کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان حضرات کے قول کی وضاحت جو فرماتے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے کا وارث بنایا جائے گا، کہ یہ کیسے ہو گا؟
حدیث نمبر: 33486
٣٣٤٨٦ - حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن سالم عن إبراهيم (و) (١) الشعبي أنه سمعهما يفسران قولهم: يورث بعضهم من بعض قالا: إذا مات أحدهما وترك مالًا، ولم يترك (الآخر) (٢) شيئًا، ورث ورثة الذي لم يترك شيئا ميراث صاحب المال، ولم يكن لورثة صاحب المال شيء.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سالم کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم اور شعبی رحمہ اللہ کو اس بات کی وضاحت کرتے سنا کہ ” ان غرق ہونے والوں کو ایک دوسرے کا وارث بنایا جائے گا “ فرمایا کہ جب دو ورثاء میں سے ایک مال چھوڑ کر مرے اور دوسرا کچھ مال نہ چھوڑ کر جائے تو جو آدمی مال نہیں چھوڑ کر مرا، اس کے ورثہ مال والے شخص کی میراث پائیں گے اور مال والے آدمی کو کچھ نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33486
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33486، ترقيم محمد عوامة 32005)