کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں جو غنیمت کے اسلحہ سے مدد لیں بعض لوگوں نے یوں کہا
حدیث نمبر: 34795
٣٤٧٩٥ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن (أبي) (١) الأشهب قال: قلت للحسن: يا أبا سعيد: الرجل يكون (عاريًا) (٢) (يلبس) (٣) الثوب؟ أو يكون أعزل يلبس من السلاح؟ قال: يفعل، فإذا حضر القسم فليحضره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاشھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا : اے ابو سعید ! جو آدمی کپڑوں سے ننگا ہو کیا وہ غنیمت کے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ یا وہ نہتا ہو تو اسلحہ لے سکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ ایسا کرلے اور پھر جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگے ۔ تو وہ چیز حاضر کر دے۔
حدیث نمبر: 34796
٣٤٧٩٦ - حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا أصاب المسلمون السلاح والدواب فأرادوا أن يستعينوا به واحتاجوا فلا بأس به ولم يستأذنوا الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جب مسلمان اسلحہ اور جانور پالیں غنیمت کے مال سے۔ اور وہ ان سے مدد حاصل کرنا چاہیں اور وہ اس کے محتاج بھی ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں اگرچہ انہوں نے امیر سے اجازت نہ لی ہو۔
حدیث نمبر: 34797
٣٤٧٩٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبي وإسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: انتهيت إلى أبي جهل يوم (يدر) (١) وقد ضُربتْ رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد للَّه الذي أخزاك يا عدو اللَّه، فقال: هل هو إلا رجل قتله قومه، فجعلت أتناوله بسيف لي غير طائل فأصيبت يده فندر سيفه فأخذته فضربته (به) (٢) حتى برد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں غزوہ بدر کے دن ابو جہل ملعون کے پاس پہنچا اس حال میں کہ اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ تھا۔ اور وہ خود کو لوگوں سے بچا رہا تھا اپنی تلوار کے ذریعے۔ پس میں نے کہا : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے ذلیل و رسوا کیا اے اللہ کے دشمن۔ وہ کہنے لگا : کوئی آدمی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی قوم نے اس کو مار ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اپنی چھوٹی سی تلوار کے ذریعہ اس کو ٹٹولنا شروع کیا تو میں نے اس کے ہاتھ کو ہلایا اور اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑ لیا۔ اور اس کو مار دیا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