کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن لوگوں نے یوں کہا: لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 34980
٣٤٩٨٠ - حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم قال: كان أهل العلم (يقولون) (١): إذا آمن المحارب لم يؤخذ بشيء كان أصابه في حال حربه إلا أن يكون شيئا أصابه قبل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء فرمایا کرتے تھے : کہ جب لڑنے والے کو امان دے دی جائے تو اس سے وہ مال نہیں لیا جائے گا جو اس کو حالت جنگ میں ملا ہو۔ مگر اس سے وہ مال لے لیا جائے گا جو اس کو جنگ سے قبل ملا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34980
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34980، ترقيم محمد عوامة 33453)
حدیث نمبر: 34981
٣٤٩٨١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه في الرجل يصيب الحدود، ثم يجيء تائبًا، قال: تقام عليه الحدود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا؛ جو حدود کو پہنچ جائے پھر وہ توبہ کر کے آجائے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس شخص پر حدود قائم کی جائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34981
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34981، ترقيم محمد عوامة 33454)
حدیث نمبر: 34982
٣٤٩٨٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيدة عن إبراهيم في الرجل يجني الجناية فيلحق بالعدو فيصيبهم أمان، قال: يؤمنون إلا أن يعرف شيء بعينه فيؤخذ منهم، فيرد على أصحابه، وأما هو فيؤخذ بما كان جنى قبل أن يلحق بهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص جرم کرے اور دشمنوں سے جا ملے پھر ان لوگوں کو امان ملی۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : ان کو امان دے دی جائے گی مگر یہ کہ ان کے پاس موجود کسی چیز کو پہچان لیا گیا تو وہ ان سے لے لی جائے گی اور مالکوں پر لوٹا دی جائے گی۔ اور وہ چیز لی جائے گی جو اس نے دشمنوں سے ملنے سے پہلے جنایت کے ذریعہ حاصل کی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34982، ترقيم محمد عوامة 33455)
حدیث نمبر: 34983
٣٤٩٨٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم في رجل أصاب حدًا، ثم خرج محاربًا، ثم طلب أمانا فأمن، قال: يقام عليه الحد الذي كان أصابه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا : جس کو حد پہنچے پھر وہ لڑائی کر کے بھاگ جائے اور پھر امان طلب کرے اور اس کو امان بھی دے دی جائے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس نے جو کام کیا تھا اس کی وجہ سے اس پر حد قائم کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34983
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34983، ترقيم محمد عوامة 33456)
حدیث نمبر: 34984
٣٤٩٨٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم في الرجل إذا قطع الطريق وأغار ثم رجع تائبا أقيم عليه الحد، وتوبته فيما بينه وبين ربه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں جو ڈاکہ مارے اور غارت گری کرے پھر توبہ کر کے لوٹ آئے ، یوں ارشاد فرمایا : اس پر حد قائم کی جائے گی اور اس کی توبہ اس کے اور رب کے درمیان ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34984
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34984، ترقيم محمد عوامة 33457)
حدیث نمبر: 34985
٣٤٩٨٥ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا جرير بن حازم قال: حدثني قيس بن سعد أن عطاء كان يقول: لو أن رجلًا من المسلمين قتل رجلًا ثم كفر فلحق بالمشركين فكان فيهم، ثم رجع تائبا قبلت توبته من شركه، وأقيم عليه القصاص، ولو أنه ⦗٢٧٠⦘ لحق بالمشركين ولم يقتل فكفر ثم قاتل المسلمين فقتل منهم ثم جاء تائبا قبل منه، ولم يكن عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ یوں فرمایا کرتے تھے : اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی آدمی کو قتل کر دے پھر کفر اختیار کرلے اور مشرکین سے جا ملے اور ان میں رہے ۔ پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ شرک سے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور اس پر حدِّ قصاص قائم کی جائے گی۔ اور اگر کوئی مشرکین سے جا ملے اس حال میں کہ اس نے قتل تو نہیں کیا صرف کفر اختیار کیا پھر مسلمانوں سے قتال کیا اور کچھ مسلمانوں کو شہید بھی کیا پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آیا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34985، ترقيم محمد عوامة 33458)