کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
حدیث نمبر: 34918
٣٤٩١٨ - حدثنا (هشيم) (١) عن عبد العزيز بن صهيب قال: ثنا أنس بن مالك قال: قدم ناس من عرينة المدينة فاجتووها فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: "إن شئتم أن تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من أبوالها وألبانها"، ففعلوا واستصحوا، قال: فمالوا على (الرعاء) (٢) فقتلوهم، واستاقوا ذود رسول اللَّه ﷺ، وكفروا بعد إسلامهم، فبعث في آثارهم فأتي بهم، فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم وتركوا بالحرة حتى ماتوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ۔ اور ان کے دودھ اور پیشاب میں سے کچھ پیو پس انہوں نے ایسا کیا تو وہ صحت یاب ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ لو گ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور انہوں نے ان کو قتل کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند مویشی ہانک کرلے گئے اور اسلام لانے کے بعد انہوں نے کفر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا پس ان کو پکڑ کر لایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں کو داغا گیا اور انہیں حرہ کے مقام پر چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ یہ لوگ مرگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34918
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٠١)، ومسلم (١٦٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34918، ترقيم محمد عوامة 33395)
حدیث نمبر: 34919
٣٤٩١٩ - حدثنا هشيم عن حميد عن أنس عن النبي ﷺ مثل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34919
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٨٥)، ومسلم (١٦٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34919، ترقيم محمد عوامة 33396)
حدیث نمبر: 34920
٣٤٩٢٠ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس عن رسول اللَّه ﷺ قال: "من بدل دينه فاقتلوه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو اپنے دین کو تبدیل کرے تو تم اس کو قتل کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34920
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٢٢)، وأحمد (٢٥٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34920، ترقيم محمد عوامة 33397)
حدیث نمبر: 34921
٣٤٩٢١ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد عن قتادة عن حميد بن هلال أن معاذ بن جبل أتى أبا موسى وعنده رجل يهودي فقال: ما هذا؟ قال: هذا يهودي أسلم ثم أرتد، وقد استتابه أبو موسى شهرين، فقال معاذ: لا أجلس حتى أضرب عنقه، (قضاء) (١) اللَّه و (قضاء) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رحمہ اللہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آدمی تھا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ یہودی اسلام لایا تھا پھر مرتد ہوگیا اور تحقیق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دو مہینہ اس کو توبہ کے لیے مہلت دی۔ اس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ہرگز نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا یہ فیصلہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34921
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، سعيد اختلط، وحميد بن هلال لم يدرك ذلك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34921، ترقيم محمد عوامة 33398)
حدیث نمبر: 34922
٣٤٩٢٢ - حدثنا عبد الرحيم (بن سليمان) (١) عن زكريا عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة، قال: (ارتد) (٢) علقمة بن علاثة عن دينه بعد النبي ﷺ فقاتله المسلمون، قال: فأبى أن يجنح للسلم، فقال أبو بكر: لا يقبل (منك) (٣) إلا سلم مخزية أو حرب مجلية، قال: فقال: وما سلم مخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وأن قتلاكم في النار، وتدون قتلانا ولا (ندي) (٤) قتلاكم، فاختاروا سلمًا مخزية (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ، اپنے دین سے مرتد ہوگیا ۔ تو مسلمانوں نے اس سے قتال کیا۔ راوی کہتے ہیں : اس نے صلح کے لیے جھکنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا سوائے رسوا کردینے والی صلح کے یا سخت جنگ کے۔ اس نے پوچھا : رسوا کردینے والی صلح سے کیا مراد ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کہ تم ہمارے مردوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں۔ اور یقینا تمہارے مردے جہنم میں ہیں۔ اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے۔ تو ان لوگوں نے رسوائی والی صلح کا انتخاب کرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34922
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34922، ترقيم محمد عوامة 33399)
حدیث نمبر: 34923
