کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن لوگوں نے مجوسیوں کے کھانے اور پھلوں کے بارے میں یوں کہا
حدیث نمبر: 34862
٣٤٨٦٢ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه أن امرأة سألت عائشة فقالت: إن لنا اظارا (١) من المجوس وأنهم يكون لهم العيد فيهدون لنا، فقالت: أما ما ذبح لذلك اليوم فلا تأكلوا، ولكن كلوا من أشجارهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : کہ ہمارے پاس مجوسیوں کی عورتیں ہیں ان کی عید ہوتی ہے تو وہ ہمیں کھانے کی اشیاء ہدیہ کرتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : بہر حال وہ اشیاء جو اس دن ذبح کی جاتی ہیں تم ان کو نہ کھاؤ لیکن تم ان کے درختوں سے کھالیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34862
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ قابوس فيه لين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34862، ترقيم محمد عوامة 33341)
حدیث نمبر: 34863
٣٤٨٦٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا الحسن بن حكيم عن أمه عن أبي (برزة) (١) الأسلمي أنه كان له سكان مجوس فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان، فيقول لأهله: ما كان من فاكهة فاقبلوه، وما كان سوى ذلك فردوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ اسلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ مجوسی آباد تھے۔ تو یہ لوگ نیروز اور مہرجان والے دن ہمیں ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ تو آپ رحمہ اللہ اپنے گھر والوں سے فرماتے : جو پھل وغیرہ میں سے ہو اس کو تو قبول کرلیا کرو اور جو چیز اس کے علاوہ ہو اس کو لوٹا دیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34863
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34863، ترقيم محمد عوامة 33342)
حدیث نمبر: 34864
٣٤٨٦٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن عن أبي برزة قال: كنا في غزاة لنا فلقينا أناسا من المشركين فاجهضناهم عن ملة لهم، فوقعنا فيها فجعلنا نأكل منها وكنا نسمع في الجاهلية أنه من أكل الخبز سمن، قال: فلما أكلنا تلك الخبزة جعل أحدنا ينظر في عطفيه هل سمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ کسی غزوہ میں شریک تھے۔ ہماری ملاقات مشرکین کے چند لوگوں سے ہوئی۔ تو ہم نے ان کو گرم راکھ پر بنی ہوئی روٹی کھانے سے روک دیا پھر ہم بھی اس میں پڑگئے اور ہم نے بھی اس کو کھانا شروع کردیا۔ اور ہم زمانہ جاہلیت میں سنتے تھے۔ جو شخص روٹی کھاتا ہے وہ فربہ ہوجاتا ہے۔ پس جب ہم نے یہ روٹی کھائی تو ہم میں سے ہر ایک اپنے کو یوں دیکھتا تھا کہ کیا وہ فربہ ہوگیا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34864
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34864، ترقيم محمد عوامة 33343)
حدیث نمبر: 34865
٣٤٨٦٥ - حدثنا جرير عن مغيرة (١) عن أبي وائل وإبراهيم قالا: لما قدم المسلمون أصابوا من أطعمة المجوس من جبنهم وخبزهم فأكلوا ولم يسألوا عن شيء من ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب مسلمان آئے اور انہوں نے مجوسیوں کا کھانا پایا ، ان کا پنیر اور ان کی روٹیاں وغیرہ پس انہوں نے یہ چیزیں کھا لیں اور انہوں نے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34865، ترقيم محمد عوامة 33344)
حدیث نمبر: 34866
٣٤٨٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: كان يكره أن يأكل مما طبخ المجوس في قدورهم، ولم يكن يرى بأسًا أن يؤكل من طعامهم مما سوى ذلك ⦗٢٤٤⦘ سمن أو (خبز) (١) أو كامخ (٢) أو (شيراز) (٣) أو لبن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ اس کھانے کو ناپسند کرتے تھے جو مجوسیوں کے برتن میں پکایا گیا ہو۔ اور وہ ان کے کھانوں کو تناول فرمانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے سوائے ان چیزوں کے ۔ گھی، پنیر، یا شوربہ یا مکھن یا دودھ وغیرہ کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34866
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34866، ترقيم محمد عوامة 33345)
حدیث نمبر: 34867
٣٤٨٦٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن هشام عن الحسن قال: لا بأس بخلهم وكامخهم وألبانهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج نہیں مجوسیوں کے سرکہ میں اور ان کے شوربے میں اور ان کے دودھ وغیرہ میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34867
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34867، ترقيم محمد عوامة 33346)
حدیث نمبر: 34868
٣٤٨٦٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن ليث عن مجاهد قال: لا تأكل من طعام المجوسي إلا الفاكهة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : تم مجوسی کے کھانوں میں سے پھل کے سوا کچھ بھی مت کھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34868
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34868، ترقيم محمد عوامة 33347)
حدیث نمبر: 34869
٣٤٨٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) هشام عن الحسن ومحمد قالا: كان المشركون يجيئون بالسمن في ظروفهم (فيشتريه) (٢) أصحاب رسول اللَّه ﷺ والمسلمون فيأكلونه ونحن نأكله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ اور حضرت محمد رحمہ اللہ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : مشرکین اپنے برتنوں میں گھی لایا کرتے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور مسلمان ان کو خرید لیتے تھے۔ پھر وہ بھی کھاتے تھے اور ہم بھی اس کو کھالیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34869
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34869، ترقيم محمد عوامة 33348)
حدیث نمبر: 34870
٣٤٨٧٠ - حدثنا حفص عن عاصم عن أبي عثمان قال: كنا نأكل السمن ولا نأكل الودك ولا نسأل عن الظروف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ گھی کھاتے تھے اور چربی و چکناہٹ نہیں کھاتے تھے۔ اور نہ ہی ہم برتنوں سے متعلق پوچھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34870، ترقيم محمد عوامة 33349)
حدیث نمبر: 34871
٣٤٨٧١ - حدثنا جرير عن منصور قال: سألت إبراهيم عن السمن الجبلي فقال: العربي أحب إلي منه، وإني لآكل من الجبلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے پہاڑی گھی کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : عربی مجھے زیادہ پسند ہے البتہ میں کھاتا پہاڑی گھی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34871
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34871، ترقيم محمد عوامة 33350)