کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس بات کا بیان کہ ولد الزنا کی میراث کس کو ملے گی؟
حدیث نمبر: 33487
٣٣٤٨٧ - حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم (قال: ميراث) (١) اللقيط بمنزلة اللقطة.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ ابراہیم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ راستے میں ملنے والے بچے کی میراث کا حکم وہی ہے جو راستے میں ملنے والے مال کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33487، ترقيم محمد عوامة 32006)
حدیث نمبر: 33488
٣٣٤٨٨ - حدثنا عبد السلام عن الحارث بن (حصيرة) (١) عن زيد بن وهب قال: لما (رجم) (٢) علي المرأة، قال لأهلها: هذا ابنكم ترثونه ولا (٣) يرثكم، وإن (جنى جناية) (٤) فعليكم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
زید بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عورت کو سنگسار کیا تو اس عورت کے ورثاء کو فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے، تم اس کے وارث ہو گے اور وہ تمہارا وارث ہوگا، اور اگر یہ کوئی جر م کرے تو اس کا تاوان تم پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33488
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث بن حصيرة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33488، ترقيم محمد عوامة 32007)
حدیث نمبر: 33489
٣٣٤٨٩ - حدثنا عباد (بن العوام) (١) عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي وعبد اللَّه في ابن الملاعنة أمه عصبته، وعصبتها عصبته، وولد الزنا بمنزلته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فرمایا کہ اس کی ماں اور اس کی ماں کے عصبہ اس بچے کے عصبہ ہیں اور ولد الزنا (حرامی) کا حکم بھی وہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33489
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ محمد بن سالم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33489، ترقيم محمد عوامة 32008)
حدیث نمبر: 33490
٣٣٤٩٠ - حدثنا عباد عن عمر بن عامر عن حماد عن إبراهيم قال: ميراثه كله لأمه يعني ابن الملاعنة، ويعقل (عنه) (١) عصبتها، وكذلك ولد الزنا، وولد النصراني وأمه مسلمة.
مولانا محمد اویس سرور
حماد روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کی تمام وراثت اس کی ماں کے لئے ہے اور اس کے جرم کا تاوان اس کے عصبہ ادا کریں گے اور حرامی بچے کا ، اور اس نصرانی کے بچے کا جس کی ماں مسلمان ہو یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33490
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33490، ترقيم محمد عوامة 32009)
حدیث نمبر: 33491
٣٣٤٩١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: ولد الملاعنة وولد الزنا يتوارثان من قبل الأم.
مولانا محمد اویس سرور
معمر روایت کرتے ہیں کہ زہری نے فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کا بیٹا اور حرامی بچّہ، دونوں اپنی ماں کی جانب سے رشتہ داروں کے وارث ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33491
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33491، ترقيم محمد عوامة 32010)
حدیث نمبر: 33492
٣٣٤٩٢ - حدثنا حفص عن (عمرو) (١) عن الحسن قال: ولد الزنا بمنزلة ابن الملاعنة، أو ابن الملاعنة بمنزلة ولد الزنا.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو راوی ہیں کہ حسن نے فرمایا کہ حرامی بچے کا وہی حکم ہے جو لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا حکم ہے، یا یہ فرمایا کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا وہی حکم ہے جو حرامی بچے کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33492، ترقيم محمد عوامة 32011)
حدیث نمبر: 33493
٣٣٤٩٣ - حدثنا وكيع عن الأشعث عن الشعبي قال: كتب هشام بن هبيرة إلى شريح يسأله عن ميراث ولد الزنا، فكتب إليه: ارفعه إلى السلطان (فليلِ) (١) حزونته وسهولته.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ ابن ہبیرہ نے بذریہ خط حضرت شریح سے حرامی بچے کی میراث کے بارے میں سوال کیا کہ تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ بادشاہ تک پہنچاؤ کہ اس کی کفالت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33493
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33493، ترقيم محمد عوامة 32012)
حدیث نمبر: 33494
٣٣٤٩٤ - حدثنا يحيى بن آدم عن إبراهيم عن الحسن بن الحارث عن الحكم قال: ولد الزنا وولد (المتلاعنين) (١) ترثهما أمهما وأخوالهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بن حرّ حضرت حکم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ حرامی اور لعان کرنے والوں کی ماں اور اس کے ننھیال اس کے وارث ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33494
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33494، ترقيم محمد عوامة 32013)