حدیث نمبر: 34722
٣٤٧٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد أن الحارث بن (يزيد) (١) الحضرمي أخبره أن أبا ذر سأل رسول اللَّه ﷺ الإمارة، وأن رسول اللَّه ﷺ قال: "إنك ضعيف وإنها أمانة، وإنها يوم القيامة خزي وندامة، إلا من أخذها بحقها وأدى الذي عليه فيها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن یزید الخضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منصب حکومت کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا تو کمزور ہے۔ اور بیشک یہ بہت بڑی امانت ہے ۔ اور بیشک یہ قیامت کے دن ذلت اور شرمندگی کا سبب ہوگی۔ سوائے اس شخص کے لیے جس نے اس کو حق کے ساتھ پکڑا اور اس بارے میں جو اس پر لازم تھا وہ حق ادا کیا۔
حدیث نمبر: 34723
٣٤٧٢٣ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا بريد بن عبد اللَّه عن أبي بردة عن أبي موسى قال: دخلت على رسول اللَّه ﷺ أنا ورجلان من بني عمي، فقال أحد الرجلين: يا رسول اللَّه أمرنا على بعض ما ولاك اللَّه، وقال الآخر: مثل ذلك، قال: فقال: "إنا واللَّه لا نولي هذا العمل أحدًا سأله، ولا أحدًا حرص عليه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو چچا زاد بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلطنت عطا فرمائی ہے اس میں سے کسی حصہ پر ہمیں بھی امیر بنادیں۔ اور دوسرے شخص نے بھی یہی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا اللہ کی قسم ! ہم یہ عہدہ اس شخص کو سپرد نہیں کرتے جو اس کا سوال کرے اور نہ اس شخص کو جو اس پر لالچی ہو۔
حدیث نمبر: 34724
٣٤٧٢٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم ستحرصون على الإمارة، وستصير حسرة وندامة، فنعمت المرضعة وبئست الفاطمة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم لوگ امارت پر حرص کرنے لگو گے۔
حدیث نمبر: 34725
٣٤٧٢٥ - حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: ثنا مسعر قال: ثنا علي بن زيد بن جدعان (قال: ثنا الحسن) (١) قال: ثنا عبد الرحمن بن سمرة قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "لا تسأل الإمارة، فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها، وإن أوتيتها عن غير مسألة أعنت عليها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تم کبھی بھی منصب حکومت کا سوال مت کرنا۔ بیشک اگر تمہیں یہ مانگنے سے دی گئی تو تمہیں اس کی طرف سپر د کردیا جائے گا۔ اور اگر تمہیں بغیر مانگے دے دی گئی تو پھر اس پر تمہاری مدد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 34726
٣٤٧٢٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن محمد بن المنكدر قال: قال العباس: يا رسول اللَّه، ألا تستعملني؟ فقال: "يا عباس يا عم رسول اللَّه، نفس تنجيها خير من إمارة لا تحصيها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے امیر کیوں نہیں بناتے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عباس ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ! جس نفس کو امارت سے نجات دی جائے وہ امارت سے بہت بہتر ہے آپ رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
حدیث نمبر: 34727
٣٤٧٢٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد (عن عامر) (١) عن مسروق عن عبد اللَّه بن مسعود قال: ما من حكم يحكم بين الناس إلا حشر يوم القيامة وملك آخذ بقفاه حتى يقف به على (٢) جهنم ثم يرفع رأسه إلى الرحمن، فإن قال: اطرحه، طرحه في مهوى أربعين خريفا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی فیصلہ کرنے والا لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کا ایسا حشر کیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اس کو گردن سے پکڑے گا یہاں تک کہ اس کو جہنم کے کنارے لا کر کھڑا کر دے گا۔ پھر اپنا سر رحمن کی طرف اٹھائے گا۔ اگر رحمن اس کو کہہ دے اس کو جہنم میں ڈال دو ۔ تو وہ اس کو چالیس سال کی مسافت کے برابر جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک ایک دن عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں ایک سال جہاد کروں۔
حدیث نمبر: 34728
٣٤٧٢٨ - قال: وقال مسروق: (لآن) (١) أقضي يومًا واحدًا بعدل وحق، أحب إلي من سنة أغزوها في سبيل اللَّه.
