کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے یہودی اور نصرانی کے کھانے کے بارے میں یوں کہا
حدیث نمبر: 34881
٣٤٨٨١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سماك بن حرب عن قبيصة بن هلب عن أبيه قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن طعام النصارى فقال: "لا يختلجن في صدرك طعام ضارعت فيه نصرانية" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نصاریٰ کے کھانوں کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز شک مت ڈالے تیرے دل میں وہ کھانا جس کو تم عیسائیوں کے مشابہ پاؤ۔
حدیث نمبر: 34882
٣٤٨٨٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه لم ير بطعامهم بأسًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہود و نصاریٰ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 34883
٣٤٨٨٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن قيس بن سكن الأسدي قال: قال عبد اللَّه: إنكم نزلتم بين فارس والنبط، فإذا اشتريتم لحما (١) فإن كان ذبيحة يهودي أو نصراني فكلوه، وإن ذبحه مجوسي فلا تأكلوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سکن الاسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک تم لوگ ایرانی اور نبطی لوگوں کے درمیان اترتے ہو۔ پس جب تم ان سے گوشت خریدو تو اگر وہ یہودی یا نصرانی کا ذبح شدہ ہو تو اس کو کھالیا کرو ۔ اور اگر اس کو کسی مجوسی نے ذبح کیا ہو تو اس کو مت کھایا کرو۔
حدیث نمبر: 34884
٣٤٨٨٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ليث عن مجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : قرآن کی آیت : ترجمہ : اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔ اس میں اہل کتاب کے ذبح شدہ جانور مراد ہیں۔
حدیث نمبر: 34885
٣٤٨٨٥ - (و) (١) عن مغيرة عن إبراهيم: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ﴾ [المائدة: ٥]، قالا: الذبائح.
حدیث نمبر: 34886
٣٤٨٨٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا عمرو بن الضريس الأسدي قال: سألت الشعبي قال: قلت إنا نغزو أرض أرمينية أرض نصرانية فما ترى في ذبائحهم وطعامهم؟ قال: كنا إذا غزونا أرضا سألنا عن أهلها، فإذا قالوا: يهود أو نصارى أكلنا من ذبائحهم (وطعامهم) (١) وطبخنا في آنيتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر و بن ضریس اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا : کہ ہم لوگ آرمینیہ میں جہاد کرنے جا رہے ہیں جو کہ عیسائیوں کا علاقہ ہے ۔ آپ رحمہ اللہ کی ان کے ذبیحوں اور کھانے کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جب ہم کسی جگہ میں جہاد کرتے تھے تو ہم وہاں کے لوگوں کے متعلق پوچھ لیا کرتے تھے۔ اگر وہ کہتے : ہم یہود ہیں یا عیسائی ہیں۔ تو ہم ان کا ذبیحہ اور کھانا کھالیتے تھے، اور ہم ان کے برتنوں میں پکا لیتے تھے۔