کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: غرق ہو جانے والوں کا بیان، اور ان لوگوں کا بیان جو ڈوبنے والوں کو ایک دوسرے کا وارث بناتے ہیں
حدیث نمبر: 33467
٣٣٤٦٧ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي المنهال عنِ أياس بن (عبد) (١) المزني أنه سئل عن أناس سقط عليهم بيت فماتوا جميعًا، فورث بعضهم من بعض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابوا لمنہال روایت کرتے ہیں کہ حضرت ایاس بن عبد مزنی سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا گیا جن پر گھر گرگیا اور وہ سب مرگئے، آپ نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔
حدیث نمبر: 33468
٣٣٤٦٨ - حدثنا هشيم عن مغيرة قال: أخبرني (قطن) (١) بن عبد اللَّه الضبي أن امرأة ركبت (٢) الفرات ومعها ابن لها فغرقا جميعًا، فلم يدر أيهما مات قبل صاحبه فأتينا شريحا فأخبرناه بذلك، فقال: ورثوا كل واحد منهما من صاحبه ولا تردوا على واحد منهما (مما) (٣) ورث من صاحبه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
قطن بن عبد اللہ ضبی فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے فرات کا سفر کیا جبکہ اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، چناچہ وہ دونوں غرق ہوگئے، اور یہ پتہ نہیں چلا کہ ان دونوں میں سے کون دوسرے سے پہلے مرا، ہم حضرت شریح کے پاس آئے اور ان کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا : ان دونوں کو ایک دوسرے کا وارث بنادو اور ان میں سے کسی پر دوسری کی طرف سے وہ مال نہ لوٹاؤ جس کا وہ وارث ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 33469
٣٣٤٦٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الزعراء عمرو بن عمرو (الجشمي) (١) عن عبد اللَّه بن عتبة وكان قاضيًا لابن الزبير أنه ورث الغرقى بعضهم من بعض.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن عمرو جُشمی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عتبہ نے جو حضرت ابن زبیر کے دور میں قاضی تھے ڈوبنے والوں کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔
حدیث نمبر: 33470
٣٣٤٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سماك عن رجل عن عمر أنه ورث قوما غرقوا بعضهم من بعض (١).
مولانا محمد اویس سرور
سماک ایک آدمی کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ان لوگوں کو جو ڈوب گئے تھے ایک دوسرے کا وارث بنایا تھا۔
حدیث نمبر: 33471
٣٣٤٧١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي حصين أن قوما غرقوا على جسر (منبج) (١) فورث عمر بعضهم من بعض، قال سفيان: (فقلت) (٢) لأبي حصين: من الشعبي سمعته؟ قال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ا بو حَصِین فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ ” منبج “ شہر کے پل پر سے ڈوب گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک دوسرے کا وارث بنادیا، سفیان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حصین سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات حضرت شعبی سے سُنی ہے ؟ فرمایا : جی ہاں !
حدیث نمبر: 33472
٣٣٤٧٢ - حدثنا وكيع (عن) (١) ابن أبي ليلى عن الشعبي عن (الحارث) (٢) عن علي أن أهل بيت غرقوا في سفينة، فورث علي بعضهم من بعض (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حارث روایت کرتے ہیں کہ ایک گھر والے ایک کشتی میں سفر کرتے ہوئے ڈوب گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک دوسرے کا وارث بنایا۔
حدیث نمبر: 33473
٣٣٤٧٣ - حدثنا وكيع قال (١): ثنا ابن أبي ليلى عن الشعبي عن عبيدة أن قومًا وقع عليهم بيت أو ماتوا في طاعون، فورث عمر بعضهم من بعض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عَبیدہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں پر ایک گھر گرگیا یا کچھ لوگ طاعون میں مرگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک دوسرے کا وارث بنایا۔
حدیث نمبر: 33474
٣٣٤٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن (الحريس) (١) البجلي عن أبيه أن رجلًا وابنه (أو) (٢) أخوين قتلا يوم (صفين) (٣) جميعًا، لا يدري أيهما قتل أولًا، ⦗٣٣٨⦘ قال: فورث علي كل واحد منهما صاحبه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حُریس بَجَلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ دو باپ بیٹے یا دو بھائی صفّین کے معرکے میں ایک ساتھ قتل ہوگئے جن کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ کون پہلے قتل ہوا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ایک دوسرے کا وارث بنایا۔
حدیث نمبر: 33475
٣٣٤٧٥ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن رجل عن قبيصة بن ذؤيب أن طاعونا وقع بالشام فكان أهل البيت يموتون جميعًا، فكتب عمر أن يورث الأعلى من الأسفل، وإذا لم يكونوا كذلك ورث هذا من ذا وهذا من ذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ شام میں طاعون واقع ہوگیا چناچہ ایک ایک گھر والے سب کے سب مر جایا کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا کہ اوپر والے کو نیچے والے کا وارث بنایا جائے، اور اگر ایسی صورت نہ ہو تو وہ ایک دوسرے کے وارث بنا دیئے جائیں، سعید فرماتے ہیں کہ اوپر والے کو نیچے والے کا وارث بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے مرنے والا اس طرح مرتا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ دوسرے کے پہلو پر رکھے ہوتا۔
حدیث نمبر: 33476
٣٣٤٧٦ - قال سعيد: الأعلى من الأسفل كان الميت منهم يموت وقد (وضع) (١) يده على آخر إلى جنبه.
حدیث نمبر: 33477
٣٣٤٧٧ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن علي مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہی مفہوم منقول ہے۔
حدیث نمبر: 33478
٣٣٤٧٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور، قال إبراهيم في القوم يموتون لا يدرى أيهم مات قبل، قال: يورث بعضهم من بعض.
مولانا محمد اویس سرور
منصور روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم ان لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں جو اس طرح مرجائیں کہ ان کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرا، کہ ان کو ایک دوسرے کا وارث بنادیا جائے، حضرت منصور فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کو ایک دوسرے کا وارث بناتے ہوئے جس سے چاہو ابتداء کرلو۔
حدیث نمبر: 33479
٣٣٤٧٩ - قال منصور: لا يضرك بأيهم بدأت إذا ورثت بعضهم من بعض.