٣٤٩٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن (مسلم) (١) عن طارق بن شهاب قال: جاء وفد بزاخة: أسد وغطفان إلى أبي بكر يسألونه الصلح فخيرهم أبو بكر بين الحرب (المجلية) (٢) أو السلم المخزية، قال: فقالوا: هذا الحرب المجلية قد عرفناها، فما السلم المخزية؟ قال: قال أبو بكر: تؤدون الحلقة والكراع، وتتركون أقواما (يتبعون) (٣) أذناب الإبل حتى يرى اللَّه خليفة نبيه ﷺ والمسلمين أمرا يعذرونكم به، وتدون قتلانا ولا ندي قتلاكم، وقتلانا في الجنة وقتلاكم في النار، وتردون ما أصبتم منا ونغنم ما أصبنا منكم، فقام عمر فقال: قد رأيت رأيًا وسنشير عليك، أما أن يؤدوا الحلقة والكراع فنعم ما رأيت، وأما أن يتركوا أقوامًا يتبعون أذناب الإبل حتى يرى اللَّه خليفة نبيه ﷺ والمسلمين أمرا يعذرونهم به، فنعم ما رأيت، وأما أن نغنم ما أصبنا منهم ويردون ما أصابوا منا فنعم ما رأيت، وأما (٤) قتلاهم في النار وقتلانا في الجنة فنعم ما ⦗٢٥٧⦘ رأيت، وأما أن لا ندي قتلاهم فنعم ما رأيت، وأما أن يدوا قتلانا فلا، قتلانا قتلوا عن أمر اللَّه فلا ديات لهم فتتابع الناس على ذلك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسد اور غطفان کے بڑے لوگوں کا وفد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے صلح کا سوال کیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے رسوا کردینے والی صلح یا سخت جنگ کے درمیان اختیار دیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے۔ اس سخت اور صفایا کردینے والی جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا ۔ یہ رسوا کردینے والی صلح کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم تمام اسلحہ اور گھوڑے دو گے ، اور تم لوگوں کو چھوڑ دو گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں۔ یعنی جس کی مرضی پیروی کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے خلیفہ اور مسلمانوں کو ایسی بات دکھا دیں جس کی وجہ سے وہ تم لوگوں کو معذور سمجھیں اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے۔ اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں۔ اور جو چیز تم نے ہماری لی ہے وہ تم واپس لوٹاؤ گے اور ہم نے جو تمہارا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : تحقیق یہ آپ کی رائے ہے۔ اور عنقریب ہم آپ کو ایک مشورہ دیں گے۔ بہرحال وہ اسلحہ اور گھوڑے دیں گے تو یہ بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے خلیفہ اور مسلمانوں کو کوئی ایسی بات دکھلا دے جس کی وجہ سے وہ ان کو معذور سمجھیں یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور ہم نے جو ان کا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اور انہوں نے جو ہمارا مال لیا وہ ہمیں واپس لوٹائیں گے ۔ تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ان کے مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ہم ان کے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ ہمارے مقتولین کی دیت ادا کریں گے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ہمارے مقتولین اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں قتل کیے گئے تو ان کے لیے کوئی دیتیں نہیں ہوں گی۔ تو لوگوں نے اس بات پر ان کی موافقت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34923
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34923، ترقيم محمد عوامة 33400)
حدیث نمبر: 34924
٣٤٩٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أشعث عن ابن سيرين قال: ارتد علقمة ابن علاثة فبعث أبو بكر إلى امرأته وولده فقالت: إن كان علقمة كفر، فإني لم أكفر أنا ولا ولدي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ مرتد ہوگیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی اور بیٹے کی طرف قاصد بھیجا ۔ اس کی بیوی نے کہا : اگرچہ علقمہ نے کفر کیا ہے لیکن میں نے کفر نہیں کیا اور نہ ہی میرے بیٹے نے ۔ آپ رحمہ اللہ نے یہ بات امام شعبی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسی طرح مرتدین کے ساتھ معاملہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34924
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أشعث بن سوار ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34924، ترقيم محمد عوامة 33401)
حدیث نمبر: 34925
٣٤٩٢٥ - فذكر ذلك للشعبي فقال: هكذا فعل بهم -يعني بأهل الردة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34925
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34925، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 34926
٣٤٩٢٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن ابن سيرين نحوه، (وزاد فيه) (١): ثم أنه جنح للسلم في زمان عمر فأسلم فرجع إلى امرأته كما كان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے ۔ اس میں اتنا اضافہ ہے۔ پھر علقمہ بن علاثہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صلح کے لیے جھک گیا اور اسلام لے آیا۔ پھر اس نے اپنی بیوی کی طرف رجوع کرلیا جیسا کہ وہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34926
