کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو امام عادل کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 34741
٣٤٧٤١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سعدان الجهني عن سعد أبي مجاهد الطائي عن أبي (مدلة) (١) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الإمام العادل لا ترد دعوته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منصف حکمران کی دعا رد نہیں کی جاتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34741
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو مدلة صدوق، وثقه أبو مجاهد كما عند ابن ماجه وحسن له الترمذي، أخرجه أحمد (٩٧٢٥)، وإسحاق (٣٠٢)، والطبراني في الدعاء (١٣٢٢)، كما أخرجه الترمذي (٢٥٢٦)، وابن حبان (٧٣٨٧)، والحاكم ٤/ ٢٤٦، وابن المبارك في الزهد (١٠٧٥)، وعبد ابن حميد (١٤٢٠)، والطيالسي (٢٥٨٤)، والبيهقي ٣/ ٣٥٤، وابن خزيمة (١٩٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34741، ترقيم محمد عوامة 33225)
حدیث نمبر: 34742
٣٤٧٤٢ - حدثنا أبو أسامة عن أشعث عن الحسن عن قيس بن عباد (قال) (١): لعمل إمام عادل يوما خير من عمل أحدكم ستين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : منصف حکمران کا ایک دن کا عمل تم میں سے کسی ایک کے ساٹھ سال کے عمل سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34742
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34742، ترقيم محمد عوامة 33226)
حدیث نمبر: 34743
٣٤٧٤٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد اللَّه بن مسلم عن ابن سابط عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) قال: في الجنة قصر يدعى عدنا حوله المروج (العروج) (٢)، له خمسة آلاف باب لا يسكنه أو لا يدخله إلا نبي أو صديق أو شهيد أو إمام عادل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے ۔ اس کے ارد گرد اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں۔ اس میں سکونت اختیار نہیں کرے گا یا اس میں داخل نہیں ہو سکے گا سوائے نبی کے یا صدیق کے یا شہید کے یا منصف حکمران کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34743
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن مسلم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34743، ترقيم محمد عوامة 33227)
حدیث نمبر: 34744
٣٤٧٤٤ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: ثنا عوف عن زياد بن مخراق عن أبي كنانة عن أبي موسى قال: إن من إجلال اللَّه إكرام ذي الشيبة المسلم، وحامل القرآن غير الغالي فيه ولا الجافي عنه، وإكرام ذي السلطان المقسط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کنانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ کے احترام میں سے ہے کسی بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور حامل قرآن جو نہ اس میں غلو کرتا ہو اور نہ اس سے غفلت برتتا ہو اس کا اکرام کرنا ، عدل و انصاف کرنے والے بادشاہ کا اکرام کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34744
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34744، ترقيم محمد عوامة 33228)
حدیث نمبر: 34745
٣٤٧٤٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ليث عن مجاهد قال: قال (عمار) (١): ثلاث لا (يستخف) (٢) بحقهن إلا منافق بين نفاقه: الإمام المقسط، ومعلم الخير، وذو الشيبة في الإسلام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ کوئی ان کے حق سے استخفاف نہیں برت سکتا سوائے اس منافق کے جس کا نفاق بالکل ظاہر ہو۔ پہلا منصف حکمران، دوسرا بھلائی کی بات سکھلانے والا، اور اسلام میں بڑھاپے کو پہنچنے والا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34745
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ لضعف ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34745، ترقيم محمد عوامة 33229)
حدیث نمبر: 34746
٣٤٧٤٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو مكين قال: سمعت زيد بن أسلم يقول: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ [النساء: ٥٨]، قال: (أنزلت) (١) في ولاة الأمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مکین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ نے اس آیت کا شان نزول یوں فرمایا : آیت : {إنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إلَی أَہْلِہَا وَإِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ } آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ آیت امیروں کے معاملات کے بارے میں نازل ہوئی ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34746
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34746، ترقيم محمد عوامة 33230)
حدیث نمبر: 34747
٣٤٧٤٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ابن أبي ليلى عن رجل عن ابن عباس: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾، قال: هذه مبهمة للبر والفاجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن کی اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا : آیت {إنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إلَی أَہْلِہَا } یہ آیت مبہم ہے۔ نیکوکار اور بدکار دونوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34747
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34747، ترقيم محمد عوامة 33231)