کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دادا کے بارے میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا فرمان اور اس کی وضاحت
حدیث نمبر: 33384
٣٣٣٨٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان زيد يشرك الجد (إلى) (١) الثلث مع الإخوة والأخوات، فإذا بلغ الثلث أعطاه الثلث، وكان للإخوة والأخوات ما بقي. ولا (لأخ) (٢) لأم ولا (لأخت) (٣) لأم مع (جد) (٤) شيء. ويقاسم الإخوة من الأب الإخوة من الأب والأم ولا يورثهم شيئًا. فإذا كان أخ لأب وأم، وجد، (أعطى) (٥) الجد النصف. وإذا كانا أخوين (٦) أعطاه الثلث، فإن زادوا أعطاه الثلث، وكان للإخوة ما بقي. ⦗٣١٨⦘ وإذا كانت أخت وجد أعطاه مع الإخوة الثلثين، وللأخت الثلث. وإذا كانتا أختين أعطاهما النصف، وله النصف، ما دامت المقاسمة خيرا له. فإن لحقت فرائض امرأة (و) (٧) أم (و) (٨) زوج أعطى أهل الفرائض فرائضهم، وما بقي قاسم الإخوة والأخوات، فإن كان ثلث ما بقي خيرا له من المقاسمة أعطاه ثلث ما بقي، وإن كانت المقاسمة خيرا له (٩) أعطاه المقاسمة، وإن كان سدس جميع المال خيرا له من المقاسمة أعطاه السدس، وإن كانت المقاسمة خيرا له من (١٠) جميع المال أعطاه المقاسمة (١١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ایک تہائی تک مال کا وارث بناتے تھے، پس جب اس کا حصّہ ایک تہائی تک پہنچتا تو اس کو ایک تہائی عطا فرما دیا کرتے تھے، اور باقی مال بھائیوں اور بہنوں کا ہوتا تھا، اور آپ دادا کی موجودگی میں ماں شریک بھائی اور ماں شریک بہن کو کچھ نہیں دلاتے تھے، اور آپ باپ شریک بھائیوں کو حقیقی بھائیوں کے ساتھ تقسیم میں تو شریک فرماتے لیکن باپ شریک بھائیوں کو وراثت میں سے کچھ عطا نہیں فرماتے تھے، پس اگر حقیقی بہن اور دادا وارث ہوتے تو آپ آدھا مال دادا کو عطا فرماتے اور دو بھائی ہوتے تو آپ دادا کو ایک تہائی مال عطا فرماتے ، پس اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ایک تہائی مال دادا کو عطا فرماتے اور باقی مال بھائیوں کو دلاتے، اور جب ایک بہن اور دادا وارث ہوتے تو آپ دو تہائی مال دادا کو اور ایک تہائی مال بہن کو عطا فرماتے ، اور اگر بہنیں دو ہوتیں تو آدھا مال بہنوں کو اور آدھا مال دادا کو عطا فرماتے جبکہ اس طرح باہم تقسیم سے شرکت دادا کے حق میں بہتر ہوتی، پس اگر اس کے ساتھ دوسرے حصّہ داروں یعنی بیوی، ماں اور شوہر کے حصّے آجاتے تو پہلے ان حصّہ داروں کو ان کے حصّے دلواتے اور بقیہ مال بھائیوں اور بہنوں کے درمیان تقسیم فرما دیتے، اس طرح اگر دادا کے لئے بقیہ مال کا ایک تہائی بہتر ہو تو اس کو بقیہ مال کا ایک تہائی عطا فرماتے ، اور اگر تقسیم میں باہمی شرکت اس کے لئے بہتر ہوتی تو ایسا ہی کرتے، اور اگر پورے مال کا چھٹا حصّہ اس کے لئے تقسیم میں شرکت سے بہتر ہوتا تو وہی اس کو عطا فرماتے ، اور اگر چھٹے سے زیادہ بہتر دادا کے لئے تقسیم میں شرکت ہوتی تو اس کو تقسیم میں شریک فرمایا کرتے تھے۔