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أشعث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34926، ترقيم محمد عوامة 33402)
حدیث نمبر: 34927
٣٤٩٢٧ - حدثنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم أن أبا بكر قال: (لو منعوني) (١) عقالا مما أعطوا رسول اللَّه ﷺ لجاهدتهم ثم تلا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ [آل عمران: ١٤٤]، إلى آخر الآية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ لوگ مجھے اونٹ کی رسی دینے سے بھی رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ضرور ان سے جہاد کروں گا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : اور نہیں ہیں محمد ﷺ سوائے رسول کے۔ اور تحقیق ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے۔ آیت کے آخرتک آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34927، ترقيم محمد عوامة 33403)
حدیث نمبر: 34928
٣٤٩٢٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبيه عن ابن أبي مليكة قال: قال عمر: والذي نفسي بيده لو أطاعنا أبو بكر لكفرنا في صبيحة واحدة، إذ سألوا التخفيف عن الزكاة فأبى عليهم قال: لو منعوني عقالًا لجاهدتهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہماری اطاعت کرتے تو ہم ایک صبح میں کفر کرلیتے۔ کیونکہ جب لوگوں نے ان سے زکوۃ میں کمی کرنے کا سوال کیا تو انہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا اور فرمایا : اگر وہ مجھے ایک اونٹ کی رسی دینے سے بھی رکے تو میں ضرور ان سے جہاد کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34928
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34928، ترقيم محمد عوامة 33404)
حدیث نمبر: 34929
٣٤٩٢٩ - حدثنا شريك عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: لا يساكنكم اليهود والنصارى في أمصاركم، فمن أسلم منهم ثم ارتد فلا تضربوا إلا عنقه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : یہود و نصاریٰ تم لوگوں کو اپنے شہروں میں نہیں بسائیں گے۔ پس ان میں سے جو اسلام لایا پھر وہ مرتد ہوگیا تو تم اس کی گردن ما ر دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34929
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34929، ترقيم محمد عوامة 33405)
حدیث نمبر: 34930
٣٤٩٣٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن أبي هند قال: ثنا عامر أن أنس بن مالك حدثه أن نفرًا من بكر بن وائل ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقُتلوا في القتال، فلما أتيت عمر بن الخطاب بفتح تستر قال: ما فعل النفر من بكر ابن وائل؟ قال: قلت: عرضت في حديث آخر (لأشغله) (١) عن ذكرهم، (قال) (٢): ما فعل النفر من بكر بن وائل؟ قال: قلت: قتلوا يا أمير المؤمنين، قال: لو كنت (أخذتهم) (٣) سلمًا كان أحب إلي مما طلعت عليه الشمس من صفراء وبيضاء، قال: قلت: يا أمير المؤمنين، وما كان سبيلهم لو أخذتُهم إلا القتل، قوم ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالشرك، قال: كنت أعرض أن يدخلوا في الباب الذي خرجوا منه، فإن فعلوا قبلتُ منهم، وإن أبوا استودعتهُم السجن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قبیلہ بکر بن وائل کے کچھ افراد اسلام سے مرتد ہوگئے اور مشرکین سے جا ملے۔ پھر ان کو جنگ میں قتل کردیا گیا۔ پھر جب میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تستر کی فتح کی خبر لے کر آیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قبیلہ بکر بن وائل کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے دوسری بات شروع کردی تاکہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ان کے ذکر سے ہٹا دوں، لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا : قبیلہ بکر بن وائل کے گروہ کا کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! ان کو قتل کردیا گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میں ان سے صلح کا معاملہ کرتا تو یہ بات میرے نزدیک اس سونا، چاندی سے زیادہ محبوب ہوتی جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! اگر آپ رضی اللہ عنہان لوگوں کو پکڑ لیتے جو اسلام سے مرتد ہوئے اور مشرکین سے جا ملے تو ان کے قتل کے سوا کیا راستہ ہوسکتا تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان کے سامنے یہ بات پیش کرتا کہ وہ اسی دروازے میں داخل ہوجائیں جس سے وہ نکلے ہیں پس اگر وہ ایسا کرتے تو میں ان کی طرف سے یہ چیزیں قبول کرلیتا اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کردیتے تو میں ان کو جیلوں میں قید کردیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34930
