حدیث نمبر: 34784
٣٤٧٨٤ - حدثنا ريحان بن سعيد عن مرزوق بن (عمرو) (١) قال: قال أبو فرقد: رأيت على (تجافيف) (٢) أبي موسى الحرير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرزوق بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو فرقد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت ابو موسیٰ کی زرہوں پر دیباج اور ریشم دیکھا۔
حدیث نمبر: 34785
٣٤٧٨٥ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام قال: كان أبي له يلمق من ديباج يلبسه في الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت میرے والد حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے پاس ریشم کا ایک بھراؤ دار چوغہ تھا جسے وہ جنگ میں پہنتے تھے۔
حدیث نمبر: 34786
٣٤٧٨٦ - حدثنا حفص بن ليث عن عطاء قال: لا بأس به إذا كان جبة أو سلاحًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج کی بات نہیں جبکہ وہ جبہ یا ہتھیار ہو۔
حدیث نمبر: 34787
٣٤٧٨٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء قال: لا بأس بلبس الحرير في الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا : جنگ میں ریشم پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 34788
٣٤٧٨٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا المنذر بن ثعلبة العبدي عن (علباء) (١) بن أحمر (اليشكري) (٢) أو ابن بريدة -شك المنذر- قال: قال ناس من المهاجرين لعمر: إذا رأينا العدو ورأيناهم قد كفروا (٣) سلاحهم بالحرير، فرأينا لذلك هيبة، فقال عمر: أنتم إن شئتم فكفروا على سلاحكم بالحرير والديباج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علیاء بن احمر الیشکری یا حضرت ابن بریدہ رحمہ اللہ ان دونوں میں سے کسی ایک نے ارشاد فرمایا : کہ مہاجرین میں سے چند لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : جب ہم نے دشمن کو دیکھا تو ہم نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہتھیار ریشم میں چھپائے ہوئے تھے۔ تو ہم یہ دیکھ کر گھبرا گئے ؟ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ چاہو تو تم بھی اپنے ہتھیاروں کو ریشم اور دیباج سے چھپالو۔
حدیث نمبر: 34789
٣٤٧٨٩ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: سألت محمدًا عن لبس الديباج في الحرب، فقال: من أين كانوا يجدون الديباج؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رحمہ اللہ سے جنگ میں ریشم پہننے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ لوگ کہاں ریشم پاتے تھے ؟