حدیث نمبر: 34729
٣٤٧٢٩ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا فضيل بن غزوان عن محمد (الراسبي) (١) عن بشر بن عاصم قال: كتب عمر بن الخطاب عهده فقال: لا حاجة لي فيه، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن الولاة يجاء بهم يوم القيامة فيقفون على شفير جهنم، فمن كان (مطواعا) (٢) للَّه تناوله اللَّه بيمينه حتى ينجيه، ومن عصى اللَّه انخرق به الجسر إلى واد من نار (تلتهب) (٣) التهابًا"، قال: قال رسول اللَّه ﷺ، فأرسل عمر إلى أبي ذر وإلى سلمان، فقال لأبي ذر: أنت سمعت هذا الحديث من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم واللَّه، وبعد الوادي واد آخر من نار، قال: وسأل سلمان فكره أن يخبر بشيء، فقال عمر: من يأخذها بما فيها، فقال أبو ذر: من (سلت) (٤) ⦗٢١٢⦘ اللَّه أنفه وعينيه وأصدع خده إلى الأرض (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک عہدہ سپرد کرنا چاہا۔ تو انہوں نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ عہدیداران سلطنت کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان کو جہنم کے کنارے پر کھڑا کردیا جائے گا۔ پس ان میں سے جو اللہ کا فرمانبردار ہوگا تو اللہ اس کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑ لیں گے یہاں تک کہ اس کہ جہنم سے نجات دیں گے ، اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی ہوگی تو جہنم کا پُل اس کو وادی میں پھینکے گا جہاں آگ اس کو لپیٹ لے گی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا۔ اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں۔ اللہ کی قسم ! اور فرمایا : اس وادی کے بعد جہنم کی ایک اور وادی ہوگی۔ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا : تو انہوں نے اس بارے میں کچھ بھی بتانا ناپسند کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب اس بارے میں ایسی بات ہے تو اس کو کون شخص لے گا ؟ تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس شخص کے اللہ ناک اور آنکھ کاٹے اور جس کو ذلیل کرنا چاہے۔
حدیث نمبر: 34730
٣٤٧٣٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عطاء بن السائب عن مالك بن الحارث عن (خيثمة) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الإمارة باب (عنت) (٢) إلا من (رحمه) (٣) اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امارت مشقت کا دروازہ ہے مگر جس پر اللہ رحم فرما دیں۔
حدیث نمبر: 34731
٣٤٧٣١ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن عروة عن أبيه قال: قال عمر: ما حرص رجل كل الحرص على الإمارة فعدل فيها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کسی آدمی نے امارت پر بالکل بھی حرص نہیں کی تو اس نے اس معاملہ میں انصاف کیا۔
حدیث نمبر: 34732
٣٤٧٣٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن هارون الحضرمي عن أبي بكر بن حفص أن عمر بن الخطاب استعمل رجلًا فقال: يا أمير المؤمنين (أشر) (١) علي، قال: اجلس وأكتم علي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حفص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حاکم بنایا، تو وہ کہنے لگا : اے امیر المؤمنین ! مجھے مشورہ دیجئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ اور مجھ پر یہ با ت چھپاؤ۔
حدیث نمبر: 34733
٣٤٧٣٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو الأشهب جعفر بن (حيان) (١) عن ⦗٢١٣⦘ الأعمش (٢) أن النبي ﷺ استعمل رجلا فقال: يا رسول اللَّه خر لي، قال: "اجلس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو امیر بنایا تو وہ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کوئی بھلائی والا مشورہ دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔
حدیث نمبر: 34734