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34930، ترقيم محمد عوامة 33406)
حدیث نمبر: 34931
٣٤٩٣١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن سعيد بن (حيان) (١) عن عمار الدهني قال: حدثني أبو الطفيل قال: كنت في الجيش الذين بعثهم علي ابن أبي طالب إلى بني ناجية، فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق، قال: فقال أميرنا لفرقة منهم: ما أنتم؟ قالوا: نحن قوم (كنا) (٢) نصارى (وأسلمنا) (٣) فثبتنا ⦗٢٥٩⦘ على إسلامنا قال: اعتزلوا، ثم قال للثانية: ما أنتم؟ قالوا: (نحن قوم من النصارى لم نر دينًا أفضل من ديننا فثبتنا عليه، فقال: اعتزلوا، ثم قال لفرقة أخرى: ما أنتم قالوا: نحن) (٤) قوم كنا نصارى فأسلمنا فرجعنا، فلم نر دينا أفضل من ديننا فتنصرنا، قال لهم: أسلموا، فأبوا فقال لأصحابه: إذا مسحت (٥) رأسي ثلاث مرات فشدوا عليهم ففعلوا فقتلوا وسبوا الذراري، فجئت بالذراري إلى علي وجاء مصقلة بن هبيرة فاشتراهم بمائتي ألف فجاء بمائة ألف إلى علي، فأبى أن يقبل، فانطلق مصقلة بدراهمه وعمد إليهم مصقلة فاعتقهم، ولحق بمعاوية، فقيل لعلي: ألا تأخذ الذرية؟ فقال: لا، فلم يعرض لهم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار الدھنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الطفیل رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں اس لشکر میں موجود تھا جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ جب ہم ان کے پا س پہنچے تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم پایا۔ پس ہمارے امیر نے ان کے ایک گروہ سے پوچھا : تمہارا معاملہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم عیسائی تھے اور ہم نے اسلام قبول کیا اور خود کو اسلام پر ثابت قدم رکھا۔ امیر نے کہا : تم الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے دوسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم عیسائی لوگ تھے۔ ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا لہٰذا ہم نے خود کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھا تو امیر نے کہا : تم بھی الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے آخری گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھی پس ہم نے اسلام قبول کیا پھر ہم اسلام سے پھرگئے کیونکہ ہم نے اپنے دین سے افضل کوئی دین نہیں سمجھا اور ہم عیسائی ہوگئے ۔ امیر نے ان سے کہا : تم اسلام لے آؤ۔ انہوں نے انکار کردیا۔ تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیروں تو تم ان پر حملہ کردینا پس لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ پھر میں قیدی لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آگیا۔ اور معقلہ بن ھبیرہ آیا اور اس نے ان قیدیوں کو دو لاکھ میں خرید لیا پھر وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ معقلہ اپنے دراہم لے کر واپس چلا گیا اور ان غلاموں کے پاس آیا اور ان سب کو آزاد کردیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جا ملا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ اولاد کیوں نہ لے لی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34931
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمار الدهني صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34931، ترقيم محمد عوامة 33407)
حدیث نمبر: 34932
٣٤٩٣٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي (علاقة) (١) أن عمر بن الخطاب بعث سرية فوجدوا رجلًا من المسلمين تنصر بعد إسلامه فقتلوه فأخبر عمر بذلك فقال: هل دعوتموه إلى الإسلام؟ قالوا: لا، قال: فإني أبرأ إلى اللَّه من دمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا پس ان لوگوں نے مسلمانوں میں سے ایک آدمی پایا جو اسلام لانے کے بعد عیسائی ہوگیا ۔ تو انہوں نے اس شخص کو قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی گئی آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا پھر تو میں اللہ کی طرف اس کے خون سے بری ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34932
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34932، ترقيم محمد عوامة 33408)
حدیث نمبر: 34933
٣٤٩٣٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن (ابن) (١) عبيد بن الأبرص عن علي بن أبي طالب أنه أتي برجل كان نصرانيًا فأسلم ثم تنصر، فسأله عمر عن كلمة فقال له، فقام إليه علي فرفسه برجله، قال: فقام الناس إليه فضربوه حتى قتلوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبید بن ابرص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ارشاد فرمایا : بیشک ایک آدمی کو لایا گیا جو نصرانی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر وہ دوبارہ نصرانی ہوگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا : تو اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتادیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری۔ پھر لوگ بھی کھڑے ہوگئے اور اس کو مارنے لگے یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34933
