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزار مقرر فرمائے۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اے ابا جان ! آپ نے اس کے لیے مجھ سے زیادہ ایک ہزار کیوں بڑھائے ؟ حالانکہ اس کے والد کو وہ فضیلت نہیں ہے جو میرے والد کو ہے اور اس کو وہ فضیلت حاصل نہیں ہے جو مجھے ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک اسامہ کا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھا ، اور خود اسامہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تیرے سے زیادہ محبوب تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور ان دونوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ان کو ان کے والد سے ملا دیا۔ ٦۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار صحابہ رضی اللہ عنہ م کے بیٹوں کے لیے دو دو ہزار مقرر فرمائے، پس حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہاپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے لیے ایک ہزار بڑھا دو ۔ اس پر حضرت محمد بن عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جو اس کے باپ کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے باپ کو نہیں اور جو اس کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے لیے نہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک میں نے اس کے والد حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے اس کے لیے دو ہزار مقرر فرمائے۔ اور اس کی والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اس کے لیے اضافہ کردیا پس اگر تیری والدہ بھی اس کی والدہ کی طرح ہوتی تو میں تیرے لیے بھی ایک ہزار کا اضافہ کردیتا۔ ٧۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے مکہ والوں کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے آٹھ آٹھ سو مقرر فرمائے ۔ پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہاپنے بھائی عثمان کو لے کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے آٹھ سو مقرر کیے۔ اور حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہاپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ا
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35074
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35074، ترقيم محمد عوامة 33539)
حدیث نمبر: 35075
٣٥٠٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: كان عطاء عبد اللَّه ستة آلاف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی سالانہ تنخواہ چھ ہزار تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35075
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35075، ترقيم محمد عوامة 33540)
حدیث نمبر: 35076
٣٥٠٧٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) عن إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد قال: فرض عمر لأهل بدر في ستة آلاف ستة آلاف، وفرض لأزواج النبي ﷺ مثل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بدری صحابہ رضی اللہ عنہ م کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے بھی اتنا اتنا حصہ مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35076
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35076، ترقيم محمد عوامة 33541)
حدیث نمبر: 35077
٣٥٠٧٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: اخبرنا إسرائيل عن إسماعيل بن سميع عن عمار (الدهني) (١) عن سالم بن أبي الجعد أن عمر جعل عطاء سلمان ستة آلاف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا سالانہ عطیہ چھ ہزار مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35077
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35077، ترقيم محمد عوامة 33542)
حدیث نمبر: 35078
٣٥٠٧٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يحيى بن عمرو بن سلمة الهمداني عن أبيه عن عبيدة السلماني قال: قال لي عمر: كم ترى الرجل يكفيه من عطائه؟ ⦗٢٩٧⦘ (قال) (١): قلت: كذا وكذا، قال: لإن بقيت لأجعلن عطاء الرجل أربعة آلاف: ألفًا لسلاحه، وألفًا لنفقته، وألفًا يجعلها في بيته، وألفًا لكذا وكذا، أحسبه قال لفرسه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تمہاری کیا رائے ہے کہ ایک آدمی کے لیے کتنی تنخواہ کافی ہوگی ؟ میں نے کہا : اتنی اور اتنی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میں باقی رہا تو میں ضرور بالضرور ایک آدمی کی چار ہزار تنخواہ مقرر کروں گا۔ ایک ہزار اس کے ہتھیار کے لیے۔ ایک ہزار اس کے خرچہ کے لیے ۔ اور ایک ہزار کو وہ گھر میں استعمال کرے ۔ اور ایک ہزار اس اس چیز کے لیے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کا ذکر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35078
