کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس عورت کا بیان جس نے اپنے شوہر ، ماں ، باپ شریک بہن اور دادا کو چھوڑا
حدیث نمبر: 33369
٣٣٣٦٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال: قال إبراهيم: في امرأة تركت زوجها وأمها وأخاها لأبيها وجدها، للزوج النصف ثلاثة أسهم، وللأم الثلث سهمان، وللجد سهم في قول علي وزيد، وفي قول عبد اللَّه للزوج النصف، وللأم ثلث ما بقي سهم، وللجد سهم، وللأخ سهم، (فإن) (١) كانا (أخوين) (٢) أو أكثر من ذلك فللزوج النصف، وللأم سهم، وللجد سهم، وبقي سهم فهو لإخوته في قول علي وزيد وعبد اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے شوہر، ماں، باپ شریک بھائی اور دادا کو چھوڑ جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق شوہر کو آدھا مال یعنی تین حصّے، ماں کو ایک تہائی مال یعنی دو حصّے اور دادا کو ایک حصّہ دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان میں شوہر کے لئے آدھا مال ، ماں کے لئے بقیہ مال کا ایک تہائی ، دادا کے لئے ایک حصّہ اور ایک حصّہ بھائی کے لئے ہے، اور اگر بھائی دو یا دو سے زیادہ ہوں تو شوہر کے لئے آدھا مال اور ماں اور دادا کے لئے ایک ایک حصّہ ہے، اور ایک حصّہ جو باقی بچے گا بھائیوں میں تقسیم کردیا جائے گا، یہ حضرت علی، زید اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ م کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 33370
٣٣٣٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق قال: أتينا شريحًا فسألناه عن زوج وأم وأخ وجد فقال: للبعل الشطر، وللأم الثلث، ثم سكت ثم قال الذي على رأسه: إنه لا يقول في الجد شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ہم حضرت شریح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے شوہر، ماں، بھائی اور دادا کے مسئلے کے بارے میں دریافت کیا ، آپ نے فرمایا شوہر کے لئے نصف مال ہے اور ماں کے لئے ایک تہائی مال، پھر آپ خاموش ہوگئے تو اس شخص نے جو آپ کے سرہانے کھڑا تھا کہا کہ حضرت دادا کے لئے کسی چیز کے قائل نہیں ہیں، فرماتے ہیں کہ پھر ہم حضرت عَبِیدہ کے پاس آئے تو انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق مال کو چھ حصّوں میں تقسیم فرمایا، تین حصّے شوہر کو دیے اور ایک ایک حصّہ ماں، دادا اور بھائی کو دیا۔ اس طرح یہ مسئلہ تمام حضرات کی رائے کے مطابق چھ حصّوں سے ہی نکلے گا۔
حدیث نمبر: 33371
٣٣٣٧١ - قال: فأتينا عبيدة فقسمها من ستة في قول عبد اللَّه، فأعطى الزوج ثلاثة، والأم سهمًا، والجد سهما، والأخ سهمًا (١).
حدیث نمبر: 33372
٣٣٣٧٢ - (قال أبو بكر) (١): فهذه في قولهم جميعا من ستة أسهم.