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34933، ترقيم محمد عوامة 33409)
حدیث نمبر: 34934
٣٤٩٣٤ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن المخارق عن أبيه قال: بعث علي محمد بن أبي بكر أميرا على مصر، فكتب إلى علي يسأله عن زنادقة، منهم من يعبد الشمس والقمر، ومنهم من يعبد غير ذلك، ومنهم من يدعي الإسلام، فكتب إليه وأمره في الزنادقة أن يقتل من كان يدعي الإسلام ويترك سائرهم (يعبدون) (١) ما شاؤا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخارق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے محمد بن ابی بکر کو مصر والوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر زنادقہ کے بارے میں سوال کیا۔ جن میں سے کچھ سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے۔ اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ چیزوں کی پرستش کرتے تھے اور کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے تھے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا ار زنادقہ کے بارے میں ان کو حکم دیا کہ جو تو اسلام کا دعویٰ کرے اس کو قتل کردو، اور باقی سب کو چھوڑ دو وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34934
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، وكذلك قابوس.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34934، ترقيم محمد عوامة 33410)
حدیث نمبر: 34935
٣٤٩٣٥ - حدثنا أبو معاوية (حدثنا) (١) الأعمش عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: خرج رجل يطرق فرسا له، فمر بمسجد بني حنيفة فصلى فيه فقرأ لهم إمامهم بكلام مسيلمة الكذاب، فأتى ابن مسعود فأخبره فبعث إليهم (فجاء بهم) (٢)، فاستتابهم فتابوا إلا عبد اللَّه بن النواحة فإنه قال له: يا عبد اللَّه (لولا) (٣) أني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لولا أنك رسول لضربت عنقك"، فأما اليوم فلست برسول، (يا خرشة) (٤) قم فاضرب عنقه، فقام فضرب عنقه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نکلا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر وہ بنو حنیف قبیلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا۔ اور اس میں نماز ادا کی۔ تو ان لوگوں کے امام نے مسیلمہ کذاب کے کلام کی تلاوت کی ! یہ شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر دی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر ان لوگوں کو بلایا۔ ان سب لوگوں کو لایا گیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سب سے توبہ کروائی۔ ان سب نے توبہ کرلی سوائے عبد اللہ بن نوَّاحہ کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ا س سے فرمایا : اے عبد اللہ ! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ “ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے ۔ اے خَرَشہ ! اٹھو اور اس کی گردن مار دو ۔ پس خرشہ اٹھے اور انہوں نے اس کی گردن ما ر دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34935
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٣٦٤٢)، وأبو داود (٢٧٦٢)، والنسائي في الكبرى (٨٦٧٥)، وأبو يعلى (٥٢٢١)، والطبراني (٥٩٥٨)، وابن حبان (٤٨٧٩)، والبيهقي ٩/ ٢١١، وبنحوه البزار (١٦٨١/ كشف)، وابن الجارود (١٠٤٦)، والبيهقي ٩/ ٦١١، والدارقطني في العلل ٥/ ٨٩، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34935، ترقيم محمد عوامة 33411)
حدیث نمبر: 34936
٣٤٩٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إني مررت بمسجد بني حنيفة فسمعت إمامهم يقرأ ⦗٢٦١⦘ بقراءة ما أنزلها اللَّه على محمد ﷺ فسمعته يقول: الطاحنات طحنًا فالعاجنات عجنًا فالخابزات خبزًا (فالثاردات ثردًا) (١) فاللاقمات لقمًا، قال: فأرسل عبد اللَّه فأُتي بهم سبعين ومائة رجل على دين مسيلمة إمامهم عبد اللَّه بن النواحة، فأمر به فقتل، ثم نظر إلى بقيتهم فقال: ما نحن (بمجزري) (٢) الشيطان، هؤلاء سائر القوم رحلوهم إلى الشام لعل اللَّه أن (يفنيهم) (٣) بالطاعون (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بیشک میں بنو حنیفہ قبیلہ والوں کی مسجد کے قریب سے گزرا۔ تو میں نے ان کے امام کو سنا کہ اس نے اس قرآن میں تلاوت کی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا۔ پھر میں نے اس کو سنا کہ وہ یہ کلمات پڑھ رہا ہے : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا ! ! ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف قاصد بھیجا۔ پھر ان لوگوں کو لایا گیا۔ ایک سو ستر آدمی مسیلمہ کے دین پر تھے۔ اور ان کا امام عبد اللہ بن النواحہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہم ان کو قتل کر کے شیطان کو خوش نہیں کریں گے۔ ان سب لوگوں کو شام کی طرف لے جاؤ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کو طاعون کے ذریعے ختم فرما دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34936