٣٤٧٣٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف اليامي قال: قال خالد بن الوليد: لا (ترزأن) (١) معاهدا (إبرة) (٢)، ولا تمش (ثلاث) (٣) (خطى) (٤) تتأمر على رجلين، ولا تبغ لإمام المسلمين غائلة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن مصرف الیامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم کبھی بھی کیے ہوئے معاہدے میں سے ایک سوئی بھی کم مت کرو۔ اور تم تین قدم بھی نہ چلو کہ تم دو آدمیوں پر امیر ہو، اور مسلمانوں کے امیر کو دھوکہ مت دو ۔
حدیث نمبر: 34735
٣٤٧٣٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا جعفر بن برقان عن حبيب بن أبي (مرزوق) (١) عن ميمون عن رجل من عبد القيس قال: رأيت سلمان على حمار في سرية هو أميرها، (وخدمتاه) (٢) (تذبذبان) (٣) والجند يقولون: جاء الأمير جاء الأمير، (قال) (٤): فقال سلمان: إنما الخير والشر فيما بعد اليوم، فإن استطعت أن تأكل من التراب ولا تأمر على رجلين فافعل، واتق دعوة المظلوم فإنها لا تحجب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی جن کا تعلق قبیلہ عبد القیس سے ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو گدھے پر دیکھا ایک لشکر میں جس کے وہ امیر تھے ۔ اور ان کی دونوں پنڈلیاں کانپ رہی تھیں اور لشکر والے کہہ رہے تھے۔ امیرآ گئے ! امیر آگئے ! اس پر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک اس بارے میں برائی اور بھلائی کا فیصلہ تو آج کے دن کے بعد ہوگا۔ اور فرمایا : اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ مٹی کھالو اور دو آدمیوں پر امیر نہ بنو تو ایسا کرلو۔ اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے لیے کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 34736
٣٤٧٣٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن (فائد) (١) قال: حدثني فلان عن سعد بن عبادة قال: حدثنا عن رسول اللَّه ﷺ قال: "ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولًا، لا يفكه من غله ذلك إلا العدل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی دس لوگوں کا امیر مگر یہ کہ قیامت کے دن اس شخص کو لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کے گلے میں طوق ہوگا۔ اس کو نجات نہیں مل سکتی اس طوق سے سوائے عدل کرنے کی صورت میں۔
حدیث نمبر: 34737
٣٤٧٣٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من أمير ثلاثة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولة يداه إلى عنقه، أطلقه الحق أو أوثقه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی تین آدمیوں کا امیر مگر یہ کہ اس کو قیامت کے دن لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ انصاف کرنا اس سے آزاد کرا دے گا۔ یا انصاف نہ کرنا اس کو مضبوط باندھے گا۔
حدیث نمبر: 34738
٣٤٧٣٨ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا ابن أبي خالد عن إسماعيل الأودي قال: أخبرتني بنت معقل بن يسار أن أباها قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ليس من وال يلي أمة قلت أو كثرت لا يعدل فيها إلا كبه اللَّه على وجهه في النار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کسی بھی رعایا کا حاکم چاہے رعایا تھوڑی ہو یا زیادہ اور وہ ان میں عدل و انصاف نہ کرتا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 34739
٣٤٧٣٩ - حدثنا علي بن مسهر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن (يسار) (١) عن ابن عمر عن أبي هريرة قال: ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة (٢) أطلقه الحق أو أوثقه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی بھی تین آدمیوں کا امیر مگر یہ کہ اس کو قیامت کے دن لایا جائے گا۔ انصاف کرنا اس کو آزاد کرا دے گا یا انصاف نہ کرنا اس کو باندھ دے گا۔
حدیث نمبر: 34740
٣٤٧٤٠ - حدثنا خالد بن مخلد قال: ثنا إسحاق بن حازم قال: ثنا عثمان بن محمد بن الأخنس عن إسماعيل بن محمد بن سعد قال: قال سعد: (كفيتم) (١) إن الإمرة لا تزيد الإنسان في دينه (خيرًا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن محمد بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تمہیں یہ بات کافی ہے کہ منصب حکومت انسان کے دین میں کسی بھلائی کا اضافہ نہیں کرتی۔