حدیث نمبر: 34990
٣٤٩٩٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عطية عن ابن عباس في قوله: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ ⦗٢٧٢⦘ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ﴾ حتى ختم الآية. فقال: إذا حارب الرجل وقتل وأخذ المال قطعت يده ورجله من خلاف وصلب، وإذا قتل ولم يأخذ المال قتل، وإذا أخذ المال ولم يقتل قطعت يده ورجله من خلاف، وإذا لم يقتل ولم يأخذ المال نفي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ رب العزت کے اس قول کی تلاوت فرمائی : آیت : ترجمہ : صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مکمل آیت پڑھی ۔ اور ارشاد فرمایا : جب آدمی لڑائی کرے اور قتل کر دے اور مال بھی لے لے تو اس کا ایک ہاتھ اور اس کا ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا اور سولی دی جائے گی۔ اور جب کوئی قتل کر دے اور مال نہ لے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور جب مال لے لے اور قتل نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا۔ اور جب نہ قتل کرے اور نہ ہی مال لے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 34991
٣٤٩٩١ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز في هذه الآية: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ قال: إذا قَتَل وأخذ المال قُتل، وإذا أخذ المال وأخاف السبيل صلب، وإذا قتل ولم يعد ذلك (قتل، وإذا أخذ المال لم يعد ذلك) (٢) قطع، وإذا أفسد نفي.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت عمران بن حدیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ نے اس آیت کے بارے میں : ترجمہ : صرف یہی جزاء ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں… آپ رحمہ اللہ نے یوں ارشاد فرمایا : جب یہ آدمی قتل کرے اور مال بھی لے لے ۔ تو ا س کو قتل کردیا جائے گا اور جب مال چھین لے اور راستہ کو پرخطر بنا دے تو اس کو سولی دی جائے گی۔ اور جب قتل کرے اور اس کام کو دوبارہ نہ لوٹائے تو اس کو قتل کردیا جائے گا ۔ اور جب مال چھین لے اور یہ قتل نہ کرے تو اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے۔ اور جب فساد پھیلائے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 34992
٣٤٩٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن حماد عن إبراهيم: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ قال: إذا خرج (فأخاف) (١) السبيل وأخذ المال قطعت يده ورجله من خلاف، وإذا أخاف السبيل ولم يأخذ المال نفي، (وإذا) (٢) قَتَلَ قُتِلْ، وإذا أخاف السبيل وأخذ المال وقتل صلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے اس آیت : {إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ } کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا : جب وہ نکل جائے اور راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال چھین لے ۔ تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ مخالف سمت سے کاٹ دی جائے گی۔ اور جب وہ راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال نہ چھینے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ اور جب وہ قتل بھی کر دے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا اور جب وہ راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال چھین لے ، اور قتل کر دے تو اس کو سولی دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 34993
٣٤٩٩٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: حدثت عن سعيد بن جبير قال: من حارب فهو محارب قال سعيد: (فإن) (١) أصاب دمًا قتل، وإن (أصاب) (٢) ⦗٢٧٣⦘ دمًا ومالًا صلب، فإن الصلب هو أشد، وإذا أصاب مالًا ولم يصب دمًا قطعت يده ورجله لقوله: ﴿أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ﴾ فإن (تاب) (٣) فتوبته فيما بينه وبين اللَّه ويقام عليه الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعیدبن جبیر رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جو لڑائی کرے وہ محارب ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ خون کر دے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر وہ خون کر دے اور مال بھی چھین لے تو اس کو صولی دی جائے گی پس بیشک صولی دینا زیادہ سخت ہے ، اور جب وہ مال چھین لے اور خون نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ کاٹ دی جائے گی اللہ رب العزت کے اس قول کی وجہ سے : ترجمہ : یا ان کے ہاتھ اور ان کی ٹانگیں مخالف سمت سے کاٹ دی جائیں گی۔ پس اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہوگی اور اس پر حد قائم کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 34994
٣٤٩٩٤ - حدثنا زيد بن حباب عن أبي هلال عن قتادة عن مورق العجلي قال: إذا أُخذ المحارب فرفع إلى الإمام، فإن كان أخذ المال ولم يَقتُل [قطع ولم يُقتَل، وإن (كان) (١) أخذ المال وقتل (قُتل) (٢)] (٣) وصلب، وإن كان لم يأخذ المال ولم يقتل (٤) (لم يقطع) (٥)، (٦) وإن كان لم يأخذ المال ولم يقتل و (شاق) (٧) المسلمين نفي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مورّق عجلی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب لڑائی کرنے والے کو پکڑ لیا جائے تو اس کو امیر کے پاس لے جایا جائے گا، پس اگر اس نے مال چھینا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اگر اس نے مال چھینا تھا اور قتل بھی کردیا تھا تو اس کو قتل کیا جائے گا اور سولی دی جائے گی ، اور اگر اس نے مال نہیں چھینا اور قتل نہیں کیا تو اس کے ہاتھ اور پاؤں بھی نہیں کاٹے جائیں گے اور اگر اس نے مال نہیں چھینا اور نہ قتل کیا صر ف مسلمانوں کو تنگ کیا ہو تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