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٨٧٥٨)، والطبراني (٨٩٥٦)، والشاشي (٧٤٦)، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34936، ترقيم محمد عوامة 33412)
حدیث نمبر: 34937
٣٤٩٣٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كتب عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب أن رجلًا يبدل بالكفر بعد الإيمان، فكتب إليه عمر: استتبه، فإن تاب فاقبل منه، وإلا فاضرب عنقه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ یقینا ایک آدمی نے ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرلیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں خط لکھ کر فرمایا : اس سے توبہ طلب کرو پس اگر وہ اس سے توبہ کرلے تو اس کی طرف سے توبہ قبول کرلو، ورنہ اس کی گردن مار دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34937
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34937، ترقيم محمد عوامة 33413)
حدیث نمبر: 34938
٣٤٩٣٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن عبيد (العامري) (١) عن أبيه قال: كان أناس يأخذون العطاء والرزق ويصلون مع الناس، وكانوا يعبدون الأصنام في السر، فأتي بهم علي بن أبي طالب فوضعهم في المسجد، أو قال: في السجن، ثم قال: يا أيها الناس ما ترون في قوم كانوا يأخذون معكم العطاء والرزق ويعبدون هذه الأصنام؟ قال الناس: اقتلهم، قال: لا، ولكن أصنع بهم كما صنعوا بأبينا إبراهيم، فحرقهم بالنار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید العامری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ تھے جو روزینہ اور عطیات لیتے تھے۔ اور لوگوں کے ساتھ تو نماز پڑھتے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے مسجد میں یا قید خانہ میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے اس قوم کے بارے میں جو تمہارے ساتھ روزینہ اور عطیات لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : ان کو قتل کردیا جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! لیکن میں ان کے ساتھ وہ معاملہ کروں گا جو انہوں نے ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34938
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34938، ترقيم محمد عوامة 33414)
حدیث نمبر: 34939
٣٤٩٣٩ - حدثنا البكراوي عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر قال: كتب عمر بن عبد العزيز في قوم نصارى ارتدوا فكتب أن استتيبوهم، فإن تابوا وإلا فاقتلوهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں خط لکھا جو عیسائی تھے پھر وہ مرتد ہوگئے تو آپ رحمہ اللہ نے لکھا : ان سے توبہ طلب کرو۔ پس اگر توبہ کریں تو ٹھیک ورنہ ان کو قتل کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34939
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34939، ترقيم محمد عوامة 33415)
حدیث نمبر: 34940
٣٤٩٤٠ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم في المرتد يستتاب، فإن تاب ترك وإن أبى قتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے مرتد کے بارے میں ارشاد فرمایا : اس سے توبہ طلب کی جائے گی۔ پس اگر وہ توبہ کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34940
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34940، ترقيم محمد عوامة 33416)
حدیث نمبر: 34941
٣٤٩٤١ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: اخبرني عمرو بن دينار في الرجل (كفر) (١) بعد إيمانه قال: سمعت عبيد بن عمير يقول: يقتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمرو بن دینار نے میرے سامنے اس شخص کے بارے میں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرلے حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ کا قول نقل فرمایا : کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34941
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34941، ترقيم محمد عوامة 33417)
حدیث نمبر: 34942
٣٤٩٤٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال عطاء في الإنسان يكفر بعد إيمانه: يدعى إلى الإسلام فإن أبى قتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرے یوں ارشاد فرمایا : اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی پس اگر وہ انکار کر دے تو اس شخص کو قتل کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34942
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34942، ترقيم محمد عوامة 33418)
حدیث نمبر: 34943
