کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا لوگوں میں سے کوئی وارث ہو گا، ان کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جائے گا
حدیث نمبر: 33480
٣٣٤٨٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن داود بن أبي هند عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يورث الأحياء من الأموات، ولا يورث الغرقى بعضهم من بعض.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد بن ابی ہند عمر بن عبد العزیز کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ زندوں کو مردوں کا وارث بناتے تھے اور ڈوب جانے والوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 33481
٣٣٤٨١ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة قال: كان في كتاب عمر بن عبد العزيز: يرث كلَ إنسان وارثُهُ من الناس.
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے خط میں یہ بات تھی کہ ہر انسان لوگوں میں سے اس شخص کا وارث ہوگا جو اس کا وارث ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 33482
٣٣٤٨٢ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: أتته امرأة فقالت: إن أخي وابن أخي خرجا في سفينة فغرقا، فلم يورثهما شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
اعمش روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا بھائی اور میرا بھتیجا ایک کشتی میں سفر کر رہے تھے کہ دونوں غرق ہوگئے، آپ نے ان دونوں کو کسی چیز کا وارث نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 33483
٣٣٤٨٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا حسين عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا يرث واحد منهما (مما) (١) ورث من صاحبه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے سے اس مال کا وارث نہیں ہوگا جس کا وہ اس سے وارث ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 33484
٣٣٤٨٤ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في الذين يموتون جميعًا، لا يدرى (أيهم) (١) (مات) (٢) قبل صاحبه، قال: (لا) (٣) يورث بعضهم من بعض.
مولانا محمد اویس سرور
معمّر زہری سے ان لوگوں کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اس طرح اکٹھے مرجائیں کہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان میں سے کون دوسرے سے پہلے مرا ہے، فرمایا ان کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جائے گا۔