کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے غلام کو آزاد چھوڑ دے، یہ کہہ کر کہ کسی کو تم پر ولایت نہیں، کہ اس کی میراث کس کو ملے گی؟
حدیث نمبر: 33562
٣٣٥٦٢ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن عطاء أن رجلًا أعتق غلاما له سائبة، فمات وترك مالًا، فسئل ابن مسعود فقال: إن أهل الإسلام لا يسيبون، إنما (كانت تسيب) (١) أهل الجاهلية، أنت مولاه وولي نعمته وأولى الناس بميراثه، [وإن (تحرجت من شيء) (٢) (فها هنا) (٣) (ورثة) (٤) (كثير) (٥) يعني (بيت) (٦) المال] (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اس طرح آزاد کردیا کہ کسی کو اس پر ولایت نہ ہوگی، چناچہ وہ مرگیا اور اس نے مال چھوڑا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا بیشک اہل اسلام آزاد نہیں چھوڑتے، بیشک اہل جاہلیت ہی آزاد چھوڑتے تھے، آپ اس کے مولیٰ ، اور دوسرے لوگوں سے اس کے زیادہ حق دار ہیں، ورنہ اس کا مال میرے پاس لے آؤ، یہاں بہت سے ورثاء ہیں، یعنی بیت المال۔
حدیث نمبر: 33563
٣٣٥٦٣ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن الشعبي قال: أتي ابن مسعود بمال (١) أناس أعتقوه سائبة، فقال لمواليه: هذا مال مولاكم، قالوا: لا حاجة لنا به، إنا كنا أعتقناه سائبة، فقال ابن مسعود: إن في أموال المسلمين له موضعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آزاد شدہ غلام کا مال لایا گیا، جس کے آقاؤں نے اس کو اس طرح آزاد چھوڑا تھا کہ کوئی اس کا وارث نہ ہوگا، آپ نے اس کے آقاؤں کو کہا، یہ تمہارے آزاد شدہ غلام کا مال ہے، وہ کہنے لگے ہمیں اس مال کی کوئی حاجت نہیں ہم نے اس کو اس طرح آزاد کیا تھا کہ کسی کو اس پر ولایت نہ ہوگی، آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے مال کی جگہیں مقرر ہیں۔
حدیث نمبر: 33564
٣٣٥٦٤ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن أبي عثمان (قال) (١): قال عمر: السائبة والصدقة ليومهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آزاد چھوڑا ہوا غلام اور صدقہ قیامت کے دن کے لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 33565
٣٣٥٦٥ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن بكر بن عبد اللَّه المزني أن ابن عمر أتي بثلاثين ألفًا، قال: أحسبه، قال: (أعتقه) (١) سائبة (فأمر أن يشترى) (٢) به (رقاب) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تیس ہزار درہم لائے گئے، راوی کہتے ہیں کہ یہ میرا گمان ہے، کہ لانے والے نے کہا کہ اس کو اس طرح چھوڑ دیں، کہ ان کا کوئی ولی نہ ہو ۔ آپ نے فرمایا، کہ اس سے غلام خرید لیا جائے۔
حدیث نمبر: 33566
٣٣٥٦٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا زكريا عن عامر في رجل أعتق غلاما له سائبة (١)، قال: الميراث لمولاه.
مولانا محمد اویس سرور
زکریا روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے غلام کو اس طرح آزاد کردیا کہ اس پر کسی کو ولایت نہ ہو، آپ نے فرمایا اس کی میراث اس کے مولیٰ کو ملے گی۔
حدیث نمبر: 33567
٣٣٥٦٧ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس قال: سئل الحسن عن ميراث السائبة فقال: كل (عتق) (١) سائبة.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں ، کہ حسن سے اس غلام کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا جس کو اس کے آقا نے کسی کی ولایت نہ ہونے کی شرط پر آزاد کیا ہو، آپ نے فرمایا، ہر آزاد شدہ کا یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 33568
٣٣٥٦٨ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: لا أعلم ميراث السائبة إلا لمواليه إلا أن. . . (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابن عون محمد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا، کہ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ ایسے غلاموں کی میراث اس کے آقاؤں کے لئے ہوگی، مگر یہ کہ …
حدیث نمبر: 33569
٣٣٥٦٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي عمرو (الشيباني) (١) قال: قال عبد اللَّه: السائبة يضع ماله حيث شاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا، ایسا غلام جہاں چاہے اپنا مال لگا دے۔
حدیث نمبر: 33570
٣٣٥٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا بسطام بن مسلم عن عطاء بن أبي رباح أن طارق بن (المرقع) (١) أعتق غلامًا له للَّه، فمات وترك مالًا، فعرض على مولاه طارق فقال: شيء جعلته للَّه فلست بعائد فيه، فكتب في ذلك إلى عمر، فكتب عمر أن اعرضوا المال على طارق، فإن قبله (٢)، وإلا فاشتروا به رقيقًا فأعتقوهم، قال: فبلغ (٣) خمسة عشر رأسًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ ، طارق بن مرقع نے اپنا غلام اللہ کے لئے آزاد کیا چناچہ وہ مرگیا اور اس نے اپنا مال چھوڑا ، اس کو اس کے آقا طارق پر پیش کیا گیا تو وہ کہنے لگے یہ ایسی چیز ہے جو میں نے اللہ کے لئے چھوڑ دی ہے اس لئے میں اس کو دوبارہ لینے والا نہیں، چناچہ اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا۔ آپ نے فرمایا، کہ مال طارق کو دے دو ، اگر وہ لے لے تو ٹھیک ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کردو، راوی فرماتے ہیں، کہ وہ مال پندرہ غلاموں کی قیمت تک جا پہنچا۔
حدیث نمبر: 33571
٣٣٥٧١ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد أن امرأة من الأنصار اعتقت سالما سائبة، ثم قالت له: (والِ) (١) من شئت، فوالى أبا حذيفة بن عتبة، فأصيب يوم اليمامة (فرفع) (٢) ماله إلى (التي) (٣) أعتقته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک انصاریہ عورت نے حضرت سالم کو کسی کی ولایت نہ ہونے کی شرط پر آزاد کردیا، اور کہا جس کو چاہو اپنا ولی بنا لو، انہوں نے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ بن عتبہ کو اپنا ولی بنایا، چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوگئے اور ان کا مال اس عورت کو دیا گیا جس نے ان کو آزاد کیا تھا۔