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ يحيى ثقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35078، ترقيم محمد عوامة 33543)
حدیث نمبر: 35079
٣٥٠٧٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأسود بن قيس عن شيخ لهم قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: لئن بقيت إلى قابل لألحقن سفلة المهاجرين في ألفين ألفين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن قیس رحمہ اللہ اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں مہاجرین کے کم درجہ کے لوگوں کے لیے ضرور بالضرور دو ہزار دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35079
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35079، ترقيم محمد عوامة 33544)
حدیث نمبر: 35080
٣٥٠٨٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: لئن بقيت إلى قابل لألحقن (أخرى) (١) الناس بأولادهم ولأجعلنهم (ببانا) (٢) واحدا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں آخر والے لوگوں کو ضرور بالضرور پہلے والے لوگوں کے تابع کروں گا، اور میں ان سب کو برابر کر دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35080
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام بن سعد صدوق، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٦٥١)، والبيهقي ٦/ ٣٥٢، وابن عساكر ٤٤/ ٣٢٢، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٥٨، وابن سعد ٣/ ٣٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35080، ترقيم محمد عوامة 33545)
حدیث نمبر: 35081
٣٥٠٨١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) محمد بن قيس قال: حدثتني والدتي أم الحكم أن عليا ألحقها في مائة من العطاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ حضرت ام حکم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے عطیہ میں سو درہم ملا دیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35081
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35081، ترقيم محمد عوامة 33546)
حدیث نمبر: 35082
٣٥٠٨٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن أبي الحويرث أن عمر فرض للعباس سبعة آلاف، ولعائشة وحفصة عشرة آلاف، ولأم سلمة وأم حبيبة وميمونة ⦗٢٩٨⦘ (وسودة) (١) ثمانية آلاف ثمانية آلاف، وفرض لجويرية وصفية ستة آلاف ستة آلاف، وفرض لصفية بنت عبد المطلب نصف ما فرض لهن، فأرسلت أم سلمة وصواحبها إلى عثمان بن عفان فقلن له: كلم عمر فينا، فإنه قد فضل علينا عائشة وحفصة، فجاء عثمان إلى عمر فقال: إن أمهاتك يقلن لك: سوِّ بيننا، لا تفضل بعضنا على بعض، فقال: إن عشت إلى العام القابل زدتهن لقابل ألفين ألفين، فلما كان العام القابل جعل عائشة وحفصة في اثني عشر ألفا اثني عشر ألفا، وجعل أم سلمة وأم حبيبة في عشرة آلاف عشرة آلاف، وجعل صفية وجويرية في ثمانية آلاف ثمانية آلاف، فلما رأين ذلك سكتن عنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحویرث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیے سات ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے دس دس ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے لیے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت صفیہ بنت عبد الملک رضی اللہ عنہا کے لیے ان کے مقرر کردہ حصوں کا آدھا مقرر فرمایا۔ اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی ساتھیوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہمارے بارے میں بات کریں۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا : یقینا تیری مائیں تجھ سے کہہ رہی ہیں کہ ہمارے درمیان برابری کرو، اور ہم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت مت دو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو آئندہ ان کے لیے مزید دو دو ہزار کا اضافہ کروں گا۔ پس جب اگلا سال آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے دس دس ہزار مقرر فرما دیے۔ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرما دیے۔ جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تو سب خاموش ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35082
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35082، ترقيم محمد عوامة 33547)
حدیث نمبر: 35083
٣٥٠٨٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني أبي أن عمر بن الخطاب فرض لجبير بن مطعم (وضربائه) (١) أربعة آلاف أربعة آلاف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم عمروں کے لیے چا رچار ہزار مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35083
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35083، ترقيم محمد عوامة 33548)
حدیث نمبر: 35084
