کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان مسائل کا بیان جن میں دادا ، بھائی اور بہنیں موجود ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 33383
٣٣٣٨٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن سالم عن الشعبي: في أخت (لأب وأم) (١) وأخ وأخت لأب وجد: في قول علي للأخت من الأب والأم النصف، وما بقي فبين الجد والأخت والأخ من الأب على: الأخماس: للجد خمسان، وللأخت خمس. ⦗٣١٣⦘ وفي قول عبد اللَّه: للأخت من الأب والأم النصف، وللجد ما بقي، وليس للأخ والأخت من الأب شيء. وفي قول زيد: من ثمانية عشر سهمًا: للجد الثلث ستة، وللأخ من الأب ستة، (وللأخت من الأب ثلاثة) (٢)، وللأخت من الأب والأم ثلاثة (٣) ثم (ترد) (٤) (الأخت والأخ) (٥) من الأب على الأخت من الأب والأم ستة أسهم، فاستكملت النصف تسعة، وبقي (لهما) (٦) ثلاثة أسهم: للأخ سهمان وللأخت سهم. و (٧) (في أختين) (٨) لأب (وأم) (٩) وأخ لأب وجد: في قول علي: للأختين من الأب والأم الثلثان، وما بقي فبين الجد والأخ. وفي قول عبد اللَّه: للأختين من الأب والأم الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للأخ من الأب شيء. وفي قول زيد: هي ثلاثة أسهم: للجد سهم، وللأخ سهم وللأختين سهم، ثم يرد الأخ من الأب (على الأختين من) (١٠) الأب والأم (سهامهما) (١١) (فتستكملان) (١٢) الثلثين، ولم يبق له شيء. ⦗٣١٤⦘ وفي أختين لأب وأم، وأخت لأب، وجد: في قول علي وعبد اللَّه للأختين (١٣) (للأب والأم) (١٤) الثلثان، وما بقي للجد وليس للأخت من الأب شيء. وفي قول زيد: من خمسة أسهم: للجد سهمان، وللأختين من الأب والأم سهمان، وللأخت من الأب سهم، ثم ترد الأخت من الأب على الأختين من الأب والأم (سهمهما) (١٥)، ولم يبق لها شيء. وفي أختين لأب وأم (وأخ) (١٦) وأخت لأب وجد: في قول علي: (للأختين) (١٧) من الأب والأم الثلثان، وللجد السدس، وما بقي فبين الأخت والأخ من الأب للذكر مثل حظ الأنثيين. وفي قول عبد اللَّه: للأختين من الأب والأم الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للأخ والأخت من الأب شيء. وفي قول زيد: من خمسة عشر سهمًا: للجد الثلث خمسة (أسهم) (١٨)، وللأخ من الأب أربعة، وللأخت من الأب سهمان، وللأختين من الأب والأم أربعة (أسهم) (١٩)، ثم يرد الأخ والأخت من الأب على الأختين من الأب نصيبهما، ⦗٣١٥⦘ (تستكملان) (٢٠) (الثلثين) (٢١) ولم يبق لهما شيء. وفي أختين لأب وأم وأختين لأب وجد: في قول علي وعبد اللَّه: للأختين من الأب والأم الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للأختين من الأب شيء. وفي قول زيد: من ستة أسهم: للجد سهمان، وللأختين من الأب والأم سهمان ((وللأختين) (٢٢) من الأب سهمان، ثم ترد الأختان من الأب على الأختين من الأب والأم) (٢٣) (سهميهما) (٢٤) (فتستكملان) (٢٥) الثلثين، ولم يبق لهما شيء. وفي أخت لأب وأم، وثلاث أخوات لأب، وجد: في قول (علي) (٢٦) وعبد اللَّه: للأخت من الأب والأم النصف، (وللأخوات) (٢٧) من (الأب) (٢٨) السدس (تكملة) (٢٩) الثلثين، وللجد ما بقي. ⦗٣١٦⦘ (و) (٣٠) في قول زيد: (من) (٣١) ثمانية عشر سهما: (للجد الثلث ستة، وللأخت من الأب والأم ثلاثة أسهم، وللأخوات) (٣٢) من الأب تسعة أسهم: ثم (ترد) (٣٣) الأخوات من الأب على الأخت من (الأب والأم ستة) (٣٤) أسهم، فاستكملت النصف تسعة، و (ما) (٣٥) بقي لهن سهم سهم. وفي أختين لأب وأم، وأخ وأختين لأب، وجد: في قول علي: للأختين من الأب والأم الثلثان، وللجد السدس، وما بقي فبين الأخ والأختين من الأب للذكر مثل حظ الأنثيين. وفي قول عبد اللَّه: للأختين من الأب والأم الثلثان، وللجد ما بقي، وليس للأخ والأختين من الأب شيء. وفي أم، وأخت، وجد: في قول علي: للأخت النصف، وللأم (ثلث ما بقي) (٣٦) وللجد ما بقي. وفي قول زيد: من تسعة أسهم: للأم الثلث ثلاثة، وللجد أربعة، وللأخت سهمان، جعله معهما بمنزلة الأخ. وفي قول عثمان: للأم الثلث، وللجد الثلث، وللأخت الثلث. ⦗٣١٧⦘ وفي قول ابن عباس: للأم الثلث، وللجد (٣٧) ما بقي، (و) (٣٨) ليس للأخت شيء لم يكن يورث أخا وأختا مع جد شيئًا (٣٩) (٤٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ : (١) حقیقی بہن، باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حقیقی بہن کے لئے آدھا مال ہے اور بقیہ مال دادا اور باپ شریک بھائی اور بہن کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مال کے پانچ حصّے کیے جائیں گے، ان میں سے دو حصّے دادا کو اور ایک حصّہ بہن کو دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق حقیقی بہن کے لئے آدھا مال اور دادا کے لئے بقیہ مال ہے، اور باپ شریک بھائی اور بہن کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق یہ مسئلہ اٹھارہ حصّوں سے نکالا جائے گا، دادا کو چھ حصّے یعنی ایک تہائی مال ، باپ شریک بھائی کو چھ حصّے ، باپ شریک بہن کو تین حصّے اور حقیقی بہن کو تین حصّے دیے جائیں گے، پھر باپ شریک بھائی اور بہن چھ حصّے حقیقی بہن پر لوٹائیں گے، اس طرح حقیقی بہن کا حصّہ نو حصّے یعنی آدھا مال ہوجائے گا، اور باپ شریک بھائی بہن کے لئے تین حصّے بچیں گے، دو حصّے بھائی کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے ہوگا۔ (٢) اور دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بھائی اور دادا کے مسئلے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور بقیہ مال دادا اور بھائی کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور بقیہ مال دادا کے لئے ہے، اور باپ شریک بھائی کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق مال تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک حصّہ دادا کے لئے، ایک بھائی کے لئے اور ایک حصّہ دو بہنوں کے لئے، پھر باپ شریک بھائی دو حقیقی بہنوں پر اپنا حصّہ لوٹا دے گا، اس طرح بہنوں کا دو تہائی حصّہ پورا ہوجائے گا اور بھائی کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔ (٣) اور دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بہن اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور بقیہ مال دادا کے لئے ہے، اور باپ شریک بہن کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال پانچ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، دو حصّے دادا کے لئے، دو حصّے دونوں حقیقی بہنوں کے لئے اور ایک حصّہ باپ شریک بہن کے لئے، پھر باپ شریک بہن دونوں حقیقی بہنوں پر اپنا حصّہ لوٹا دیں گی اور اس کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔ (٤) اور دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال اور دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے، اور بقیہ مال دونوں باپ شریک بہن اور بھائی کے درمیان اس ضابطے پر تقسیم ہوگا کہ مرد کو عورت سے دوگنا دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور دادا کے لئے بقیہ مال ، اور باپ شریک بھائی اور بہن کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال کو پندرہ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، دادا کے لئے پانچ حصّے ایک تہائی مال، باپ شریک بھائی کے لئے چار حصّے ، باپ شریک بہن کے لئے دو حصّے اور دو حقیقی بہنوں کے لئے چار حصّے، پھر باپ شریک بھائی اور بہن دونوں حقیقی بہنوں پر اپنا حصّہ لوٹا دیں گے، اس طرح ان کا دو تہائی حصّہ ہوجائے گا اور باپ شریک بھائی بہن کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔ (٥) اور دو حقیقی بہنوں اور دو باپ شریک بہنوں اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور باقی مال دادا کے لئے ہے، اور باپ شریک بہنوں کے لئے کچھ نہیں، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال چھ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا دو حصّے دادا کے لئے، دو حصّے دو حقیقی بہنوں کے لئے اور دو حصّے دو باپ شریک بہنوں کے لئے، پھر باپ شریک بہنیں حقیقی بہنوں پر اپنے حصّے لوٹا دیں گی، اس طرح حقیقی بہنوں کا دو تہائی مال پورا ہوجائے گا اور باپ شریک بہنوں کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔ (٦) اور حقیقی بہن اور تین باپ شریک بہنوں اور دادا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حقیقی بہنوں کے لئے آدھا مال اور باپ شریک بہنوں کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے دو تہائی مال پورا کرنے کے لئے، اور بقیہ مال دادا کے لئے ہے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال اٹھارہ حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا : چھ حصّے دادا کے لئے، تین حصّے حقیقی بہن کے لئے اور نو حصّے باپ شریک بہنوں کے لئے ہیں، پھر باپ شریک بہنیں حقیقی بہن پر چھ حصّے لوٹا دیں گی، اس طرح حقیقی بہن کو حصّہ آدھا مال ہوجائے گا ، اور باپ بہنوں کے لئے ایک حصّہ بچے گا۔ (٧) اور دو حقیقی بہنوں اور ایک باپ شریک بھائی اور دو باپ شریک بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ دونوں حقیقی بہنوں کو دو تہائی مال اور دادا کو مال کا چھٹا حصّہ دیا جائے گا، اور باقی مال باپ شریک بھائی اور بہنو