حدیث نمبر: 34790
٣٤٧٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو (مكين) (١) بن أبان عن عكرمة أنه كره لبس الحرير والديباج في الحرب وقال: (أرجى) (٢) ما يكون للشهادة بلبسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مکین بن ابان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ جنگ میں ریشم اور دیباج پہننے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ اور فرماتے تھے : جو شخص شہادت کی امید رکھتا ہو کیا وہ یہ پہنے گا ؟ !۔
حدیث نمبر: 34791
٣٤٧٩١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يونس بن عبيد عن الحسن أنه كره لبس الحرير في الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ جنگ میں ریشم پہننے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 34792
٣٤٧٩٢ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن الوليد بن هشام قال: كتبت إلى ابن محيريز أسأله عن لبس الحرير واليلامق في دار الحرب، قال: فكتب: أَنْ كُنْ أشدَّ ما كنت كراهية لما يكره عند القتال حين تعرض نفسك للشهادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن محیریز رحمہ اللہ کو خط لکھ کر پوچھا : کیا دارالحرب میں ریشم اور لمبے کوٹ پہن سکتے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اس خط کا جواب لکھا : جب تم نے خود کو شہادت کے لیے پیش کردیا تو تم اس چیز کو زیادہ ناپسند کرو جو قتال کے وقت بھی مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 34793
٣٤٧٩٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي عن الوليد بن هشام عن ابن محيريز أنه كره لبسه في الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن محیریز رحمہ اللہ جنگ میں بھی ریشم پہننے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 34794
٣٤٧٩٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن الشعبي عن سويد بن غفلة قال: شهدنا اليرموك قال: فاستقبلنا عمر وعلينا الديباج (والحرير) (١)، فأمر فرمينا بالحجارة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جنگ یرموک میں حاضر ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارا استقبال کیا اس حال میں کہ ہم نے دیباج اور یشم پہنا ہوا تھا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ہمیں پتھر مارے گئے۔