کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس عورت کا بیان جو فوت ہو جائے اور اس کے بیٹے اور دو بیٹیاں ہوں اور ایک بیٹی غائب ہو
حدیث نمبر: 33785
٣٣٧٨٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زكريا سمعت عامرًا يقول في امرأة توفيت ولها ثلاثة بنين ذكور وابنتان إحداهما غائبة بالشام والأخرى عندها، فزعمت أن لها عند ابنتها التي بالشام مالًا، وأنها قالت (لبنيها) (١): أحب أن تطلبوا لها المال الذي عندها بما يصيبها من ميراثي، (فقالوا: نعم، قالت: (وأحب) (٢) أن تجعلوا ما يصيبها من ميراثي) (٣) لأختها (فيصيبها) (٤) (كما يصيب) (٥) رجل منكم، ⦗٤٠٠⦘ فقالوا: نعم، ثم إن ابنتها جاءت بعد ما اقتسموا الميراث فطلبت ما يصيبها من ميراثها، قالت: لم يكن لها عندي مال، (فسئل) (٦) إبراهيم فقال: يؤخذ من كل إنسان منهم بالسوية فيرد عليها، وقال عامر: يؤخذ أحد السهمين اللذين أصابت الجارية فيرد على أختها، فيصيب كلَ واحدة منهما سهمٌ ولكل رجل سهمان.
مولانا محمد اویس سرور
زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر کو اس عورت کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو فوت ہوئی تو اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اور ایک شام میں غائب تھی اور دوسری اس کے پاس تھی، اس کا گمان تھا کہ اس کے پاس اس شام میں غائب ہونے والی بیٹی کے لئے مال ہے، اور اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ تم اس کے لئے مال تلاش کرو جو اس کے پاس ہے، اس کے عوض جو اس کو میراث میں ملے گا، انہوں نے کہا جی ہاں ! اور اس نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اس کی میراث اس کی بہن کو دے دوں، اس طرح اس کو اتنا مال مل جائے جتنا ایک مرد کو ملتا ہے، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ، پھر اس کی بیٹی میراث کی تقسیم کے بعد آئی، اور اس نے اپنے حصّے کی میراث کا مطالبہ کیا، اس نے کہا کہ اس کے لئے میرے پاس مال نہیں، تو ابراہیم نے فرمایا کہ ہر شخص سے برابر حصّہ لے کر اس کو دیا جائے گا، اور حضرت عامر نے فرمایا کہ دو حصّے جو لڑکی نے لیے ان میں سے ایک حصّہ لیا جائے گا اور اس کی بہن کو واپس دیا جائے گا، اس طرح ہر ایک کو ایک ایک حصّہ اور ہر مرد کو دو حصّے ملیں گے۔