کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 34903
٣٤٩٠٣ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم عن عمرو بن ميمون أن عمر جعل على أهل السواد على كل جريب قفيزًا ودرهمًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھیتی والوں پر ہر کھیتی میں ایک قفیز اور ایک درہم مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34903، ترقيم محمد عوامة 33380)
حدیث نمبر: 34904
٣٤٩٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن أبي عون محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: وضع عمر على أهل السواد على كل جريب عامر أو غامر قفيزا ودرهما، وعلى جريب الرطبة خمسة دراهم وخمسة أقفزة، وعلى جريب الشجر عشرة دراهم وعشرة أقفزة، وعلى جريب الكرم عشرة دراهم وعشرة أقفزة، ولم يذكر النخل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل سواد پر ہر آباد یا غیر آباد زمین میں ایک قفیز اور ایک درہم مقرر فرمایا : اور سبزی کی کھیتی پر پانچ درہم اور پانچ قفیز مقرر فرمائے۔ اور درختوں کی کھیتی پر دس درہم اور دس قفیز مقرر فرمائے اور انگور کی کھیتی پر بھی دس درہم اور دس قفیز مقرر فرمائے۔ اور کھجور کا ذکر نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34904
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34904، ترقيم محمد عوامة 33381)
حدیث نمبر: 34905
٣٤٩٠٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي عون محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: وضع عمر بن الخطاب على السواد على كل جريب أرض يبلغه الماء عامر أو غامر درهما وقفيزا من طعام، (وعلى البساتين على كل جريب عشرة دراهم وعشرة أقفزة من طعام، وعلى الرطاب على) (١) كل جريب أرض خمسة دراهم وخمسة أقفزة من طعام، وعلى الكروم على كل جريب أرض عشرة دراهم وعشرة أقفزة، ولم يضع على النخل شيئا جعله تبعا للأرض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عون محمد بن عبد اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سواد والوں پر ہر کھیتی میں جس کی زمین پانی سے سیراب ہوتی ہو چاہے آباد ہو یا غیر آباد ایک درہم اور کھانے کا ایک قفیز مقرر فرمایا : اور باغات کی تمام کھیتیوں پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے۔ اور سبزیوں کی تمام کھیتیوں پر پانچ درہم اور کھانے کے پانچ قفیز مقرر فرمائے۔ اور انگور کی مکمل کھیتی پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے اور کھجور کی کھیتی پر کچھ مقرر نہیں فرمایا۔ اسے زمین کے تابع قرار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34905
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34905، ترقيم محمد عوامة 33382)
حدیث نمبر: 34906
٣٤٩٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن أبي مجلز قال: بعث عمر عثمان ابن حنيف على مساحة الأرض، قال: فوضع عثمان على الجريب من الكرم ⦗٢٥٢⦘ عشرة دراهم، وعلى جريب النخل ثمانية دراهم، وعلى جريب القصب (ستة) (١) دراهم يعني الرطبة، وعلى جريب (البر) (٢) أربعة دراهم، وعلى جريب الشعير درهمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عثمان بن حُنیف کو زمین کی پیمائش ناپنے کے لیے بھیجا۔ تو حضرت عثمان بن حنیف رحمہ اللہ نے انگور کی کھیتی پر دس درہم مقرر فرمائے اور کھجور کی کھیتی پر آٹھ درہم مقرر فرمائے۔ اور سبزی کی کھیتی پر چھ درہم مقرر فرمائے اور گیہوں کی کھیتی پر چار درہم مقرر فرمائے اور جو کی کھیتی پر دو درہم مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34906
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34906، ترقيم محمد عوامة 33383)
حدیث نمبر: 34907
٣٤٩٠٧ - حدثنا حفص عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن أبي مجلز أن عمر جعل على جريب النخل ثمانية دراهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھجور کی کھیتی پر آٹھ درہم مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34907
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، ابن أبي عروبة اختلط، وأبو مجلز لا يروي عن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34907، ترقيم محمد عوامة 33384)
حدیث نمبر: 34908
٣٤٩٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ليلى عن الحكم أن عمر بن الخطاب بعث عثمان بن حنيف على السواد فوضع على كل جريب عامر أو غامر يناله الماء درهما (وقفيرا) (١) يعني الحنطة والشعير، وعلى جريب الكرم عشرة، وعلى جريب الرطاب خمسة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عثمان بن حنیف رحمہ اللہ کو مالدار لوگوں کے پاس بھیجا۔ تو انہوں نے ہر آباد اور غیر آباد زمین کی کھیتی پر جو پانی سے سیراب ہوتی ہو ایک درہم اور گندم یا جو کا ایک قفیز مقرر فرمایا۔ اور ہر انگور کی کھیتی پر دس دس مقرر فرمائے ۔ اور سبزی کی کھیتی پر پانچ مقرر فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34908
