کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے یوں کہا ا س شخص کے بارے میں جو لڑائی کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے پھر امان طلب کرے اس بات سے پہلے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہو
حدیث نمبر: 34986
٣٤٩٨٦ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن عامر قال: كان حارثة بن (بدر) (١) التميمي من أهل البصرة قد أفسد في الأرض وحارب، فكلم الحسن بن علي وابن جعفر وابن عباس وغيرهم من قريش، فكلموا عليا فلم يؤمنه، فأتى سعيد بن قيس الهمداني فكلمه، فانطلق سعيد إلى علي وخلفه في منزله، فقال: يا أمير المؤمنين كيف تقول فيمن حارب اللَّه ورسوله وسعى في الأرض فسادا؟ فقرأ: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [المائدة: ٣٣]، حتى قرأ الآية كلها، فقال سعيد: أفرأيت من تاب قبل أن نقدر عليه؟ فقال علي: أقول كما قال ويقبل منه، قال: فإن حارثة بن بدر قد تاب قبل أن نقدر عليه، فبعث إليه فأدخله عليه فأمنه وكتب له كتابًا، فقال: حارثة: ألا أبلغن همدان إما لقيتها سلاما … (فلا) (٢) يسلم عدو يعيبها لعمر أبيك إن همدان تتقي … الإله ويقضي بالكتاب خطيبها تشيب رأسي (واستخف) (٣) حلومنا … رعود المنايا حولنا وبروقها وإنا لتستحلي المنايا نفوسنا … ونترك أخرى مرة ما نذوقها
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارثہ بن بدر التمیمی اہل بصرہ میں سے تھا اس نے زمین میں فساد پھیلایا اور جنگ کی ۔ پھر اس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن جعفر رحمہ اللہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قریش کے چند افراد سے امان کے بارے میں بات چیت کی ۔ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بات کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو امان نہیں دی۔ پس حارثہ بن بدر حضرت سعید بن قیس الھمدانی رحمہ اللہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں بات کی۔ تو حضرت سعید رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اس کو پیچھے اپنے گھر میں چھوڑ دیا۔ اور فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مکمل آیت تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت سعید نے فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جو خود پر قابو دینے سے پہلے ہی توبہ کرلے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں وہی کہوں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے توبہ قبول کی جائے گی۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : بیشک حارثہ بن بدر نے خود پر قابو دینے سے پہلے توبہ کی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا ۔ پس اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو امان دی اور اس کے لیے ایک تحریر لکھ دی۔ اس پر حارثہ نے یہ اشعار کہے : میری طرف سے ہمدان کو سلام پہنچاؤ جب تم وہاں پہنچو، اس کا دشمن سالم نہ رہے۔ یقینی طور پر ہمدان کے لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ سے فیصلہ کرتا ہے۔ میرا سر سفید ہوگیا اور ہماری عقلیں ماند پڑگئیں۔ ہمارے اردگرد کی کڑک اور چمک سے۔ ہمارے نفوس موت کو شیریں سمجھتے ہیں۔ جبکہ زندگی کو ہم کڑوا سمجھتے ہیں۔ حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن جعفر رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : ہم ھمدان والوں سے ان اشعار کے زیادہ حقدار تھے۔
حدیث نمبر: 34987
٣٤٩٨٧ - قال (١) عامر: فحدثت بهذا الحديث (عبد اللَّه) (٢) بن جعفر فقال: نحن كنا أحق بهذه الأبيات من همدان (٣).
حدیث نمبر: 34988
٣٤٩٨٨ - [حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي عن علي بنحو منه ولم يذكر فيه الشعر] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی رحمہ اللہ سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مذکورہ ارشاد اس سند سے مروی ہے۔ لیکن انہوں نے اس میں شعر کا ذکر نہیں فرمایا :
حدیث نمبر: 34989
٣٤٩٨٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي زعم أن رجلا من مراد حل، فلما سلم أبو موسى قام فقال: هذا مقام التائب العائذ فقال: ويلك مالك، قال: أنا فلان بن فلان المرادي، وإني كنت حاربت اللَّه ورسوله وسعيت في الأرض فسادًا، فهذا حين جئت وقد تبت من قبل أن تقدر علي، قال: فقام أبو موسى المقام الذي قام فيه، ثم قال: إن هذا فلان بن فلان المرادي، وأنه كان حارب اللَّه ورسوله وسعى في الأرض فسادا، وأنه قد تاب من قبل أن نقدر عليه، فإن يك صادقا فسبيل من صدق، وإن كان كاذبًا يأخذه اللَّه بذنبه، قال: فخرج في الناس فذهب ولحى ثم عاد فقتل (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ مراد کے ایک آدمی نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو وہ شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : یہ توبہ کرنے والے اور پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہلاکت ہو تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں فلاں بن فلاں مرادی ہوں۔ اور تحقیق میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی اور میں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھاگ دوڑ کی۔ اور تحقیق میں اب آیا ہوں اس حال میں کہ میں نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے توبہ کی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس جگہ میں کھڑے ہوئے جہاں وہ کھڑا تھا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ فلاں بن فلاں مرادی ہے اور اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کی اور بیشک اس نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے ہی توبہ کرلی۔ پس اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کے ساتھ سچوں والا معاملہ ہے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اللہ رب العزت اس کے گنا ہ کی وجہ سے اس کو پکڑے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص لوگوں میں نکلا اور چلا گیا اور نجات پا لی۔ پھر اس نے دوبارہ وہی کام کیا تو اس کو قتل کردیا گیا۔