٣٤٩٤٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن أبي موسى قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ أنا ومعاذًا إلى اليمن، قال: فأتاني (ذات) (١) يوم وعندي يهودي قد كان مسلما فرجع عن الإسلام إلى اليهودية فقال: لا أنزل حتى تضرب عنقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اس حال میں کہ میرے پاس ایک یہودی تھا جو مسلمان ہو اتھا پھر اسلام سے یہودیت کی طرف واپس لوٹ گیا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ہرگز تمہارے ہاں نہیں اتروں گا یہاں تک کہ تم اس کی گردن مارو۔ حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ حضرت ابو موسیٰ نے اس یہودی کو چالیس دن تک دعوت دی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34943
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34943، ترقيم محمد عوامة 33419)
حدیث نمبر: 34944
٣٤٩٤٤ - قال حجاج: وحدثني قتادة أن أبا موسى قد كان دعاه أربعين يومًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34944
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34944، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 34945
٣٤٩٤٥ - (حدثنا) (١) عبد الرحيم بن سليمان عن شيبان النحوي عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان أن رسول اللَّه ﷺ قال في آخر خطبة خطبها: "إن هذه القرية -يعني المدينة- لا يصلح فيها ملتان، فأيما نصراني أسلم ثم تنصر فاضربوا عنقه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ارشاد فرمایا : بیشک اس بستی میں یعنی مدینہ منورہ میں دو ملتیں نہیں رہ سکتیں۔ پس جو کوئی نصرانی اسلام قبول کرلے پھر وہ دوبارہ نصرانی بن جائے تو تم اس کی گردن مار دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34945
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن ثوبان تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34945، ترقيم محمد عوامة 33420)
حدیث نمبر: 34946
٣٤٩٤٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عمرو بن قيس عمن سمع إبراهيم يقول: يستتاب المرتد كلما ارتد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس رحمہ اللہ اس شخص سے نقل فرماتے ہیں جس نے ابراہیم رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : مرتد سے توبہ طلب کی جائے گی جب بھی وہ ارتداد کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34946
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34946، ترقيم محمد عوامة 33421)
حدیث نمبر: 34947
٣٤٩٤٧ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا بعض أصحابنا عن مطرف عن الحكم قال: يستتاب المرتد كلما ارتد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : مرتد سے توبہ طلب کی جائے گی جب بھی وہ ارتداد کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34947
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34947، ترقيم محمد عوامة 33422)
حدیث نمبر: 34948
٣٤٩٤٨ - حدثنا شبابة قال: ثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن عبيد اللَّه (١) بن عتبة قال: كان ناس من بني حنيفة ممن كانوا مع مسيلمة الكذاب يفشون أحاديثه ويتلونه، فأخذهم ابن مسعود (فكتب ابن مسعود) (٢) إلى عثمان فكتب إليه: أن ادعهم إلى الإسلام فمن شهد منهم أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه ﷺ واختار الإيمان على الكفر فأقبل ذلك منهم وخل سبيلهم، فإن أبوا فاضرب أعناقهم، فاستتابهم فتاب بعضهم، وأبى بعضهم فضرب أعناق الذين أبوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ ابن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو حنیفہ قبیلہ کے کچھ لوگ جو مسیلمہ کذاب کے ساتھ تھے وہ اس کی باتوں کو ظاہر کرتے تھے اور ان کی تلاوت کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو پکڑ لیا پھر ان کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر اطلاع دی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر جواب دیا کہ ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دو ، پس ان میں سے جو تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقینا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور کفر کو چھوڑ کر ایمان کو اختیار کرلے تو تم ان سے ایمان کو قبول کرلو اور ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ اور اگر وہ انکار کردیں تو تم ان کی گردنیں مار دو ، پس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے توبہ طلب کی۔ ان میں سے بعض نے توبہ کرلی اور بعض نے انکار کردیا ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے انکار کرنے والوں کی گردنیں اڑا دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34948
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34948، ترقيم محمد عوامة 33423)