کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس کو خرید لیا
حدیث نمبر: 35068
٣٥٠٦٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: سئل علي عن مكاتب سباه العدو ثم اشتراه رجل من المسلمين قال: فقال: (إن) (١) أحب مولاه أن يفكه فيكون عنده على ما بقي من مكاتبته ويكون له الولاء، وإن كره ذلك كان عند الذي اشتراه على (هذا) (٢) الحال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس مکاتب غلام کے متعلق پوچھا گیا : جس کو دشمن نے قید کرلیا تھا پھر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس کو خرید لیا اب اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اس کا آقا چاہتا ہے تو وہ اس کو رہن دے کر چھڑا لے پھر یہ غلام اپنے آقا کے پاس اس طور پر رہے گا کہ یہ اپنی باقی بچی ہوئی بدل کتابت ادا کرے گا۔ اور آقا کو اس غلام کی ولاء ملے گی۔ اور اگر وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا تو یہ غلام خریدنے والے کے پاس اسی حالت میں رہے گا۔
حدیث نمبر: 35069
٣٥٠٦٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا عباد قال: أخبرني مكحول قال: في مكاتب أسره العدو فاشتراه رجل من التجار (فكاتبه) (١) قال: يؤدي (مكاتبة) (٢) الأول ثم يؤدي (مكاتبة) (٣) الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اس مکاتب غلام کے بارے میں جس کو دشمن نے قید کرلیا ، کسی تاجر نے اس کو خرید کر پھر مکاتب بنادیا تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ غلام سب سے پہلے والے آقا کا مال کتابت ادا کرے گا اور پھر دوسرے تاجر کا مال کتابت ادا کرے گا۔