٣٥٠٨٤ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: - (قال) (١) أبو بكر أراه قد ذكر له إسنادا-: إن عمر بن الخطاب فرض لأسامة بن زيد ثلاثة آلاف وخمسمائة، (ولعبد) (٢) اللَّه بن عمر ثلاثة آلاف، فقال عبد اللَّه لعمر: فرضت لأسامة ثلاثة آلاف وخمسمائة وما هو بأقدم مني إسلامًا، ولا شهد ما لم أشهد، قال: فقال عمر: لأن زيد بن حارثة كان أحب إلى رسول اللَّه ﷺ من أبيك، وكان أسامة ⦗٢٩٩⦘ ابن زيد أحب إلى رسول اللَّه ﷺ (منك) (٣) فلذلك زدته عليك خمسمائة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے ساڑھے تین ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزارمقرر فرمائے۔ اس پر حضرت عبد اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ نے اسامہ بن زید کے لیے ساڑھے تین ہزار مقرر فرما دیے حالانکہ وہ اسلام میں مجھ سے مقدم نہیں اور نہ وہ حاضر ہوئے ان غزوات میں جن میں میں حاضر ہوا ؟ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس لیے کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے۔ اور اسامہ بن زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے سے زیادہ محبوب تھے۔ اس وجہ سے میں نے ان کے لیے تمہارے سے پانچ سو زیادہ مقرر کیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35084
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35084، ترقيم محمد عوامة 33549)
حدیث نمبر: 35085
٣٥٠٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم بن سليمان عن أبي الزناد قال: أعطانا عمر درهما (درهمًا) (١) ثم أعطانا درهمين درهمين -يعني قسم بينهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک ایک درہم عطا کیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو دو درہم عطا کیے۔ یعنی آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان تقسیم فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35085
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35085، ترقيم محمد عوامة 33550)
حدیث نمبر: 35086
٣٥٠٨٦ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس بن مالك وسعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كتب المهاجرين على خمسة آلاف والأنصار على أربعة آلاف، ومن (لم يشهد) (١) (بدرًا) (٢) من أولاد المهاجرين على أربعة آلاف، وكان منهم أسامة بن زيد ومحمد بن عبد اللَّه بن جحش وعمر بن أبي سلمة وعبد اللَّه بن عمر (فقال) (٣) عبد الرحمن بن عوف: إن عبد اللَّه ليس مثل هؤلاء، إن عبد اللَّه من أمره من أمره فقال عبد اللَّه بن عمر لعمر: إن كان حقا لي (فأعطنيه) (٤)، وإلا فلا تعطنيه، فقال عمر لعبد الرحمن بن عوف: فاكتبني على أربعة آلاف، وعبد اللَّه على خمسة آلاف، واللَّه لا يجتمع أنا وأنت على خمسة آلاف، فقال عبد اللَّه بن عمر: إن كان حقا فأعطنيه، وإلا فلا تعطنيه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصار کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے ۔ اور مہاجرین کی اولاد میں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے۔ ان میں اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن جحش ، عمر بن ابی سلمہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما شامل تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کی طرح نہیں ہیں۔ بیشک عبد اللہ تو ان کے امیر ہیں۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر یہ میرا حق ہے تو آپ رضی اللہ عنہ مجھے ضرور دیں ورنہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے ہرگز مت دیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے چار ہزار مقرر کردو۔ اور عبد اللہ کے پانچ ہزار مقرر کردو۔ اللہ کی قسم میں اور تو پانچ ہزار پر جمع نہیں ہوسکتے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر میرا حق ہے تو مجھے دے دیجئے ورنہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے ہرگز مت دیجئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35086
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35086، ترقيم محمد عوامة 33551)
حدیث نمبر: 35087
٣٥٠٨٧ - حدثنا غسان بن (مضر) (١) عن سعيد بن يزيد عن أبي نضرة عن جابر قال: لما ولي (عمر) (٢) الخلافة فرض الفرائض، ودون الدواوين، وعرف العرفاء، قال جابر: فعرفني على أصحابي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حصے مقرر فرمائے۔ اور دیوان مدوّن کروائے۔ اور نگران مقرر کیے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے میرے ساتھیوں پر نگران بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35087
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في العلل ٢/ ١٩٣، والبيهقي ٦/ ٣٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35087، ترقيم محمد عوامة 33552)