کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے مجوس کے بارے میں یوں کہا کہ ان کے اور ان کے محرم کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟
حدیث نمبر: 34839
٣٤٨٣٩ - حدثنا ابن عيينة عن (عمرو) (١) بن دينار أنه سمع بجالة يحدث عمرو ابن أوس وأبا الشعثاء قال: كنت كاتبًا لجزء بن معاوية، فأتانا كتاب عمر أن اقتلوا كل ساحر وساحرة، وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس، وانههم عن الزمزمة (٢) فقتلنا ثلاث سواحر، وجعلنا نفرق بين المرء وبين حريمه في كتاب اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت بجالہ رحمہ اللہ عمرو بن اوس اور ابو الشعشاء کو بیان فرما رہے تھے کہ میں حضرت جزء بن معاویہ رحمہ اللہ کا کاتب تھا ۔ تو ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ تم ہر جادوگر اور جادوگرنی کو قتل کردو۔ اور مجوسیوں میں ہر ذی محرم کے درمیان تفریق کردو، اور ان کو کھانے کے دوران بات کرنے سے روک دو ۔ حضرت بجالہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا، اور ہم نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق تفریق کردی۔
حدیث نمبر: 34840
٣٤٨٤٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن أبي هند عن (قشير) (١) بن عمرو عن بجالة بن عبدة (العنبري) (٢) (قال) (٣): وكان كاتبا (لجزء) (٤) بن معاوية، وكان على طائفة الأهواز، فحدث أن أبا موسى وهو أمير البصرة كتب إلينا أن عمر ابن الخطاب كتب إليه يأمره بقتل الزمازمة حتى يتكلموا، وأن تنزع كل امرأة من حريمها، وأن يقتل كل ساحر، فكتب بهذا أبو موسى إلى جزء بن معاوية فدعا ⦗٢٣٩⦘ الزمازمة فتكلموا، قال: وكنا إذا كانت المرأة شابة نزعناها من حريمها وانكحناها آخر، وإذا كانت عجوزًا نهينا عنها وزجرنا عنها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بجالہ بن عبدۃ العنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جزء بن معاویہ رحمہ اللہ کا کاتب تھا اور آپ رحمہ اللہ اھواز کے لوگوں پر امیر مقرر تھے۔ اس دوران حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ جو کہ بصرہ کے امیر تھے انہوں نے ہماری طرف خط لکھا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھ کر حکم دیا ہے کہ وہ کھانے کے درمیان منہ بند کر کے آواز نکالنے والے مجوسیوں کو قتل کردیں یہاں تک کہ وہ کلام کریں۔ اور ہر عورت کو اس کے محرم سے چھین لیا جائے اور ہر جادوگر کو قتل کردیا جائے۔ تو حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ نے یہ خط حضرت جزء بن معاویہ کو بھی لکھ بھیجا۔ تو آپ رحمہ اللہ نے زمازمہ کو بلایا ، پس انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی۔ اور راوی کہتے ہیں جب کوئی عورت جوان ہوجاتی تو ہم اس کے محرم سے اس کو چھین لیتے اور کسی دوسرے سے اس کا نکاح کروا دیتے۔ اور اگر عورت بوڑھی ہوتی تو ہم اس کو روک دیتے اور اس پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے۔
حدیث نمبر: 34841
٣٤٨٤١ - حدثنا ابن علية عن عوف قال: حدثني عباد عن بجالة بن عبدة قال: كتب عمر إلى أبي موسى أن اعرضوا على من قبلكم من المجوس أن يدعوا نكاح أمهاتهم وبناتهم وأخواتهم، ويأكلوا جميعًا (١) يلحقوا بأهل الكتاب، واقتلوا كل ساحر وكاهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بجالہ ابن عبدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ کو خط لکھا : جو تمہاری طرف مجوسی ہیں ان پر یہ بات پیش کرو کہ وہ اپنی ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح چھوڑ دیں۔ اور وہ سب خاموش ہو کر کھائیں اور یہ کہ انہیں اہل کتاب سے ملا دیا جائے۔ اور ہر جادوگر اور جادوگرنی کو قتل کردو۔