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، والحكم لا يروي عن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34908، ترقيم محمد عوامة 33385)
حدیث نمبر: 34909
٣٤٩٠٩ - حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن أبان (تغلب) (١) عن رجل عن عمر أنه وضع على النخل على الرفلتين درهمًا، وعلى الفارسية درهمًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابان بن تغلب رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھجور کے دو لمبے درختوں پر ایک درہم مقرر فرمایا : اور ہر فارسی پر بھی ایک درہم مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34909
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34909، ترقيم محمد عوامة 33386)
حدیث نمبر: 34910
٣٤٩١٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عمرو بن ميمون قال: جئت وإذا عمر واقف على حذيفة وعثمان بن حنيف، فقال: تخافان أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق؟ فقال حذيفة: لو شئت لأضعفت أرضي، قال: وقال عثمان ⦗٢٥٣⦘ ابن حنيف: لقد حملت أرضي أمرا هي له مطيقة، وما فيها كثير فضل، فقال: انظرا ما لديكما أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں حاضر ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ تم دونوں کو اس بات کا خوف ہے کہ تم زمین والوں کو اس چیز کا مکلف بناؤ گے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین پر دگنا کر دوں۔ حضرت عثمان بن حنیف نے فرمایا کہ میں نے اپنی زمین کو ایسی چیز کا مکلف بنایا ہے جس کی وہ طاقت رکھتی ہے اور اس میں بہت فضل ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم دونوں سوچ لو کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین کو اس چیز کا مکلف بناؤ جس کی اس میں طاقت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34910
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٠٠)، وابن حبان (٦٩١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34910، ترقيم محمد عوامة 33387)
حدیث نمبر: 34911
٣٤٩١١ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت عمرو بن ميمون قال: دخل عثمان بن حنيف على عمر فسمعته يقول: لأن زدت على كل رأس درهمين وعلى كل جريب الأرض درهما وقفيزا من طعام لا يضرهم ذلك، ولا يجهدهم أو كلمة نحوها، قال: نعم، قال: فكان على كل رأس ثمانية وأربعون، فجعلها خمسين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن حنیف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہر ایک پر دو درہم کا اضافہ کردو اور ہر جریب زمین پر ایک درہم اور ایک قفیز غلے کا اضافہ کردو تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت عثمان بن حنیف نے اس کی تائید کی۔ پہلے ایک شخص کے ذمے اڑتالیس تھا اب پچاس کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34911
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34911، ترقيم محمد عوامة 33388)
حدیث نمبر: 34912
٣٤٩١٢ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا محمد بن طلحة عن داود بن سليمان قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى عبد الحميد بن عبد الرحمن: آمرك أن (تطرز) (١) أرضهم -يعني أهل الكوفة، ولا تحمل خرابا على عامر ولا عامرا على خراب، وانظر (الخراب) (٢) فخذ منه ما أطاق وأصلحه حتى يعمر، ولا تأخذ من العامر إلا وظيفة الخراج في رفق وتسكين لأهل الأرض، وآمرك أن لا تأخذ في الخراج إلا وزن سبعة ليس لها (أس) (٣)، ولا أجور الضرابين، ولا (٤) الفضة ولا هدية النيروز والمهرجان، ولا ثمن المصحف، ولا أجور الفتوح، ولا أجور البيوت ولا درهم النكاح، ولا (خراج) (٥) (على) (٦) من أسلم من أهل الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عبدالحمید بن عبدالرحمن کو خط لکھا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اہل کوفہ کی زمین پر غور کر۔ کسی بنجر زمین پر آباد زمین کا حکم نہ لگاؤ اور کسی آباد زمین پر بنجر زمین کا حکم نہ لگاؤ۔ بنجر زمین کو آباد کرنے کی پوری کوشش کرو۔ زمین کو آباد کرنے والے سے صرف خراج لو تاکہ ان کے ساتھ نرمی ہو اور انہیں سہولت ملے۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ خراج میں صرف سات کا وزن لو، ضرابین کی اجرت نہ لو۔ چاندی پگھلی ہوئی نہ لو۔ نیروز اور مرجان کا ہدیہ نہ لو۔ صحف کی قیمت نہ لو۔ فسوح کی اجرت نہ لو، کمروں کا کرایہ نہ لو، نکاح کا درہم نہ لو اور جو مسلمان ہوجائے اس سے خراج نہ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34912
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34912، ترقيم محمد عوامة 33389)