کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
حدیث نمبر: 34842
٣٤٨٤٢ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن موسى بن أبي عائشة (قال) (١): سألت مرة عن الرجل يشتري أو يسبي المجوسية ثم يقع عليها قبل أن تعلم الإسلام، قال: لا يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مرہ رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے کسی مجوسی عورت کو خریدا یا قیدی بنایا ہو پھر وہ اس سے وطی کرلے اسلام کی تعلیم دینے سے پہلے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ درست کام نہیں ہے۔ اور راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا : تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جب اس نے ایساکام کیا تو اس نے اس کے ساتھ بھلائی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 34843
٣٤٨٤٣ - قال: وسألت سعيد بن جبير فقال: ما هو بخير منها إذا فعل ذلك.
حدیث نمبر: 34844
٣٤٨٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن موسى بن أبي عائشة قال: سألت مرة بن شراحيل الهمداني وسعيد بن جبير عن الأمة المجوسية يصيبها الرجل، أيطؤها، قال: لا يجامعها حتى تسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مرہ بن شراحیل الھمدانی اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مجوسی باندی کے متعلق سوال کیا کہ آدمی جب اسے پالے تو کیا اس سے وطی کرسکتا ہے ؟ حضرت مرہ نے فرمایا : وہ اس سے جماع نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے۔ اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر وہ اس کی طرف دوبارہ لوٹے گا تو یہ اس کے حق میں برائی کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 34845
٣٤٨٤٥ - وقال سعيد بن جبير: إن عاد إليها فهو شر منها.
حدیث نمبر: 34846
٣٤٨٤٦ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول قال: إذا كانت وليدة مجوسية فإنه لا ينكحها حتى تسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب لڑکی مجوسیہ ہو تو وہ اس سے نکاح نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلے۔
حدیث نمبر: 34847
٣٤٨٤٧ - حدثنا عيسى بن يونس (عن الأوزاعي) (١) عن الزهري سمعه يقول: (لا يقرب) (٢) المجوسية حتى تقول: لا إله إلا اللَّه فإذا قالت ذلك فهو منها إسلام.
مولانا محمد اویس سرور
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زہری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : تم مجوسی کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ لے۔ پس جب وہ یہ پڑھے تو اس کی جانب سے اسلام سمجھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 34848
٣٤٨٤٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن سماك عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: (لا) (١) يطأها حتى تسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اس سے وطی مت کرو یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلے۔
حدیث نمبر: 34849
٣٤٨٤٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى مجوس هجر يعرض عليهم الإسلام، فمن أسلم قبل منه، ومن أبى ضربت عليه الجزية، غير أن لا تؤكل لهم ذبيحة ولا (تنكح) (١) منهم امرأة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھجر کے مجوسیوں کی طرف خط لکھ کر ان پر اسلام پیش کیا۔ پس ان لوگوں میں سے جو اسلام لے آیا تو اس کے اسلام کو قبول کرلیا گیا۔ اور جس نے انکار کردیا تو اس پر جزیہ مقرر کردیا گیا۔ سوائے یہ کہ ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا اور ان کی عورتوں سے نکاح نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 34850
٣٤٨٥٠ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن في المجوسية تكون عند الرجل، قال: لا (يطؤها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے اس آدمی کے بارے میں یوں فرمایا : جس کے پاس مجوسیہ باندی ہو ۔ ا س کو چاہیے کہ وہ اس سے وطی مت کرے۔
حدیث نمبر: 34851
٣٤٨٥١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا سبيت ⦗٢٤١⦘ المجوسيات (وعبدة) (١) الأوثان عرض (عليهن) (٢) الإسلام و (أجبرن) (٣) (عليه) (٤) فإن أسلمن وطئن واستخدمن، كان أبين أن يسلمن استخدمن ولم (يوطأن) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب مجوسیہ عورتوں یا بت پرست عورتوں کو قید کرلیا جائے تو ان پر اسلام پیش کیا جائے گا اور ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا پس اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان سے وطی کی جائے گی اور ان سے خدمت کروائی جائے گی۔ اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کردیں تو ان سے خدمت تو لی جائے گی لیکن ان سے وطی نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 34852
٣٤٨٥٢ - حدثنا الثقفي عن (مثنى) (١) عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس أن يشتري الرجل الجارية المجوسية فيتسراها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی مجوسیہ باندی خریدے اور اس سے جماع کرے۔