حدیث نمبر: 33386
٣٣٣٨٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن عبيدة قال: إني لأحيل (الجد على مائتي قضية) (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن سَلِمہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بیشک میں دادا کے مسئلے کو دو سو صورتوں میں تبدیل کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 33387
٣٣٣٨٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان (عن أيوب عن ابن سيرين) (١) عن عبيدة قال: حفظت عن عمر مائة قضية (٢) مختلفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابن سیرین عبیدہ سے یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دادا کے بارے میں ایک سو مختلف فیصلے یاد کیے ہیں۔
حدیث نمبر: 33388
٣٣٣٨٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن (عبيد) (١) بن عمرو (الخارفي) (٢) أن رجلًا سأل عليًا عن فريضة، فقال: هات إن لم يكن فيها جد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عُبید بن عمرو خارفی نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک میراث کا مسئلہ پوچھنا چاہا، آپ نے فرمایا پوچھو ! اگر اس میں دادا کا ذکر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 33389
٣٣٣٨٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أيوب عن سعيد بن جبير عن رجل من مراد قال: سمعت عليا يقول: من أحب أن يتقحم جراثيم جهنم فليقض بين الجد والإخوة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قبیلہ مراد کے ایک شخص کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جو آدمی یہ چاہے کہ جہنم کے جراثیم میں گھس جائے وہ دادا اور بھائیوں کے مسئلے میں فیصلہ کر دے۔
حدیث نمبر: 33390
٣٣٣٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق قال: أتينا شريحًا فسألناه فقال الذي على رأسه. إنه لا يقول في الجد شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ہم حضرت شریح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے مسئلہ پوچھا تو اس شخص نے جو آپ کے سرہانے کھڑا تھا کہا کہ حضرت دادا کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔
حدیث نمبر: 33391
٣٣٣٩١ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل عن الشعبي قال: (خذ) (١) في أمر الجد ما اجتمع عليه الناس -يعني قول زيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ دادا کے بارے میں وہ قول اختیار کرو جس پر علماء کا اتفاق ہے ، یعنی حضرت زید رضی اللہ عنہ کا قول۔
حدیث نمبر: 33392
٣٣٣٩٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد أن عمر كتب في أمر الجد والكلالة [في كتف ثم طفق يستخير ربه، فلما (طعن) (١) دعا بالكتف فمحاها، ثم قال: إني كنت كتبت كتابًا في الجد والكلالة] (٢)، وإني قد رأيت أن أردكم على ما كنتم عليه، (ولم) (٣) يدروا ما كان في الكتف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دادا اور کلالہ کے بارے میں ایک کندھے کی ہڈی پر کچھ لکھا، پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ فرمانے لگے، جب آپ زخمی ہوئے تو آپ نے وہ ہڈی منگوائی اور اس کو مٹا دیا ، پھر فرمایا : میں نے دادا اور کلالہ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی، اب میرا خیال ہوا ہے کہ میں تم لوگوں کو تمہاری حالت پر چھوڑ دوں، پس لوگوں کو کچھ پتہ نہ چل سکا کہ آپ نے کندھے کی ہڈی میں کیا لکھا تھا۔
حدیث نمبر: 33393
٣٣٣٩٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن سعيد قال: حدثني رجل من مراد عن علي قال: من أحب أن (يتقحم) (١) في جراثيم جهنم فليقض بين الإخوة والجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جو آدمی یہ چاہے کہ جہنم کے جراثیم میں گھس جائے وہ دادا اور بھائیوں کے مسئلے میں فیصلہ کر دے۔